کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

فتویٰ جہاد پر حرم امام حسین علیہ السلام کی میڈیا کانفرنس

2022-12-13 12:44

حرم امام حسین علیہ السلام کے خاتم الانبیاء آڈیٹوریم میں فتوی مبارک جہاد کی پانچویں سالگرہ کی مناسبت سے میڈیا کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔
یہ کانفرنس ان شہداء کی یاد میں منعقد کی گئی جنہوں نے اپنی جانیں وطن اور مقامات مقدسہ کے دفاع کے لیے قربان کیں۔ اس کانفرنس میں انکو خراج عقیدت  پیش کیا گیا۔ جس کا عنوان تھا (میڈیا کا منھ جب بندوقوں کے منھ کو گلے لگاتا ہے تو نسلیں یاد رکھتی ہیں)
اس کانفرنس میں حرم امام حسین علیہ السلام کے سیکرٹری جنرل کے علاوہ مختلف  شخصیات نے شرکت کی۔
حرم حسین علیہ السلام کے سیکرٹری جنرل جناب حسن رشيد عبائجی نے کہا وطن عزیز اور مقامات مقدسہ کے دفاع میں دی جانے والی قربانیوں کو محفوظ کر کے اس تاریخ کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا  ہمارا اولین فریضہ ہے۔ 
عبائجی نے مزید کہا، کہ ان  تاریخی واقعات کو تفصیلات کے ساتھ  فلم بند کرنے اور کتابی شکل میں محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان  شہدا ء اور غازیوں  کو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ زندہ رکھنا ہوگا جنہوں نے مرجع دینی اعلی دام ظلہ الوارف کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی جان و مال کی پرواہ کئے بغیر میدان جہاد میں  اپنے خون کی قربانی پیش کر کے  وطن عزیز کو مٹھی بھر دہشت گردوں سے آزاد کرایا۔ 
حرم حسینی کے دستاویزی فلمساز شعبہ کے ڈائریکٹر حازم فاضل نے انٹرنیشنل میڈیا سنٹر کو بتایا کہ ہم اس کانفرنس  اور دیگر علمی طریقوں  کے ذریعے کوشش کر رہے ہیں کہ جہاد کے مبارک فتوی کو اوراس کی وجہ سے دی جانے والی قربانیوں کو ہمیشہ کے لئے یاد رکھا جائے تاکہ نئی نسل تک  حقائق منتقل ہو سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرجع دینی اعلی دام ظلہ الوارف کے فتوی  کے انسانی پہلو پر اب تک 15 مقالے تحقیقی کمیٹی نے قبول کیے ہیں۔
    اس  موضوع پر ایران، شام اور لبنان کے محققین نے اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ایک عالمی اورانسانی مسئلہ تھا  جس کو ایک فتوی نے حل کیا اوراس فتوی سے پوری دنیا حیران ہو گئی۔

منسلکات

العودة إلى الأعلى