حرمِ امام حسینؑ کے شعبۂ صحت کی تاریخی پیش رفت، بوسٹن چلڈرنز ہسپتال کے تعاون سے حیاتیاتی، خلیاتی اور جینیاتی علاج کی ٹیکنالوجی عراق منتقل کرنے کے لیے سہ فریقی معاہدے پر دستخط ماہِ صفر المظفر: اہم تاریخی واقعات اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کی اہمیت پاکستان: سابق امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق صاحب کا امام حسین ثقافتی سنٹر کا دورہ نجف اشرف: حوزۂ علمیہ کے زیرِ اہتمام مواکبِ حسینی کا تیرہواں سالانہ اربعین کانفرنس، حرمِ امام علیؑ میں منعقد بصرہ سے المثنیٰ تک 838 حسینی مواکب زائرینِ اربعین کی خدمت کے لیے تیار مرکز امام حسینؑ استنبول کی اربعین حسینی کی کوریج کے حوالے سے ترک میڈیا نمائندگان کے ساتھ اہم ملاقات بصرہ: مجمع الثقلین میں مستحق اور یتیم خاندانوں کے لیے مزید 250 رہائشی مکانات کی تعمیر کا آغاز عراق اور ایران کے درمیان منذریہ بارڈر سے ہر گھنٹے 2 ہزار زائرین کی آمد پر اتفاق حرمِ امام حسینؑ نے الثقلین کینسر اسپتال بصرہ میں مریضوں کے مفت علاج پر اب تک 65 ارب عراقی دینار خرچ کیے اسلام آباد: او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین اختتام پذیر، پاکستان نے دو سالہ سربراہی سنبھال لی

حرمِ امام حسینؑ کے شعبۂ صحت کی تاریخی پیش رفت، بوسٹن چلڈرنز ہسپتال کے تعاون سے حیاتیاتی، خلیاتی اور جینیاتی علاج کی ٹیکنالوجی عراق منتقل کرنے کے لیے سہ فریقی معاہدے پر دستخط

2026-07-18 13:07

حرمِ امام حسینؑ کے شعبۂ صحت و طبی تعلیم نے طبی میدان میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کے معروف بوسٹن چلڈرنز ہسپتال اور NCHL میڈیکل گروپ کے تعاون سے حیاتیاتی، خلیاتی اور جینیاتی علاج کی جدید ٹیکنالوجی عراق منتقل کرنے کے لیے ایک سہ فریقی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کر دیے ہیں

شعبۂ صحت و طبی تعلیم کے سربراہ ڈاکٹر حیدر العابدی نے بتایا کہ یہ معاہدہ عراق میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے، جس کے تحت صرف ادویات درآمد یا پیک نہیں کی جائیں گی بلکہ ان کی مکمل تیاری کی جدید ٹیکنالوجی عراق منتقل کی جائے گی، جو ملکی طبی شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہوگی

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے جدید بائیولوجیکل ری ایکٹرز (Bioreactors) کے استعمال کا لائسنس حاصل کر لیا گیا ہے، جن کے ذریعے کینسر اور دیگر دائمی امراض کے علاج میں استعمال ہونے والی پیچیدہ حیاتیاتی ادویات عراق ہی میں تیار کی جائیں گی، جس سے مریضوں کو عالمی معیار کا علاج مقامی سطح پر میسر آئے گا

ڈاکٹر العابدی کے مطابق اس منصوبے میں خلیاتی اور جینیاتی علاج کی تیاری کے لیے خصوصی پروڈکشن لائن بھی قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسے کئی بچوں کے علاج کے لیے بیرونِ ملک لاکھوں بلکہ کروڑوں ڈالر درکار ہوتے تھے، جس کے لیے عوامی امداد کی اپیلیں کی جاتی تھیں۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد عراق کے اندر ہی ایسے بچوں کو جدید اور مؤثر علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے گی

انہوں نے مزید بتایا کہ چونکہ یہ جدید علاج انتہائی حساس نوعیت کے ہیں اور ان کے استعمال کے لیے عالمی معیار کی طبی نگرانی ضروری ہوتی ہے، اس لیے NCHL میڈیکل گروپ اور اس سے وابستہ بوسٹن چلڈرنز ہسپتال کے ساتھ سہ فریقی معاہدہ کیا گیا ہے۔ بوسٹن چلڈرنز ہسپتال، جو بچوں کے علاج کے حوالے سے دنیا کے ممتاز ترین طبی مراکز میں شمار ہوتا ہے، اس منصوبے کی طبی اور کلینیکل نگرانی کرے گا

معاہدے کے تحت بوسٹن چلڈرنز ہسپتال عراقی ڈاکٹروں اور طبی عملے کو جدید حیاتیاتی، خلیاتی اور جینیاتی علاج کی تربیت فراہم کرے گا اور عالمی طبی پروٹوکول کے مطابق ان علاجی طریقوں کے نفاذ کی نگرانی بھی کرے گا

ڈاکٹر حیدر العابدی نے کہا کہ اگرچہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ابھی مزید محنت درکار ہے، تاہم جس طرح حرمِ امام حسینؑ نے بون میرو ٹرانسپلانٹ جیسے پیچیدہ علاج کو عراق میں کامیابی سے معمول کا طبی عمل بنا دیا، اسی طرح انہیں یقین ہے کہ مستقبل قریب میں حیاتیاتی، خلیاتی اور جینیاتی علاج بھی ہر عراقی مریض کی دسترس میں ہوگا

منسلکات

العودة إلى الأعلى