کربلا میں قائم ’’مجمعُ الفقراء‘‘ رہائشی منصوبے کے بارے میں تفصیل سے جانیے۔ عراق : طبی دنیا میں ایک منفرد اور غیر معمولی کامیابی، حرم امام حسینؑ کے زیر انتظام اسپتال میں بیک وقت جگر کی دو کامیاب پیوندکاریاں عید الاضحیٰ پر العین فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک لاکھ عراقی یتیم بچوں میں عید کے کپڑوں کی تقسیم مرجعِ اعلیٰ کے نمائندے کا صحنِ عقیلہ زینبؑ کا دورہ، تعمیراتی کام کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا ذی قار میں یتیم بچوں کے لیے جدید تعلیمی کمپلیکس کی تعمیر جاری پاکستان: امام حسین ثقافتی سنٹر اسلام آباد کے وفد کی سابق امیرِ جماعتِ اسلامی جناب سراج الحق صاحب سے ملاقات۔ میناب کے شہداء کے لواحقین سے مرجعِ اعلیٰ کے نمائندے کی ملاقات، صبر و تسلیت کا پیغام کربلاء سیّاحوں کی نگاہ میں حرمِ امام حسینؑ کا فلاحی ہاؤسنگ منصوبہ، ضرورت مند خاندانوں کے لیے امید اسلام آباد: وفاقی وزیرِ مذہبی امور جناب سردار محمد یوسف صاحب سے امام حسین ثقافتی سنٹر اسلام آباد کے وفد کی اہم ملاقات

افغانستان کے شیعہ اکثریتی علاقے میں حملہ، 14 افراد شہید

2024-09-15 13:49

حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے، جس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں 14 سے زائد جانی نقصان ہوئیں۔ اس واقعے میں چھ افراد زخمی بھی ہوئے

طالبان حکام نے بتایا ہے افغانستان کے ایک شیعہ اکثریتی علاقے میں حملہ آوروں نے 14 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ جمعرات کو پیش آنے والے اس واقعے میں چھ افراد زخمی بھی ہوئے۔

طالبان نے اس حملے کی تصدیق آج ایک بیان میں کی، جس کے جاری کیے جانے سے قبل ہی دہشت گرد تنظیم داعش اس کی ذمہ داری قبول کر چکی تھی۔ داعش کے مطابق اس حملے میں ایک مشین گن کا استعمال کیا گیا اور اس میں 14 سے زائد شہادتین  ہوئیں۔

خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں شیعہ ہزارہ باشندوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ان افراد کو نشانہ بنایا گیا جو عراق سے چہلم امام حسین علیہ السلام کے لئے جا کر لوٹنے والے زائرین کا استقبال کر رہے تھے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکام لوگوں کے مال و جان کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ہم مجرموں کو تلاش کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فرام ایکس پر پوسٹ میں اس حملے کی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کی سزا کا مطالبہ کیا ہے


العودة إلى الأعلى