مرجعِ دینیِ اعلیٰ سید علی الحسینی سیستانی (دام ظلہ الوارف) کا پانی کو آلودہ کرنے کے حوالے سے اہم فتویٰ قم: حرمِ امام حسینؑ کے زیرِ اہتمام نویں سالانہ قرآنی تربیتی کورس کا آغاز بزدل سے مشورہ کیوں نہیں؟ حرمِ امام حسینؑ کا بابل میں عطاء الوارث اسکولز منصوبہ تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن 350 اسکاؤٹ اور 35 امدادی مراکز نے تیرہ محرم کو آنے والے ماتمی جلوسوں اور زائرین کو خدمات فراہم کیں تیرہ محرم الحرام: کربلا میں بنی اسد کی جانب سے شہدائے کربلا کے اجسادِ مطہر کی تدفین کی یاد میں پُرعقیدت مراسمِ عزا تیرہویں محرم: سفیر امام حسینؑ اسپتال کی جانب سے عزائے بنی اسد کے لیے فیلڈ اسپتال قائم حرمِ امام حسینؑ کے زیرِ اہتمام ترکی کے شہر ہاتائے میں چوتھی سالانہ محرم کانفرنس کا انعقاد کربلا: سفیر امام حسینؑ اسپتال نے زیارتِ عاشوراء کے دوران 18 ہزار سے زائد زائرین کو طبی خدمات فراہم کیں پاکستان کے مختلف شہروں میں یومِ عاشور کے جلوس پُرامن طور پر اختتام پذیر

مرجعِ دینیِ اعلیٰ سید علی الحسینی سیستانی (دام ظلہ الوارف) کا پانی کو آلودہ کرنے کے حوالے سے اہم فتویٰ

2026-07-02 08:45

مرجعِ دینیِ اعلیٰ آیت اللہ العظمیٰ سید علی الحسینی سیستانی (دام ظلہ الوارف) نے فتویٰ صادر فرمایا ہے کہ گندا یا سیوریج کا پانی، ٹھوس فضلات، طبی فضلہ اور کیمیائی مواد کو ندیوں اور دریاؤں میں ڈالنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ یہ عمل عوامی ضرر و نقصان اور ماحولیات کی تباہی کا سبب بنتا ہے

یہ فتویٰ دفترِ مرجعیت کی جانب سے مؤمنین کے ایک گروہ کی طرف سے پیش کیے گئے سوال کے جواب میں جاری کیا گیا

جوابِ استفتاء میں مرجعِ دینیِ اعلیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ایسے اعمال، جو شرعی احکام اور نافذ قوانین کی خلاف ورزی پر مشتمل ہوں، موجبِ گناہ ہیں

مزید برآں، بعض صورتوں میں ان اعمال کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی شرعی ذمہ داری اور ضمانت بھی متعلقہ شخص پر عائد ہوگی

جواب میں یہ بھی واضح فرمایا گیا کہ متعلقہ حکومتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ قوانین اور ہدایات کی خلاف ورزی شرعاً جائز نہیں۔ اسی طرح ذمہ دار اداروں پر لازم ہے کہ وہ ان فضلات کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے لیے مناسب، مؤثر اور متبادل ذرائع اور سہولیات فراہم کریں، تاکہ ماحولیات اور عوامی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے

مرجع دینی اعلی نے عوام سے اپیل فرمائی کہ وہ ایسے معاملات میں، جو معاشرے کے اجتماعی مفاد، عوامی صحت اور ماحولیات کے تحفظ سے متعلق ہیں، حکمت، احساسِ ذمہ داری اور شرعی و اخلاقی اصولوں کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں تاکہ وبائی امراض کا سبب نہ بنے

منسلکات

العودة إلى الأعلى