بغداد :قدیم عمارتوں کی بحالی وزارتِ ثقافت کی نگرانی اور مالکان کی منظوری سے کی جا رہی ہے
امانتِ بغداد نے کہا ہے کہ قدیم عمارتوں کی بحالی کا کام وزارتِ ثقافت کے ذیلی ادارے دائرة التراث کی براہِ راست نگرانی میں انجام دیا جا رہا ہے۔ امانت کے مطابق متعدد متاثرہ تاریخی و قدیم عمارتیں اپنی اصل طرزِ تعمیر کے مطابق دوبارہ تعمیر کی جائیں گی، جبکہ بتاویین جیسے علاقوں کو بھی ایک نئے ترقیاتی مرحلے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے
امانتِ بغداد کے ترجمان عدی الجندیل نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج جدید تعمیرات (Construction) اور تاریخی ورثے کے تحفظ میں توازن قائم کرنا ہے، خصوصاً اس لیے کہ ان میں سے بعض عمارتیں سرکاری طور پر تراثی کے طور پر درج ہیں، جبکہ کچھ عمارتیں اگرچہ تاریخی حیثیت رکھتی ہیں لیکن باقاعدہ رجسٹرڈ نہیں
انہوں نے مزید بتایا کہ دائرة التراث ہر مرحلے میں ہمارا بنیادی شراکت دار ہے، اور یہی ادارہ ہر عمارت کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے تاکہ اس کی اصل حالت اور طرز برقرار رہے
انہوں نے کہا کہ متعدد متاثرہ عمارتوں کو منصوبے کے دوسرے مرحلے میں شامل کیا گیا ہے، جن میں ساحة المیدان کے قریب وہ معروف ہوٹل بھی شامل ہے جسے تاریخی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ اس عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور امکان ہے کہ اسے مکمل طور پر اسی کے اصل طرز پر دوبارہ تعمیر کیا جائے، تاکہ اس کی معمارانہ شناخت محفوظ رہے
ان کا مزید کہنا تھا کہ امانتِ بغداد اس وقت دوسرے مرحلے میں چار تراثی عمارتوں پر کام کر رہی ہے، جبکہ جامع منصوبے میں بتاویین جیسے علاقے بھی شامل ہیں، جنہیں حال ہی میں سیکورٹی کے لحاظ سے کھولا گیا ہے۔ یہ علاقے مستقبل کے اُن ترقیاتی مراحل کا حصہ ہوں گے جن کا مقصد انہیں نئے سیاحتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے
انہوں نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ یہ تمام کام نجی بینکوں کی ایسوسی ایشن اور مرکزی بینک کے تعاون سے کیے جا رہے ہیں، اور انہیں عراقی انجینئروں کی نگرانی میں جدید تکنیکی طریقوں کے مطابق انجام دیا جا رہا ہے، تاکہ تاریخی ورثے کا تحفظ باریک بینی سے ممکن ہو سکے
آخر میں انہوں نے کہا کہ دکانوں اور جائیداد کے مالکان نے اس منصوبے کی بھرپور حمایت کی ہے، کیونکہ انہوں نے دیکھا ہے کہ ترقیاتی کاموں سے تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور علاقہ ایک نئے تجارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ وہ آج بغداد کی تراثی شناخت کے تحفظ میں حقیقی شریک کار بن چکے ہیں



