پاکستان: سکردو میں 33ویں بین المذاہب "حسینؑ سب کا" کانفرنس
پاکستان: سکردو میں بزمِ علم و فن کے زیرِ اہتمام 33ویں بین المذاہب "حسینؑ سب کا" کانفرنس منعقد ہوئی
سکردو میں ادبی تنظیم "بزمِ علم و فن" کے زیرِ اہتمام 33ویں بین المذاہب "حسینؑ سب کا" کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور ملک کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے مختلف مکاتبِ فکر، مسالک اور مذاہب کے جید علمائے کرام، مذہبی اسکالرز، دانشوروں، سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کے مقررین نے حضرت امام حسینؑ کی تعلیمات کو امن، انصاف، اتحادِ امت، بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور باہمی احترام کے فروغ کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان، بالخصوص بلتستان کی دیرینہ پرامن روایات، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔
کانفرنس سے علامہ اصغر درس، آغا سید باقر حسین الحسینی، مولانا محسن علی، عبداللہ گل، مولانا طارق حسین، شیخ زاہد حسین زاہدی، مفتی قاضی فہد چشتی، ہندو برادری کے رہنما لال بھگت کھوکھر، مسیحی نمائندے سجاد مسیح سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی کو حق، عدل، آزادی، امن اور انسانی وقار کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی تعلیمات اتحادِ امت، بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، رواداری اور باہمی احترام کے فروغ کا بہترین ذریعہ ہیں۔
مقررین نے اپنے خطابات میں اس امر پر زور دیا کہ عصرِ حاضر میں معاشرتی ہم آہنگی، قومی اتحاد، مذہبی رواداری، بین المسالک احترام اور بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور حضرت امام حسینؑ کی تعلیمات ان تمام اقدار کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیرتِ حسینی مختلف مذاہب، مسالک اور اقوام کے درمیان امن، انصاف اور باہمی احترام کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے۔
"حسینؑ سب کا" کانفرنس گزشتہ تین دہائیوں سے گلگت بلتستان میں امن، اخوت، باہمی احترام، مذہبی رواداری اور بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ کانفرنس مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، دانشوروں اور سماجی شخصیات کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرکے اتحاد و یگانگت کی فضا کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
کانفرنس میں ملک کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے مہمانوں کے علاوہ گلگت بلتستان کی مختلف مذہبی، سماجی اور فلاحی تنظیموں کے نمائندوں، علماء، عمائدینِ علاقہ، طلبہ اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔


