2026 میں کن ممالک میں روزہ سب سے طویل ہوگا؟
دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد مسلمان ہر سال رمضان المبارک کی آمد کے منتظر رہتے ہیں
ایک حالیہ جائزے کے مطابق 2026 میں روزے کے اوقات گزشتہ برس کے مقابلے میں مجموعی طور پر کچھ کم ہوں گے، جس سے روزہ داروں کو نسبتاً سہولت میسر آئے گی۔ تاہم دنیا کے مختلف خطّوں میں روزے کے دورانیے میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے
دنیا کے مختلف ممالک میں روزے کی مدت جغرافیائی محلِ وقوع اور عرضِ بلد کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ مسلمان فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے سے رُکے رہتے ہیں، اور چونکہ سورج کے طلوع و غروب کے اوقات ہر خطے میں مختلف ہوتے ہیں، اس لیے روزے کا دورانیہ بھی بدلتا رہتا ہے
مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک، خطِ استوا کے نسبتاً قریب ہونے کی وجہ سے، معتدل روزوں کے حامل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس شمالی خطّوں کی طرف بڑھنے سے دن طویل ہو جاتے ہیں، جس کے باعث روزے کا دورانیہ بھی بڑھ جاتا ہے، جبکہ جنوبی نصف کرے میں دن نسبتاً چھوٹے ہونے کے سبب روزے کے اوقات کم ہو جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات میں رمضان کے پہلے دن روزے کا دورانیہ اندازاً 12 گھنٹے 46 منٹ ہوگا، جو گزشتہ برس کے پہلے دن (13 گھنٹے 16 منٹ) کے مقابلے میں تقریباً آدھا گھنٹہ کم ہے۔ تاہم جیسے جیسے رمضان آگے بڑھتا ہے، روزے کا دورانیہ بتدریج بڑھتا چلا جاتا ہے
طویل ترین روزے
شمالی خطّوں میں واقع ممالک، جیسے روس، گرین لینڈ اور آئس لینڈ، زیادہ عرضِ بلد کی وجہ سے دنیا کے طویل ترین روزوں میں شمار ہوتے ہیں
اسی طرح ناروے، سویڈن اور فن لینڈ میں روزے کا دورانیہ عموماً 16 گھنٹے سے زائد ہوتا ہے، جبکہ بعض انتہائی شمالی علاقوں میں، جن میں کینیڈا کے کچھ حصے بھی شامل ہیں، شدید طویل دن کے باعث روزہ تقریباً 20 گھنٹوں تک پہنچ سکتا ہے
فقہی استثنائی صورتیں
شریعتِ اسلامی کے علما نے ایسے علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے، جہاں دن غیر معمولی طور پر طویل ہوتے ہیں، دو فقہی حل بیان کیے ہیں: یا تو مکہ مکرمہ کے معتدل اوقاتِ صیام کی پیروی کی جائے، یا پھر جغرافیائی طور پر قریب ترین معتدل شہر کے روزے کے اوقات کو اختیار کیا جائے
کم ترین روزے
اس کے برعکس خطِ استوا کے قریب یا جنوبی نصف کرے میں واقع ممالک میں روزے کے اوقات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر برازیل، ارجنٹینا، یوراگوئے، جنوبی افریقہ، چلی اور نیوزی لینڈ میں عام طور پر روزے کا دورانیہ 11 سے 13 گھنٹوں کے درمیان رہتا ہے
اسی طرح استوائی ممالک جیسے انڈونیشیا، ملائیشیا اور کینیا میں روزے کے اوقات نسبتاً معتدل ہوتے ہیں، جو عموماً 12 سے 14 گھنٹوں کے درمیان رہتے ہیں
شمال میں طویل ترین دن اور جنوب میں مختصر ترین دن کے اس فرق کے باوجود، رمضان المبارک ایک ایسا بابرکت اور روحانی مہینہ ہے جو جغرافیائی اختلاف اور روزے کے اوقات میں تفاوت کے باوجود دنیا بھر کے مسلمانوں کو وحدت اور اخوت کے رشتے میں جوڑ دیتا ہے



