کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

39ویں تہران انٹر نیشنل شارٹ فلم فیسٹیول کا انعقاد

2022-11-07 10:48

تہران انٹرنیشنل شارٹ فلم فیسٹیول کی آرگنائزنگ کمیٹی نے بتایا کہ دنیا  کے (32) ممالک سے (5000) سے زیادہ 
جبکہ  ایران سے (2000) سے زیادہ فلمیں،  فیسٹول میں پیش کی گئیں۔
ایران سینما آرگنائزیشن کے سربراہ محمد خزاعی نے حرم امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تعاون کی جہت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تنظیم کا تعلق سینما سے ہے  اور ہم حرم امام حسین علیہ السلام  کے ساتھ مل کر  کربلا ،اربعین حسینی اور اہل بیت علیہم السلام کے موضوعات پر مختصر فلمیں بنانے کے متمنی ہیں  تاکہ پیغام اہل بیت علیہم السلام ہر ایک تک پہنچایا جا سکے۔ 
دوسری جانب سینما کے فوٹوگرافر منصور جہانی کا کہنا تھا کہ اس سال کے فیسٹیول میں  مختلف عرب اور غیر عرب ممالک کی بہت سی مختصر فلموں کی شرکت  بہت ہی خوش آئند بات ہے۔
ان مختصر فلموں کو گزشتہ سال معروف رائٹروں نے لکھا تھا۔ اب یہ فلمیں مختلف فلمی فیسٹیول میں  سکرین پر آئی ہیں، جیسا کہ اس سے پہلے  کینز، برلن، وینس، روٹرڈیم اور دیگر بین الاقوامی فیسٹیول میں ان کو پیش کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس فیسٹیول میں پیش کی جانے  والی فلموں میں سے، ایک  عراق کی مختصر فلم تھی، جس کے ڈائریکٹر برطانیہ میں مقیم ہیں۔  یہ فلم امام حسین علیہ السلام کے چہلم کی زیارت پر دنیا بھر سے آنے والے رائرین پر بنائی گئی تھی۔ اس کو بہت زیادہ پذیرائی ملی اور لوگوں نے بہت زیادہ سراہا

عماد بعو

ابو علی

العودة إلى الأعلى