حرمِ امام حسینؑ کے شعبۂ صحت کی تاریخی پیش رفت، بوسٹن چلڈرنز ہسپتال کے تعاون سے حیاتیاتی، خلیاتی اور جینیاتی علاج کی ٹیکنالوجی عراق منتقل کرنے کے لیے سہ فریقی معاہدے پر دستخط ماہِ صفر المظفر: اہم تاریخی واقعات اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کی اہمیت پاکستان: سابق امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق صاحب کا امام حسین ثقافتی سنٹر کا دورہ نجف اشرف: حوزۂ علمیہ کے زیرِ اہتمام مواکبِ حسینی کا تیرہواں سالانہ اربعین کانفرنس، حرمِ امام علیؑ میں منعقد بصرہ سے المثنیٰ تک 838 حسینی مواکب زائرینِ اربعین کی خدمت کے لیے تیار مرکز امام حسینؑ استنبول کی اربعین حسینی کی کوریج کے حوالے سے ترک میڈیا نمائندگان کے ساتھ اہم ملاقات بصرہ: مجمع الثقلین میں مستحق اور یتیم خاندانوں کے لیے مزید 250 رہائشی مکانات کی تعمیر کا آغاز عراق اور ایران کے درمیان منذریہ بارڈر سے ہر گھنٹے 2 ہزار زائرین کی آمد پر اتفاق حرمِ امام حسینؑ نے الثقلین کینسر اسپتال بصرہ میں مریضوں کے مفت علاج پر اب تک 65 ارب عراقی دینار خرچ کیے اسلام آباد: او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین اختتام پذیر، پاکستان نے دو سالہ سربراہی سنبھال لی

نینویٰ میں آثارِ قدیمہ والوں کو پندرہ پَر والے بیلوں کی نقش دریافت

2025-10-09 08:38

عراق کے شمالی علاقے نینویٰ میں دریافت ہونے والی نئی آثارِ قدیمہ نے ایک بار پھر آشوری سلطنت کے شاندار ماضی کو زندہ کر دیا ہے، ہائیڈلبرگ یونیورسٹی، جرمنی کے ماہرین کی زیرِ نگرانی کھدائی کرنے والی ٹیم نے اعلان کیا ہے کہ انہیں نینویٰ شہر میں مقامِ نبی یونس پر پندرہ پَر والے بیل (لاماسو) اور نئی معماری نقش و نگار کے آثار آشوری بادشاہوں کے محلات کے اندر دریافت ہوئے ہیں

یہ جگہ قدیم مشرقِ قریب کے نمایاں سیاسی اور ثقافتی مراکز میں سے ایک رہی ہے۔ عراق کی جنرل اتھارٹی برائے آثار و تراث کے سربراہ علی عبید شلغم کے سرکاری دورے کے موقع پر یہ اعلان کیا گیا، جنہوں نے کھدائی کے کام کا معائنہ کیا اور تازہ دریافت شدہ آثار کا جائزہ لیا

یہ دریافتیں سنحاریب، اسرحدّون اور آشور بانیپال کے عہد کی شاہی تعمیرات کے مختلف پہلوؤں کو روشن کرتی ہیں۔ یہ وہ تین حکمران ہیں جنہوں نے ساتویں صدی قبلِ مسیح میں سلطنتِ آشور کو عروج پر پہنچایا

نئے دریافت شدہ تخت گاہ (عرش ہال) کے اگلے حصے پر موجود اُبھار دار نقوش (Reliefs) آشوری کاریگروں کی غیر معمولی مہارت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسی دوران، لاماسو کے مجسمے اپنی اصلی جگہ پر محلات کے دروازوں پر پائے گئے۔ یہ وہ عظیم الشان مجسمے ہیں جن میں بیل کا جسم، عقاب کے پَر اور انسان کا چہرہ یکجا ہوتے ہیں، اور جو بادشاہوں کے دروازوں پر محافظ علامتوں کے طور پر نصب کیے جاتے تھے تاکہ برائی کی طاقتوں کو روکا جا سکے

جرمن ماہرین کے مطابق، ان میں سے کچھ مجسمے ایک ہی پتھر کے ٹکڑے سے تراشے گئے ہیں، جبکہ کچھ متعدد حصوں کو جوڑ کر بنائے گئے ہیں۔ یہ ایک نایاب تکنیک ہے جو آشوری فن کے آخری ادوار میں حیرت انگیز انجینئرنگ ترقی کو ظاہر کرتی ہے

علی عبید شلغم نے کہا کہ یہ دریافتیں عراق کی تاریخی و فنّی آثار میں ایک اہم اضافہ ہیں، اور عالمی تعاون کی بدولت انسانی ورثے کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ انہوں نے جرمن ٹیم اور عراقی ماہرین کی مشترکہ کاوشوں کو سراہا جو کھدائی، دستاویز بندی اور مرمت کے مراحل میں مصروف ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لاماسو مجسموں کی دریافت اور ان کے نقش و نگار کے مختلف انداز شاہی محلات کی علامتی رسومات اور معمارانہ ڈھانچے کو ازسرِ نو سمجھنے میں مدد دے گی ،وہ ڈھانچے جو اس زمانے میں اقتدار، تقدّس اور خدائی حفاظت کے تصورات کی نمائندگی کرتے تھے

مقامِ نبی یونس کی یہ نئی دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ نینویٰ اب بھی تاریخ کے کئی پوشیدہ رازوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، اور یہ کہ میسوپوٹیمیا (بین النہرین) کی تہذیب، جنگوں اور عدم توجہی کے باوجود، آج بھی دنیا کو اپنی دفن شدہ شان و شوکت سے حیران کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے

منسلکات

مطلوبہ الفاظ : آثار قدیمہ استان نینوی

العودة إلى الأعلى