پاکستان: سابق امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق صاحب کا امام حسین ثقافتی سنٹر کا دورہ نجف اشرف: حوزۂ علمیہ کے زیرِ اہتمام مواکبِ حسینی کا تیرہواں سالانہ اربعین کانفرنس، حرمِ امام علیؑ میں منعقد بصرہ سے المثنیٰ تک 838 حسینی مواکب زائرینِ اربعین کی خدمت کے لیے تیار مرکز امام حسینؑ استنبول کی اربعین حسینی کی کوریج کے حوالے سے ترک میڈیا نمائندگان کے ساتھ اہم ملاقات بصرہ: مجمع الثقلین میں مستحق اور یتیم خاندانوں کے لیے مزید 250 رہائشی مکانات کی تعمیر کا آغاز عراق اور ایران کے درمیان منذریہ بارڈر سے ہر گھنٹے 2 ہزار زائرین کی آمد پر اتفاق حرمِ امام حسینؑ نے الثقلین کینسر اسپتال بصرہ میں مریضوں کے مفت علاج پر اب تک 65 ارب عراقی دینار خرچ کیے اسلام آباد: او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین اختتام پذیر، پاکستان نے دو سالہ سربراہی سنبھال لی عتبۂ عسکریہ کے میوزیم میں نایاب نوادرات، قدیم مخطوطات اور 2006ء کے دہشت گردانہ حملے کے شواہد بھی محفوظ ہیں تاریخ میں پہلی بار ترکی کے جنوبی شہر ہاتائے میں حرمِ امام حسینؑ کے زیرِ اہتمام محرم کانفرنس کا انعقاد

ماہرین نے عراق کی نہروں کا معمہ حل کر دیا، دلچسپ انکشاف

2025-06-09 14:16

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے جنوبی عراق میں موجود رجز (طویل ابھار) اور نہروں کے وسیع نیٹورک کی اصل کا پتہ لگا لیا

تحقیق میں حاصل ہونے والے نئے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ لکیریں (جو عرصے سے بڑے پیمانے پر موجود زرعی نظام کی باقیات سمجھی جاتی تھیں) ممکنہ طور پر غلام مزدوروں کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہوں

بین الاقوامی ماہرین ایک ٹیم نے کچھ ایسے شواہد حاصل کیے ہیں جس سے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے۔ اب تعمیرات کی ڈیٹنگ کرانے کے بعد ٹیم کو معلوم ہوا ہے کہ ان تعمیرات کا دورانیہ متعدد صدیوں پر پھیلا ہوا ہے جو کہ نویں صدی عیسوی میں ہونے والی غلاموں کی بغاوت کے وقت میں شروع ہوئی۔

اس دور کے غلاموں کو آج ’زنج‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ قرونِ وسطی کی ایک اصطلاح ہے جو مشرقی افریقی سواہلی ساحل کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ اگرچہ اس متعلق مختلف نظریے ہیں کہ افریقا میں زیادہ تر زنج کہاں سے آئے تھے۔

غلاموں نے 869 عیسوی میں عباسیوں کے دور میں عراق میں بڑے پیمانے پر بغاوت کی جس کو آج ’زنج بغاوت‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ بغاوت ایک دہائی سے زیادہ عرصہ، اس وقت تک جاری رہی جب تک عباسیوں نے 883 عیسوی میں اس علاقے کا دوبارہ کنٹرول حاصل نہیں کر لیا۔

ان غلاموں کی نسلیں اب آج کے عراق میں جنوبی بندرگاہ کے شہر بصرہ میں رہتے ہیں

علاقے کی تاریخ اور سماجی ڈھانچے پر نئی روشنی ڈالنے والی یہ تحقیق جرنل اینٹیکٹی میں شائع ہوئی

مطلوبہ الفاظ : آثار قدیمہ نہر ابھار

العودة إلى الأعلى