کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

امام حسین علیہ السلام مکہ سے کس راستے سے کربلاء آئے، اس کی تلاش پر کام جاری

2022-03-29 10:47

امام حسین علیہ السلام مکہ مکرمہ سے جس  راستہ سے کربلاء تشریف لائے اسکی نشاندہی کے لئے بنائی گئی ٹیم نے سروے شروع  کر دیا

حرم  امام حسین علیہ السلام کے زیر انتظام  چلنے والے ادارے کربلاء سنٹر فار اسٹڈیز اینڈ ریسرچ نے مکہ سے کربلاء تک امام حسین علیہ السلام کے راستے کا پتہ لگانے  کےلئے  پہلے حسینی اسکاؤٹ کیمپ کا انعقاد کیا۔

سنٹر کے ڈائریکٹر عبدالامیر القریشی نے کہا کہ ہماری ٹیم ان گھروں میں سے ہر ایک  گھر کا دورہ بھی کرے گی جہاں  امام حسین علیہ السلام  نے مکہ سے کربلاء کے سفر کے دوران قیام فرمایا تھا۔
انہوں نے مزید کہا، اس مقصد کے لئے ایک معلوماتی کیمپ کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں اسکاؤٹس اور رضا کاروں کی ٹیموں  کے ساتھ  تاریخ اور آثار قدیمہ کے شعبوں سے وابسطہ پروفیسرز ، ماہرین اور عراقی یونیورسٹیز کے طلباء کو مدعو کیا گیا تھا۔
  ان کو   پریزنٹیشن  کے ذریعے اس خطے میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ پیش آنے والے اہم ترین واقعات ،حقائق ، تاریخی وجغرافیائی اور تصویری معلومات سے آگاہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پروگرام کی سرگرمیوں میں ورکشاپس، کورسز، تربیتی اور مذہبی لیکچرز بھی شامل تھے جن میں کیمپ کے شرکاء نے شرکت کی۔
اس کیمپ میں انسانی ترقی کے شعبے میں نفسیاتی جنگ کے عنوان سے ایک لیکچر کا انعقاد کیا گیا اور دور حاضر میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کے ساتھ ساتھ جنگ کی خصوصیات اور لوگوں، حکومتوں، معیشت اور ثقافت پر اس کے اثرات پر بھی گفتگو ہوئی 

رپوٹنگ ابراهيم العويني

ترجمہ ابو علی

منسلکات

العودة إلى الأعلى