مدینہ منوّرہ کی اہم مساجد تاریخ کے آئینہ میں

2026-04-18 12:52

جب مکہ مکرمہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اپنے اہل وعیال، خویش و اقارب اور گھر بار چھوڑ کر مدینہ منورہ پہنچے تونبی کریم نے دنیائے کائنات میں محبت و مودت کی دعوت کو عام کیا، اور اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے مساجد کی بنیاد رکھی

مدینہ منوّرہ کی مساجد صرف اسلامی آثار ہی نہیں بلکہ ایک عظیم ورثہ ہیں، جنہوں نے دینی اور سماجی سطح پر اسلام کی بنیادوں، اصولوں اور تصورات کو مستحکم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان مساجد میں تاریخی و معنوی لحاظ سے چند نمایاں مساجد ہیں جہاں سے نور اسلام پھیلا اور جہالت کا چراغ گل ہو گیا

مسجد قباء

مسجد قُبا مسجد نبویؐ سے تقریبا 4 کیلو میٹر کے فاصلہ پر ہے،مسلمانوں کی یہ سب سے پہلی مسجد ہے۔حضور اکرم مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو قبیلہ بن عوف کے پاس قیام فرمایا اور آپ نے صحابۂ کرامؓ کے ساتھ خود اپنے دست مبارک سے اس مسجد کی بنیاد رکھی، اس مسجد کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

 لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْویٰ (التوبہ108)۔ وہ مسجد جس کی بنیاد اخلاص وتقوی پر رکھی گئی ہے

تحقیق کے دوران ہمیں الکافی اور تہذیب الاحکام جیسی کتب میں اس مسجد کی اہمیت کا ذکر ملا، جہاں اسے مدینہ آمد کے بعد عبادت اور اخلاص کا پہلا مرکز قرار دیا گیا، اور یہ اسلامی معاشرے کے قیام کی ابتدا کی علامت ہے

روایات میں اس مسجد کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے، جہاں نماز ادا کرنا عمرہ کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ ائمہ اہل بیتؑ سے بھی اس کی زیارت اور وہاں نماز پڑھنے کی تاکید ملتی ہے۔ امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے مسجد قباء میں نماز پڑھنا عمرہ کے برابر ہے

یہ مسجد اسلامی وحدت اور سادہ عبادت کی علامت بھی ہے۔ تاریخ میں اس کی کئی بار توسیع کی گئی، یہاں تک کہ آج یہ ایک وسیع و عریض مسجد کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس میں عبادت گاہوں کے ساتھ آرام کی جگہیں، سبزہ زار، خدماتی سہولیات اور گاڑیوں کی پارکنگ کے مقامات بھی شامل ہیں۔ ہر سال ہزاروں مسلمان یہاں آ کر رسول خدا ﷺ اور اہل بیتؑ کی سیرت کی پیروی کرتے ہوئے ثواب اور برکت حاصل کرتے ہیں

مسجد غمامہ

مسجد نبوی کے مرکزی دروازے سے تقریباً 150 میٹر بائیں جانب مسجد غمامہ واقع ہے۔ اس کا نام اس بادل (غمامہ) کی نسبت سے رکھا گیا ہے مسجد غمامہ کا نام غمامہ کیسے پڑا تو روایتوں میں آتا ہے کہ جس جگہ آج مسجد غمامہ قائم ہے وہاں 1400 سال قبل کُھلا میدان ہوا کرتا تھا

اس میدان میں دور نبوی میں نماز عید کے اجتماعات اور نماز جنازہ ادا کی جاتی تھی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے بھی یہاں عید کی نماز پڑھائی ہے جب کہ اسی جگہ نبی کریم ﷺ کی اقتدا میں نماز استسقا بھی ادا کی گئی

روایتوں میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ موسم بہت گرم تھا اور سخت دھوپ نکلی ہوئی تھی اور نبی ﷺ اس مقام پر رب تعالیٰ کے حضور بارش کے لیے دعا کر رہے تھے تو بادلوں نے ان کے اوپر سائے کر دیے تھے

یہ مسجد سادہ مگر خوبصورت طرزِ تعمیر کی حامل ہے، جو باقاعدہ ترتیب سے رکھے گئے پتھروں سے بنائی گئی تھی۔ بعد میں اس کی تاریخی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے مختلف ادوار میں اس کی مرمت کی گئی مسجد غمامہ کی بیرونی دیواریں سیاہ پتھروں کو تراش کر بنائی گئی ہیں اور اس کے گنبد اور اندرونی دیواروں کو سفید رنگ کیا گیا ہے

اس کے داخلی دروازے کے باہر خوبصورت بیرونی محرابیں فن تعمیر کا بہترین نمونہ پیش کرتی ہیں مسجد کے بیرونی دروازے کے اوپر ایک خوشنما پینل لگایا گیا ہے جس پر خوبصورت خطاطی میں الغمامہ مسجد کے الفاظ لکھے گئے ہیں

یہ مسجد اپنی روحانی اور تاریخی اہمیت کے باعث روزانہ ہزاروں زائرین کی توجہ کا مرکز رہتی ہے، جو یہاں آ کر ابتدائی اسلامی واقعات اور سیرتِ نبوی ﷺ کو یاد کرتے ہیں

مسجد امام علی علیہ السلام

مسجد امام علیؑ، مسجد غمامہ کے قریب تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں موجود تعارفی کتبے کے مطابق امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اس مسجد میں مسلمانوں کی امامت فرماتے تھے، جس کی وجہ سے اسے خاص تاریخی اور روحانی اہمیت حاصل ہے

یہ مسجد سادہ طرزِ تعمیر اور پرسکون ماحول کی حامل ہے، اور زائرین یہاں آ کر تبرک حاصل کرتے ہیں اور اسلامی تاریخ اور امیر المؤمنینؑ کی یاد تازہ کرتے ہیں

اس مسجد کی بھی کئی بار مرمت کی گئی ہے تاکہ اس کی تاریخی حیثیت برقرار رہے۔ یہ مسجد مدینہ کی دینی یادداشت کا اہم حصہ ہے اور اہل بیتؑ سے اس کے گہرے تعلق کو ظاہر کرتی ہے

تاہم ایک عجیب بات یہ دیکھنے میں آئی کہ مسجد کے مرکزی دروازے کے سامنے صحن میں ایک کمرے کے برابر سائز کی سروس بلڈنگ تعمیر کی گئی ہے، جو بظاہر مسجد کے داخلی راستے کو چھپاتی ہے اور اسے ساتھ والی سڑک سے کسی حد تک الگ تھلگ کر دیتی ہے

مسجد قبلتین

قبلتین کا معنی ہے دو قبلوں والی اس مسجد کو مسجد قبلتین اس لیے کہاں جاتا ہے کیونکہ اس میں ایک نماز دو قبلوں کی طرف منہ کر کے پڑھی گئی تھی

جب رسول اللہ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت اللہ کے حکم سے رسول ﷺ بیت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے لیکن آپ کی دلی خواہش تھی کہ قبلہ تبدیل ہو کر بیت اللہ بن جائے ۔ پھر ایک دن وحی نازل ہوئی  

ترجمہ : ہم آپ کو بار بار آسمان کی طرف منہ کرتے دیکھ رہے ہیں، سو اب ہم آپ کو اسی قبلے کی طرف پھیر دیتے ہیں جسے آپ پسند کرتے ہیں، اب آپ اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف کریں اور تم لوگ جہاں کہیں بھی ہو اس کی طرف رخ کرو اور اہل کتاب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق پر مبنی (فیصلہ)ہے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ اس سے غافل نہیں ہے

یہودی مسلمانوں پر یہ طنز کرتے تھے کہ تمہارا اپنا کوئی قبلہ نہیں تم ہمارے قبلے کی طرف رخ کرتے ہو، لہٰذا ہمارا مذہب ہی اصل مذہب ہے۔ رسالت مآب(ص) اس بات سے غمزدہ ہو گئے۔ آپ(ص) رات کے وقت بار بار آسمان کی طرف رخ کرتے کہ شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہودیوں کے اس طعنے کا کوئی جواب نازل ہو چنانچہ ایک دن نماز ظہر کے دوران جبرائیل(ع) نازل ہوئے اور رسول خدا (ص) کو بازوؤں سے پکڑ کر آپ (ص) کا رخ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف پھیر دیا ساتھ ہی مسلمانوں نے بھی اپنی صفوں کا رخ بدلا، عورتوں نے اپنی جگہ مردوں کو اور مردوں نے اپنی جگہ عورتوں کو دے دی  چونکہ بیت المقدس مدینے کے شمال میں اور کعبہ جنوب میں ہے، اس لیے امام اور مقتدیوں کو رخ بدلنے کے لیے صفیں نئے سرے سے مرتب کرنی پڑیں  رسول (ص)کا انتظار: نبی اکرم (ص) کو علم تھا اور اہل کتاب بھی جانتے تھے کہ رسول آخر الزمان(ص) دو قبلوں کی طرف نماز پڑھیں گے۔ یصلی الی القبلتین۔ نسل ابراہیمی(ع) کی طرف امامت کی منتقلی اور یہودیوں کے طعنوں کے پیش نظر ضروری تھا کہ قبلے کو تبدیل کر دیا جائے

 پسندیدہ قبلہ: کعبہ کو اللہ تعالیٰ نے حضور (ص) کا پسندیدہ قبلہ قرار دیا، چنانچہ فرمایا اب ہم آپ (ص) کو اسی قبلے کی طرف پھیر دیتے ہیں جسے آپ(ص) پسند کرتے ہیں  اس سے پہلے مکہ میں نازل ہونے والے سورہ ضحی میں وعدہ فرمایا تھا اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے

آپ نماز میں ہی کعبہ کی جانب گھوم گئے جس مسجد میں آپ نماز پڑھا رہے تھے اسے مسجد قبلتین کہا جانے لگا

بیت المقدس شمال کی جانب ہے جبکہ کعبہ جنوب میں ہے لہذا قبلہ تبدیل کرنے میں رسول کریم کو چل کر مقتدیوں کے پیچھے آنا پڑا ہوگا اور مقتدیوں کو صرف رخ ہی نہ بدلنا ہوگا بلکہ کچھ نہ کچھ انھیں بھی چل کر صفیں درست کرنا پڑی ہونگی

جو سمت اللہ نے مقرر کی ہے ہر مسلمان چاہے دنیا میں کہیں بھی ہو نماز کے لیے قبلہ کی جانب رخ کرتا ہے قبلہ کی جانب رخ ہونا قبولیتِ نماز کی لازم شرائط میں سے ہے

 

مسجد قبلتین کی موجودہ عمارت کی دو منزلیں ہیں مینار بھی دو ہیں اور گنبد بھی دو ہیں


منسلکات

العودة إلى الأعلى