عراق: وزارتِ داخلہ نے 47 ہزار سے زائد افراد کو ڈی پورٹ کر دیا
وزارتِ داخلہ نے اپنی ہفتہ وار پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ سال 2025 کے دوران قیام کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے 47 ہزار سے زائد غیر ملکیوں کو عراق سے ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے
وزارتِ داخلہ کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ برائے امورِ اقامہ کے شعبۂ اطلاعات کے ڈائریکٹر، کرنل علاء عبد الکریم نے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری کی جانے والی تمام اقامتی ویزے الیکٹرانک ہوتی ہیں اور ان میں بارکوڈ شامل ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص زمینی سرحد یا کسی ہوائی اڈے کے ذریعے عراق میں داخل ہوتا ہے تو بارکوڈ اسکین کیا جاتا ہے اور ویزے میں درج معلومات کو پاسپورٹ اور متعلقہ شخص کی تصویر کے ساتھ مطابقت دی جاتی ہے۔ اس کے بعد داخلے کا ویزا فعال کر دیا جاتا ہے اور پاسپورٹ پر اسٹیکر چسپاں کیا جاتا ہے
انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ بے دخلی اور صوبوں میں قائم دفاترِ اقامہ کی جانب سے مستقل ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں جو ملک میں مقیم غیر ملکیوں کی نگرانی کر رہی ہیں، تاکہ قیام کی مدت سے تجاوز کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے، انہیں عراقی حدود سے باہر بھیجا جائے، اور جب تک ان پر عائد داخلے کی پابندی ختم نہ ہو، انہیں دوبارہ عراق میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے
انہوں نے وضاحت کی کہ قانونِ اقامہ نمبر (67) برائے سال 2017 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے سال 2025 میں 43,986 خلاف ورزی کرنے والوں کو ملک بدر کیا گیا، جبکہ جنوری 2026 میں یہ تعداد 3,911 رہی۔ غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں



