معرکۂ جمل کے شہید حضرت زید بن صوحانؓ کا مرقدِ مبارک

2026-02-21 12:26

عراق کے صوبہ بصرہ کے علاقے سیبہ میں ایک شاندار مرقد واقع ہے، جس میں معرکۂ جمل کے ایک عظیم شہید، صحابیِ رسول حضرت زید بن صوحانؓ مدفون ہیں

حرمِ امام حسینؑ کے شعبۂ اطلاعات کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والے مجلہ العتبات کو دیے گئے انٹرویو میں مرقد کے خادم صادق یعقوب عبدالسید نے بتایا کہ یہ مرقد ابتدا میں ایک چھوٹے سے کمرے پر مشتمل تھا، جہاں زیارت کے لیے بصرہ کے لوگ آیا کرتے تھے، مگر اس وقت لوگ اس کی فضیلت اور صاحبِ مرقد کے مقام سے پوری طرح آگاہ نہیں تھے۔ بعد ازاں 1980ء کی دہائی میں جب عراق و ایران کی جنگ شروع ہوئی تو یہ مرقدِ مبارک میدانِ جنگ کے عین درمیان آ گیا۔ شدید بمباری کے باوجود اس مرقد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور فوجیوں نے اسے جائے پناہ کے طور پر استعمال کیا۔ اسی واقعے کے بعد لوگوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا

اسی علاقے میں جنگ میں شریک رہنے والے فوجیوں کا کہنا تھا:ہم اس مزار میں پناہ لیتے تھے، جو اس وقت صرف ایک کمرہ تھا، مگر اس کے باوجود بمباری سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا

عبدالسید مزید بتاتے ہیں کہ اس مزار میں مدفون صحابیِ رسولؓ کے نسب کی باقاعدہ تحقیق کی گئی، جس سے یہ ثابت ہوا کہ یہاں حضرت زید بن صوحانؓ مدفون ہیں۔ اس کے بعد بصرہ کی مقامی حکومت سے رابطہ کیا گیا، مطالعات تیار ہوئے، معائنہ کمیٹیاں آئیں، تعمیراتی نقشے بنائے گئے اور تمام قانونی منظوریوں کے بعد 2013ء میں تعمیر کا باقاعدہ آغاز ہوا

مرقد کی تعمیر چھ دونم کے رقبے پر کی گئی، جس میں 87 ایوان شامل ہیں۔ مرقد کے چار مرکزی دروازے ہیں: بابِ قبلہ، بابِ امام علیؑ، بابِ امام رضاؑ اور بابِ امام حجتؑ

اسی طرح دو مینار 24 میٹر بلند تعمیر کیے گئے ہیں، جبکہ مرکزی گنبد کی اونچائی 14 میٹر ہے۔ اس کے علاوہ تقریبات کے لیے دو ہال، انتظامی عمارتیں اور خدماتی مراکز بھی تعمیر کیے گئے ہیں

عبدالسید کے مطابق جمعہ کے دنوں، تعطیلات، ماہِ رمضان اور دیگر دینی مناسبات میں زائرین کی بڑی تعداد آتی ہے، تاہم محرم اور صفر میں زائرین کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے، جب یہاں مجالسِ حسینی منعقد کی جاتی ہیں اور متعدد عزاداری کے مواکب بھی سرگرم رہتے ہیں

مرقد کی اہم ضروریات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ مرقد تک جانے والی کچی سڑک، جو مرکزی شاہراہ سے قضاء فاو تک تقریباً 1700 میٹر طویل ہے، اسے پختہ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ زائرین، خصوصاً بزرگ افراد، آسانی سے آمد و رفت کر سکیں۔ اسی طرح پینے، وضو اور غسل کے لیے صاف پانی کی سہولت بھی موجود نہیں۔ اگرچہ انتظامیہ نے ایک پانی کا ٹینکر مہیا کر رکھا ہے، مگر خاص طور پر گرمیوں میں یہ ضرورت پوری نہیں کر پاتا۔

صحابیِ رسول حضرت زید بن صوحان بن حجر بن الحارثؓ نے رسولِ اکرم ص کے زمانے میں اسلام قبول کیا۔ امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ جب معرکۂ جمل کے دن زید بن صوحانؓ زمین پر گر پڑے تو امیر المؤمنین حضرت علیؑ ان کے سرہانے آئے اور فرمایا:اللہ تم پر رحم کرے اے زید! تم کم خرچ اورعظیم مددگار تھے یہ سن کر زیدؓ نے سر اٹھایا اورعرض کیا:آپ کو بھی اللہ جزائے خیر دے اے امیر المؤمنین! خدا کی قسم، میں نے آپ کو ہمیشہ سب سے بڑا عالم، لوحِ محفوظ میں سب سے زیادہ دانا، اور اپنے سینے میں عظمتِ الٰہی کا حامل پایا ہے۔

حضرت زید بن صوحانؓ نے امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے ساتھ مل کر جنگ کرتے ہوئے 19 جمادی الاوّل 36 ہجری کو بصرہ میں ہونے والے معرکۂ جمل میں جامِ شہادت نوش کیا

منسلکات

العودة إلى الأعلى