عراق میں عتبات عالیات کی عوامی لائبریریاں زندہ جاوید علمی میراث کا احوال
مرجعِ اعلیٰ آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلّہ الشریف کی خصوصی توجہ اور سرپرستی نے عتباتِ مقدسہ کی عوامی لائبریریوں کی ازسرِنو تعمیر توسیع اور بحالی میں انتہائی نمایاں کردار ادا کیا ہے
پبلک لائبریری اُن ثقافتی صورتوں میں سے ایک ہے جو سرکردہ محققین اور قارئین کو اُن علما اور دانشوروں کے تجربات اور افکار سے جوڑتی ہے، جن کے درمیان بسا اوقات زمانے کا طویل فاصلہ حائل ہوتا ہے۔ یہ فاصلہ اُن کتابوں کے ذریعےچشم زدن میں طے ہو جاتا ہے جو کوئی لائبریری اپنی الماریوں میں محفوظ رکھتی ہے
آج یہ لائبریریاں ہزاروں قیمتی مصادراور علمی ذخائر سے مزین ہیں، جہاں مختلف علمی و تحقیقی شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبہ، محققین اور علماءِ دین استفادہ کررہے ہیں،اقوام کی تہذیبی و تمدنی نشوونما اُنہی ثقافتی اداروں سے جنم لیتی ہے جو علم، شعور اور فکری بالیدگی کی علامت ہوں ایسے اداروں کے پیدا کردہ آثار صدیوں تک اُن کی شعوری بیداری کی گواہی بن کر باقی رہتے ہیں ثقافت کی صورتیں اگرچہ متنوع ہوتی ہیں، تاہم وہ بالآخر ایک ہی سرچشمے سے سیراب ہوتی ہیں یعنی معاشرے کے علمی تجربات کو مضبوط بنیادوں پراستوار کرنا اوراس کی فکری جڑوں کو گہرائی عطا کرنا وہ جڑیں جو قوم کی شناخت، وقار اورعلمی برتری کی ضامن بنتی ہیں
مقدس شہروں میں، خصوصاً ہر صحنِ مبارک کے کسی نہ کسی گوشے میں، عوامی لائبریری اپنے لئے جگہ بناتی ہے۔ یہ ائمۂ اطہار علیہم السلام کی روحانی علم سے الہام پاتی ہے اور ہر مرقدِ مقدس کی معطر فضا سے خوشبو کشید کرتی ہے، چنانچہ یہ اپنے آنے والے قارئین و محققین پر انوارِ معرفت بکھیرتی ہے اور انہیں مرقدِ مقدس کے عطر سے مستعار روحانی فضا عطا کرتی ہے
اسی لیے ہر لائبریری کی قدر و منزلت کے احترام اور اشتیاق نے ہمیں اس بات پر آمادہ کیا کہ ہم ان کے مہمان بنیں، ان کی یادداشتوں کی تک پہنچیں، وہ یادداشتیں جن میں ماضی کی بے شمار باتیں محفوظ ہیں تاکہ وہ ہم سے ہم کلام ہوں اور ہم انہیں مجلہ (العتبات) کے لیے ایک خصوصی فائل میں دستاویزی صورت میں محفوظ کریں
مکتبہ حیدریہ عامہ
یہ عراق کی اہم اور قدیم علمی لائبریریوں میں سے ایک ہے جس نے بالخصوص عراقی اور نجفی معاشرے میں علمی قیادت کا کردار ادا کیا، علوی کتب خانہ یا غروی کتب خانہ ، جو کہ مکتبِ حیدری کے نام سے بھی جاناجاتا ہے۔ یہ لائبریری صحنِ علوی مقدس نجفِ اشرف میں واقع ہے؛ وہ شہر جو علم و علماء کا مرکز ہے اور یہ شہر دیگر تمام مقامات سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے، بلاشبہ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی محبت قبول کرنے والی یہ تیسری مقدس سرزمین ہے
حرم امام علی ؑ کی لائبریری یہ قدیم ترین لائبریریوں میں شمار ہوتی ہے اس کی بنیاد چوتھی صدی ہجری میں رکھی گئی بعض مؤرخین کے مطابق اس کے بانی مبانی عضد الدولہ بویہی تھے، جو خاندانِ بویہ کے عظیم حکمرانوں میں سے تھے جنہوں نے عراق و بلاد فارس میں حکمرانی کی ان کی حکومت 338ھ تا 372ھ تک قائم رہی، اور ان کی سلطنت عراق کے موجودہ تمام علاقوں اور بعض دیگر خطوں تک پھیلی ہوئی تھی
یہ لائبریری اپنی اندر بیش قیمت، نادر اور نفیس کتب کی وجہ سے دیگر لائبریریوں سے ممتاز رہے، جن میں سے اکثر کتب اپنے مؤلفین کے قلمی نسخے یا ان پر انکے ہاتھوں سے لکھی ہوئی تحریریں موجود تھیں یہ علمی کتب خانہ، اہل علم کی توجہ کا مرکز رہاہے، یہاں تک کہ مشہور مؤرخ اور سیاح ابن بطوطہ (727ھ) سمیت کئی نامور شخصیات نے اس کا دورہ بھی کیا
اسی طرح جناب شیخ علی حزین لاہیجی (متوفی 1180ھ) جب نجفِ اشرف تشریف لائے تو آپ نے اپنے تقریباً تین سالہ قیام کے دوران اس لائبریری کا مشاہدہ کیا اور پھر لائبریری کے بارے میں اپنی خیالات کا اظہارکرتے ہوئے فرمایا کہ: امام علیہ السلام کی اس لائبریری میں اولین و آخرین کے ہر فن کی اتنی کتب جمع ہیں کہ میں ان کی گنتی پر قادر نہیں
اسی طرح سید عبداللطیف شوشتری (متوفی 1220ھ) نے جب لائبریری کا دورہ کیا تو آپ نے اس لائبریری کا احوال کچھ یوں بیان کیا اس میں مختلف علوم کے ایسے نادر ذخائر موجود ہیں جو سلاطین کی لائبریریوں میں بھی دستیاب نہیں
اس لائبریری کی شہرت کے اہم اسباب میں سے ایک اس کا انتساب بابِ مدینۃ علمِ ، علمبردارِ اسلام، امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ کے روضۂ اقدس کے قرب و جوار میں واقع ہونا ہے اس کے علاوہ سلاطین، امراء اور وزراء کی خصوصی توجہ بھی اس کی ترقی کا سبب بنی، جو تقربِ الٰہی اور صاحبِ روضہ کے احترام میں اپنے قیمتی مخطوطات اور نادر کتب یہاںوقتا فوقتا وقف اور ہدیہ کرتے رہے
علماء اور مؤلفین نے بھی اپنی ذاتی لائبریریاں اور علمی ذخائر اس کے لیے وقف کیے چنانچہ صدر الدین الکفی الآوی نے جب آتش زدگی کے بعد اس لائبریری کی از سر نو بنیاد رکھی تو بغداد میں قحط اور گرانی کے دوران فروخت ہونے والی ذاتی لائبریریوں سے بڑی تعداد میں کتب خرید کر اس علمی خزانے کو دوبارہ آباد کیا
اس لائبریری کو اپنی کتب و تصانیف وقف کرنے والوں میں مشہور شخصیت ابن العتائقی الحلی (متوفی 760ھ) کی ہے جنہوں نے اپنی کتب اور لائیبریری کو امام علیہ السلام کی لائیبریری کے لئے وقف کیا اور اسی طرح جلال الدین بن شرف شاہ الحسینی بھی اپنی کتب اور تصانیف وقف کرنے والوں میں شامل ہیں۔چنانچہ آج بھی ابن العتائقی رحمہ اللہ کی لکھی یا نقل کردہ اکثر کتب ان ہی کے ہاتھ کی تحریر میں مخطوطات کے ذخیرے میں محفوظ ہیں
ابن بطوطہ نے 727ھ میں اپنے سفرنامے میں اس مدرسے کا ذکر کرتے ہوئے کچھ یوں لکھتاہے حضرت کے دروازے سے داخل ہو کر ایک عظیم مدرسہ آتا ہے جہاں شیعہ طلبہ اور صوفی رہتے ہیں، اور ہر آنے والے کو تین دن تک روٹی، گوشت اور کھجور کے ذریعے انکی مہمان نوازی کی جاتی ہے
بعض مؤرخین کے مطابق شروع میں اس لائبریری میں چار لاکھ کتابیں موجود تھیں، تاہم یہ مختلف ادوار میں لوٹ مار، تباہی اور آتش زدگی کا شکار ہویئں
بعد ازاں مرکزِ تحقیقاتِ عقائدیہ کی کاوشوں اور مرجعیتِ عالیہ نجفِ اشرف کی نگرانی و سرپرستی میں اسے از سر نو تعمیر کر کے 20 جمادی الآخر 1426ھ (مطابق 2005ء) یوم ولادت ِحضرت فاطمہ زہراءؑ علیھا السلام پر اس کا دوبارہ کے دن دوبارہ افتتاح کیا گیا
قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2017 میں لائبریری کے لیے تقریباً 8000 کتابیں خریدی گئیں، جبکہ 13000 کتابیں بطور ہدیہ موصول ہوئیں، یوں مجموعی تعداد 197,165 کتابوں تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ مختلف علوم و معارف کی 200 سی ڈیز کا اضافہ ہوا، جن کی مجموعی تعداد 5100 ہو گئی، اور 1100 جامعاتی تحقیقی رسائل کے اضافے سے فہرست شدہ رسائل کی تعداد 15000 تک پہنچ گئی
مزید برآں 5000 سے زائد ڈیجیٹل کتب شامل ہوئیں، جن سے ڈیجیٹل ذخیرہ 305,000 کتب تک پہنچ گیا، اور 11,500 ڈیجیٹل کتب کی موضوعاتی درجہ بندی کے بعد یہ تعداد 18,000 ہو گئی
حرم امام علی علیہ السلام کے شعبۂ مکتبہ حیدریہ کے انچارچ جناب علی لفتہ کریم نے اخبار الشیعہ نامی ویب سائٹ کو یہ تفصیلات بتائی جو 23 جنوری 2018ء کو نشر کی گئی تھی
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 2017ء کے دوران 20 علمی موسوعات شائع کی گئیں، 10,000 نئی کتب اور 750 مجلات شامل کیے گئے، اور 35,000 سے زائد تحقیقی مقالات کی فہرست سازی کی گئی اور مشہد مقدس کی تخصصی لائبریری کے ساتھ معاہدے کے تحت امیرالمؤمنین سے متعلق 350 نئی کتب بھی شامل کی گئیں
حرم امام حسین علیہ السلام کی لائبریری
روضۂ امام حسینؑ کی عمومی لائبریری عراق کی عظیم اور اہم لائبریریوں میں شمار ہوتی ہے اس کا قیام 1131ھ / 1718ء سے بھی پہلے کی ہے، جہاں نفیس خطی مصاحف ،نادر مخطوطات، قیمتی تحائف اورنفیس علمی ذخائر موجود تھے جو بادشاہوں، امراء اور معزز شخصیات کی جانب سے پیش کیے گئے تھے
افسوس کہ یہ کتب خانہ متعدد وحشیانہ حملوں ، لوٹ مار اور تباہیوں کا شکار ہوا، جن میں 1216ھ / 1802ء کی وہابی یلغار نمایاں ہے، جس میں بے شمار کتب، مخطوطات اور قیمتی ذخائر جلا دیے گئے اور لوٹ لیے گئے
1975 میں باقی ماندہ نادر مخطوطات اور مختلف انواع علوم و آداب کے نسخوں کو جمع کر کے تقریباً 15000 کتب کے ساتھ ایک مستقل عمارت میں حرم امام حسین کی لائبریری کے نام سے قائم کی گئی، جو پہلے باب زینبیہ کے قریب تھی، لیکن پھر یہ بابِ قبلہ کے داخل ھونے کی جگہ سے دائیں جانب منتقل کی گئی
1991 میں بعثی حکومت کے کارندوں نے ایک بار پھر اس لائبریری کو نقصان پہنچایا، نادر مخطوطات جلائے گئے، اورلائبریری کے ہالز کو زائرینِ امام حسینؑ کے قید خانوں اور اذیت خانوں میں بدل دیا گیا
بعثی نظام کے خاتمے کے بعد، حرم امام حسین علیہ السلام کے ادارے نے مرجعیت علیاء کی سرپرستی میں 1426ھ / 2005ء کے اوائل میں اس لائبریری کو جدید خطوط پر دوبارہ قائم کیا گیا اور اس لائبریری کے شایان شان مختلف علوم اسلامی و انسانی ،نیز ہزاروں علمی مصادر و مراجع اور اکیڈمک کتابیں محققین و دانشور وں اور طلاب کرام کو فراہم کی گئیں اوراسے جدید کمپیوٹرز، فوٹو کاپی مشینوں، جدید سافٹ ویئر اورتخصصی شعبہ جات سے آراستہ کیا گیا تاکہ محققین اورطالب علموں کو بہترین علمی و فکری خدمات و سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ جن کے ذریعے علم و آگاہی و ثقافتی شعور کو معاشرے میں راسخ کیا جاسکے
اس طرح آج یہ لائبریری عراق کی اہم و نمایاں تریں لائبریری ھے کہ جس میں 150,000 سے زائد مطبوعہ جلدیں جو مختلف علمی و انسانی علوم کی حامل مختلف زبانوں پر مشتمل ہے، یہ کتب عربی کے علاوہ انگریزی، فرانسیسی، اردو اور فارسی زبانوں میں ہیں
اس کے علاوہ اس لائبریری میں 95اکیڈمک مؤسسات کے 150,000سے زائد عراقی علمی مجلات میں شائع شدہ تحقیقی مقالات، ۳۵ ملین انگریزی ڈیجیٹل علمی و سائنسی ریسرچ فائلیں، ۱ملین سے زائد عربی ڈیجیٹل مصادر 140,000 ڈیجیٹل عربی و عراقی رسائل و مقالے 10,000 سے زائد افکار و حیات طیبہ امام حسین اور آپ کے اولاد و انصار پر ڈیجیٹل مواد موجود ھے
اس کتب خانے میں مطبوعہ، مخطوطہ اور ڈیجیٹل عناوین کی کثرت ہے، جو مختلف علمی موضوعات پر محیط ہیں، جن میں تفسیر، حدیث، فقہ اور اصولِ فقہ، طب، ہندسیات، ریاضیات، زراعت، لسانیات، ادب، تاریخ، جغرافیہ، قانون اور دیگر علوم شامل ہیں
اس کتب خانے کے لیے اس کے واضح مستقبل کا منصوبہ بھی موجود ہے، جس کے تحت اس کی انتظامیہ اس امر کےلئے پرعزم ہے کہ ایک ہمہ گیر ثقافتی نظام اور ایک باوقار تہذیبی شناخت قائم کی جائے جو معاشرے میں اصل اسلامی فکر کی حقیقی نمائندگی کرے۔ یہ ہدف محققین کی علمی ضروریات کو پورا کرنے، مطلوبہ معلوماتی مصادر فراہم کرنے اور ممتاز و معیاری خدمات پیش کرنے کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔ مزید برآں، یہ کتب خانہ علم و ثقافت اسلامی کے فروغ کے میدان میں امتیاز اور قیادت حاصل کرنے کا خواہاں ہے، اور اس بات کی کوشش ہے کہ ترقی یافتہ عالمی کتب خانوں کے ہم پلہ مقام تک پہنچے، جو عتبۂ حسینیہ مقدسہ کے دینی، روحانی اورعقیدتی مقام و مرتبے کے عین مطابق ہو
اس سلسلے میں اس کے دیگر متعدد اور ہمہ گیر اہداف بھی ہیں، جن کے حصول کے لیے یہ ادارہ مطالعہ اور تحقیق کے لیے موزوں و سازگار ماحول فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے، نیز معلوماتی ذرائع کے روایتی اور ڈیجیٹل دونوں پہلوؤں پر مشتمل جامع اور متوازن مجموعات و خدمات مہیا کرنے کا خواہاں ہے۔ اسی طرح یہ اپنے استفادہ کنندگان میں معلوماتی شعور کو فروغ دینے کے لیے معلومات کی ترویج و تشہیر سے متعلق پروگرامز اور فراہم کردہ خدمات کے تعارفی منصوبے مرتب کرتا ہے۔ اور کتب خانہ جات کے میدان میں کام کرنے والے عملے کی تربیت و اہلیت سازی پر بھی خصوصی توجہ دیتا ہے
مزید برآں، یہ ادارہ مقامی،علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر دیگر معلوماتی اداروں کے ساتھ رابطہ، تعاون اوراشتراکِ عمل کے تعلقات قائم کرنے اور انہیں وسعت دینے کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ ان تمام اہداف کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ملک میں ایک جامع اور پائیدارعلمی نہضت و تحریک کی بنیاد رکھی جا سکے
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کتب خانے کے ذخائر کو کھلی (اوپن) اور بند (کلوز) شیلفوں کے نظام کے مطابق منظم کیا گیا ہے۔ نیز یہ کتب خانہ اینگلو۔امریکی فہرست سازی کے قواعد (AACR) کو بروئے کار لاتا ہے، جو کتابیات کی بین الاقوامی معیاری توضیح (ISBD) اور ماخذات کی توضیح و دستیابی کے معیار کے مطابق ہیں، اور فہرستی اندراجات کے لیے مشینی طور پر قابلِ قرأت ریکارڈز (MARC 21) کے نظام کا استعمال کرتا ہے۔ مزید برآں، معلوماتی وسائل کی درجہ بندی کے لیے کتب خانۂ میں کانگریس کے درجہ بندی منصوبے (Library of Congress Classification) کو اختیار کیا گیا ہے



