مرجعِ دینیِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی سیستانی دام ظلّہ کا عالمی طاقتوں سے جنگ فوری طور پر رکوانے کا مطالبہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایران کی سرزمین پر جاری فوجی جارحیت کو کئی دن گزر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک بڑی تعداد میں شہری شہید ہو چکے ہیں۔ ان میں اپنے وطن کا دفاع کرنے والے متعدد بہادر افراد، درجنوں بچے اور دیگر بے گناہ شہری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری و نجی املاک کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ توقع کے مطابق جوابی فوجی کارروائیوں کا دائرہ بھی وسیع ہو کر دیگر ممالک تک پھیل گیا ہے، جہاں مختلف علاقوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ مناظر اس خطے کے لیے نہایت غیر معمولی اور تشویش ناک ہیں، جن کی مثال طویل عرصے سے دیکھنے میں نہیں آئی
اقوامِ متحدہ کے کسی رکن ملک کے خلاف سلامتی کونسل سے بالاتر ہو کر یکطرفہ کارروائی کرنا، تاکہ اس پر مخصوص شرائط مسلط کی جائیں یا اس کے سیاسی نظام کو گرا دیا جائے، نہ صرف بین الاقوامی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ایک نہایت خطرناک اقدام بھی ہے، جو علاقائی اور عالمی سطح پر انتہائی سنگین نتائج کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ صورتِ حال طویل المدت شدید بدامنی اور وسیع پیمانے کے بحران کا سبب بنے، جو خطے کے عوام اور دیگر ممالک کے مفادات کے لیے تباہ کن ثابت ہو۔
لہٰذا مرجعِ دینیِ اعلیٰ اس ظالمانہ جنگ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں اور دنیا کے آزاد انسانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس کی بھرپور مذمت کریں اور مظلوم ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں
ہم ایک بار پھر تمام بین الاقوامی طاقتوں، بالخصوص اسلامی ممالک، سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس جنگ کو فوری طور پر رکوانے اور ایرانی جوہری مسئلے کا بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق منصفانہ اور پُرامن حل تلاش کرنے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں بروئے کار لائیں
(14/شہرِ رمضان/1447ھ)
بمطابق (4/3/2026)
مکتبِ سید سیستانی دام ظلّہ نجف اشرف عراق



