مسجد السبزواری : مرجعیتِ دینی کی خوشبو سے معطر نجفی ورثہ

2025-12-27 10:51

مسجد السبزواری عراق کے صوبۂ نجفِ اشرف کی معروف اور شاندار مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد اور تعمیر مرجعِ دینی سید عبدالأعلیٰ السبزواریؒ نے رکھی

بعد ازاں نوّے کی دہائی (1992 ''1993) میں اُس وقت کے سخت سیاسی اور سیکیورٹی حالات کے باوجود اس مسجد کی ازسرِنو تعمیر کی گئی

عراقی خطاط جاسم النجفی نے عربی خطاطی کے ذریعے اس مسجد کی تزئین و آرائش میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ازسرِنو تعمیر کے بعد اس مسجد کا افتتاح عیدِ غدیرِ اَغر کے بابرکت موقع پر ہوا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مرجعِ دینی سید عبدالأعلیٰ السبزواریؒ مدفون ہیں

یہ مسجد نجف کے قدیم محلہ الحویش میں واقع ہے۔ یہاں باقاعدگی سے باجماعت نمازیں ادا کی جاتی ہیں، جن کی امامت ان کے فرزند سید علی السبزواری کرتے ہیں، جو حوزۂ علمیہ نجف میں درسِ خارج کے استاد ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں مجالسِ عزاء، حسینی شعائر اور صبح کے اوقات میں حوزوی دروس بھی منعقد ہوتے ہیں

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سید عبدالأعلیٰ السبزواریؒ (1328ھ–1414ھ) پندرہویں صدی ہجری کے ممتاز شیعہ مرجعِ تقلید اور مفسر تھے۔ سید ابوالقاسم خوئیؒ کی وفات (1413ھ) کے بعد مرجعیت اور حوزۂ علمیہ نجف کی سربراہی ان تک پہنچی، تاہم ان کی مرجعیت کا دورانیہ مختصر رہا۔

آپ زہد و تقویٰ اور سیر و سلوکِ الی اللہ کے حوالے سے معروف تھے۔ عراق اور ایران میں سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں بھی آپ کا نمایاں کردار رہا۔ آپ کی متعدد تصانیف ہیں، جن میں مہذّب الاحکام اور مواهبُ الرحمٰن فی تفسیر القرآن خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں

آپ عراقی عوام کے ساتھ ان کی تمام آزمائشوں میں شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ آپ نے انتفاضۂ شعبانیہ کی حمایت میں فتویٰ دیا اور بعثی نظام کو مکمل طور پر مسترد کیا، جس کے نتیجے میں بعثی افواج نے متعدد بار آپ کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ پر مختلف پابندیاں عائد کیں

سماجی سرگرمیوں کے ضمن میں آپ کی توجہ کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ آپ نے تبلیغِ دین کے لیے یورپ، امریکہ اور متعدد عرب و ایشیائی ممالک میں اپنے نمائندے بھیجے۔ نیز مسجدِ سہلہ اور مسجدِ کوفہ کی ازسرِنو تعمیر اور توسیع پر بھی خصوصی زور دیا

منسلکات

مطلوبہ الفاظ : مسجد السبزواري

العودة إلى الأعلى