حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا بطور نمونہ عمل
خداوند عالم نے جن شخصیات کو بنی نوع انسان کے لئے نمونہ عمل اور رول ماڈل بنا کر خلق کیا ہے ، ان میں سے ایک ہستی حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیھا کی بھی ہے
آج کے اس پر آشوب دور میں ضروری ہے کہ اس شخصیت کی حیاتِ مبارکہ کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی جائے تا کہ اولادِ آدم آپ کی سیرت کو بطریقِ احسن سمجھ کر اس پر عمل کر کے مادی و معنوی کمالات کو حاصل کرسکے۔بصورت دیگر کوئی شخصیت کتنی ہی جامع کیوں نہ ہو اگر اس کی سیرت پر عمل نہ کیاجائے تو معاشرے کو اس سے جو فائدہ پہنچنا چاہیے وہ نہیں پہنچ پاتا۔اگر ہم اپنے معاشرے کو انسانیت کی بلندیوں اور ملکوت کے اعلی درجات پر دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ آج بھی ممکن ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم خود بھی حضرت فاطمۃ لزہرا ؑ کی عملی شخصیت اور حقیقی فضائل سے آگاہ ہوں اور اور اپنی آئندہ نسلوں کو بھی اس معظمہ بی بی ؑ کی سیرت و کردار سے متعارف کروائیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھرانے کا کوئی بھی فرد محض اس لئے نمونہ عمل نہیں ہے کہ وہ رسول کا قریبی رشتے دار ہے بلکہ وہ اس لئے نمونہ عمل ہے کہ اس کے اپنے اعمال رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعمال کے مطابق ہر رجس اور نجاست سے دور ہیں

سورہ احزاب کی تینتیسویں آیت انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطہرکم تطھیرا
کا ترجمہ مولانا شبر احمد عثمانی نے کچھ اس طرح کیا ہے کہ بس اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا میل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے
اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ نبی کے گھر والوں کو ان احکام پر عمل کرا کر خوب پاک و صاف کر دے اور ان کے رتبہ کے موافق انکو قلبی صفائی اور اخلاقی ستھرائی عطا فرمائے جو دوسروں سے ممتاز و فائق ہو
ظاہر ہے جب کوئی ہستی اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں سے طہارت کے اس مقام پر پہنچ جائے کہ قرآن اس کی طہارت کی گواہی دے تو ایسی ہستی رسولِ اعظم کے اسوہِ حسنہ پر عمل کرنے کی وجہ سے محبوبِ خدا کہلائے گی
ارشاد پروردگار ہے کہ قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ
حبیب کہہ دیجئے اگر تم اللہ کی محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو تاکہ تم سے اللہ محبت کرے
پس اہلِ بیت وہ ہستیاں ہیں جو ظاہری و باطنی طہارت اور محبوبِ خدا ہونے کی وجہ سے رسولِ خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں۔اُن ہستیوں میں سے ہر ہستی اپنے فضائل و اعمال کے اعتبار سے خصوصی عروج کی حامل ہے
اس وقت ان ہستیوں میں سے ہم فقط حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا کی ذات گرامی کے اسوہِ حسنہ پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیں گے۔قارئین کو یاد رہے کہ ہمارا مقصد سیّدہ دو عالم ؑکے فضائل و مناقب پر روشنی ڈالنے کے بجائے اُن کے اسوہ حسنہ کو اجاگر کرنا ہے
حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا کی شخصیت پر بطور نمونہ عمل نگاہ ڈالنے کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے :سب سے پہلے جنت میں حضرت فاطمہؑ داخل ہونگی۔ ظاہر ہے کہ ہر وہ شخص جس کے دل میں جنت میں داخلے کی تمنّا، آرزواور خواہش ہے وہ اس عظیم بی بی کے نقش قدم پر چلنے کی ہر ممکن سعی و کوشش کرے گا۔ ہم اس معظمہ خاتونؑ کی زندگی کا بطور اسوہِ حسنہ مطالعہ کرنے کے لئے ان کی زندگی کے ادوار کو چند مرحلوں میں تقسیم کر لیتے ہیں
الف بحیثیت بیٹی ب بحیثیت بیوی ج بحیثیت ماں د بحیثیت عابدہ و زاہدہ ر بحیثیت مدافع اسلام

خاتونِ جنت بحیثیت بیٹی
سب سے پہلے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دخترِ گرامی ؑ کی شخصیت کا بطور بیٹی جائزہ لیتے ہیں۔آپ کی تاریخ ولادت میں اگرچہ اختلاف پایا جاتا ہے تاہم اکثر مورخین کا اتفاق ہے کہ آپ بعثت کے پانچویں سال بیس جمادی الثانی کو حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بطن اطہر سے اس دنیا میں تشریف لائیں
یوں کائنات کے سب سے عظیم انسان کے گھر میں کائنات کی سب سے عظیم خاتون کی ولادت ہوئی ، یہ ولادت پھولوں کے حصار میں نہیں بلکہ کانٹوں کے محاصرے میں ہوئی، کفّار مکہ پیغمرِ خدا کو ابتر یعنی بے نام و نشان اور بے نسل ہونے کے طعنے دیا کرتے تھے کہ ایسے میں خدا نے اس بیٹی کو عطا کر کے ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا
بِسْمِ اللّہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ اِنَّآ اَعْطَینَاكَ الكَوْثَرَ بے شک ہم نے آپ کو کوثر دی
فَصَلِّ لِرَبكَ وَانْحَرْ پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے
اِنَّ شَانكَ هُوَ الْاَبْتَرُ بے شک آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے
اس سورہ میں خداوند عالم نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ ہم نے آپ کو کوثر عطا کی ہے اور آپ کا دشمن ابتر ہے۔ لفظ کوثر کی مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں یہاں تک کہ فخر رازی نے اس بارے میں پندرہ اقوال نقل کئے ہیں۔تفسیر المیزان سمیت متعدد علمائے اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ کوثر یعنی خیر کثیر کے متعدد مصادیق میں سے ایک روشن ترین مصداق حضرت فاطمہؑ کا وجود مبارک ہے
اس سورہ کے تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ بی بی ، رسولِ دو عالم کے لئے ؑ اپنی ولادت سے ہی خیر کثیر ہے ۔ یعنی یہ فقط ایک بیٹی نہیں ہے بلکہ یہ بیٹی کے قالب میں اللہ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خیر کثیر عطا کیا گیا ہے اور اس خیر کثیر کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو طعنے دینے والوں کا منہ بند کیا گیا ہے
جب اس بی بی کی عمرِ مبارک فقط دوسال ہوئی تو شعبِ ابی طالب میں مسلمانوں کا محاصرہ کیا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ اکلوتی بیٹی ان بھوک، افلاس اور مشکلات کے دنوں میں، دو سال کی عمر میں شعبِ ابیطالب میں دیگر مسلمانوں کے ہمراہ محصور رہی۔اپنی زندگی کے ابتدائی ایام میں تین سال تک آپ نے شعب ابیطالب کی قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کیا
شعبِ ابیطالب کا محاصرہ در اصل مسلمانوں کی تربیت کے لئے ایک بنیادی مرحلہ تھا، جس طرح ایک بیج کو زمین کے اندر دفنایا جاتا ہے اور وہ زمین کے نیچے سخت دباو کو برداشت کرنے کے بعد زمین کی سخت جلد کو ننھی سی کونپل سے چیر کر باہر نکل آتا ہے اور تندو طوفان ہواوں اور شدید موسم کے مقابلے میں کھڑا ہوجاتا ہے ،اسی طرح شعب ابیطالب کے دوران مسلمانوں کی روحانی و جسمانی تربیت کی گئی تاکہ وہ بدترین مشکلات اور خوفناک حالات کا مقابلہ کر سکیں، اس تربیتی مرحلے میں حضرت خاتون جنتؑ بھی ان مسلمانوں کے درمیان موجود تھیں۔
اس سخت اور کٹھن دور میں بی بیؑ کے خیر کثیر وجود کو دیکھ کر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کتنا حوصلہ ملتا ہوگا اس کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے۔
بعثت کے دسویں سال جب رسولِ گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دختر نیک اخترؑ ؑ کی عمر فقط پانچ یا چھ سال تھی تو پیغمرِ اسلام پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے ،اس سال حضرت ابوطالبؑ اور حضرت خدیجہ ؑ کا انتقال ہوگیا۔ ان دو بزرگوار شخصیتوں کے انتقال سے گویا پیغمبرِ اسلام کی کمر ٹوٹ گئی تھی اور پیغمبرؐ نے اس سال کا نام عامُ الحزن یعنی غم کا سال رکھا
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں آنے والے اس خلا کو سیّدہ زہراؑ نے کم سنی کے باوجود اس محبت اور خدمت سے پُر کیا کہ آپ اُمُّ ابیھا کی کنیت سے مشہور ہوئیں۔اُمُّ ابیھا یعنی اپنے باپ کی ماں۔ یہ اس منفرد بی بی کا منفردمقام ہے جو کائنات کی کسی اور خاتون کے حصّے میں نہیں آیا۔یعنی آپ اس مشکل ترین دور میں فقط نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک بیٹی نہیں تھیں بلکہ بیٹی ہونے اور نمونہ عمل ہونے کے اعتبار سے اُمِّ ابیھا تھیں۔ آپ کمال معنویت و بشریت کے اس درجے پر فائز تھیں کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمنے آپ کے بارے میں فرمایا: أن اللہ لیغضب لغضب فاطمہ، و یرضی لرضاہا
بے شک اللہ فاطمہؑ کے غضب کی وجہ سے غضبناک ہوتا ہے اور آپ کی رضا سے راضی ہوتا ہے
کتنا باعظمت ہوگا وہ باپ جس کی بیٹی کی عظمت یہ ہے کہ اس کی ناراضی سے اللہ ناراض اوراس کی خوشی سے اللہ خوش ہوتا ہے ، بلکہ رسولِ خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلمنے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے فاطمہ بضعة منی ؛ من آذاہا فقد آذانی ، و من أحبہا فقد أحبنی
فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف دی ہے اور جس نے اس سے محبت رکھی اس نے مجھ سے محبت رکھی ہے
یہ فقط کسی عام باپ اور بیٹی کی محبت نہیں ہے بلکہ یہ رسولِ دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شخصیت بیٹی ہونے کے اعتبار سے بھی بے مثل اور نمونہ عمل ہے
انسان ہر کسی سے اپنے ظرف کے مطابق محبت کرتا ہے ، پیغمبر اسلام کی حضرت فاطمہ الزہرا ؑ سے محبت عام انسانوں یا عام باپ بیٹی سے قطعاً مختلف ہے چونکہ خود پیغمبرِ اسلام بھی ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں اور ان کی بیٹی بھی ہمارے لئے اسوہ اور نمونہ ہیں
دنیا جہاں میں جتنی بھی بیٹیاں ہیں اگر وہ سعادت مند بننا چاہتی ہیں تو رسولِ اسلام کی بیٹی کے اسوہ حسنہ کامطالعہ کریں اور ان کی سیرت پر عمل کریں
خود پیغمبرِ اسلام نے ارشاد فرمایا ہے کہ فاطمہ عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں۔ یہاں پر یہ بات ذہن میں رہے کہ خود پیغمبرِ اسلام عالمین کے لئے نبی اور رحمت ہیں ۔اور آپ نے عالمین کی عورتوں کی سردار اس بی بی ؑ کو قرار دیا ہے۔پس سردار وہ ہوتا ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہے اور جس کے نقشِ قدم پر عمل کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی آدمی اپنے سردار کے دائرہ اطاعت سے نکل جائے تو اس کی سر زنش کی جاتی ہے اور اسے سزا دی جاتی ہے بلا شبہ اسلامی معاشرے میں مسلمان خواتین کے پاس حضرت فاطمۃ الزہراؑ کی اطاعت کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ نجات ہی نہیں ہے

حضرت فاطمۃ الزہرا ؑبحیثیت بیوی
حضرت فاطمہؑ کی حضرت امام علی ؑ کے ساتھ شادی کی تاریخ مشخص کرنے میں بھی مورخین کا اختلاف ہے بعض نے ماہ ذی الحجہ میں کہا ہے بعض نے ماہِ شوال میں کہا ہے اور بعض نے دیگر کچھ تاریخیں بھی بیان کی ہیں۔شادی کے وقت علما نے بی بی کی عمر، نو اور گیارہ سال سے چودہ سال کے درمیان بتائی ہے
جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ امام علیؑ کی تمام تر زندگی جدو جہد اور جہاد سے عبارت ہے، آپ جب بھی جنگوں سے لوٹتے تو بنتِ پیغمبرؑ آپ کے زخموں پر مرہم لگاتیں، آپ کی تلوار کو دھوتیں اور آپ کی ڈھارس بڑھاتیں یہاں تک کہ کائنات کے سب بڑے عادل اور منصف مزاج انسان علی ابن ابیطالب نے آپؑ کے بارے میں یہ گواہی دی ہے کہ خدا کی قسم اپنی ساری زندگی میں کبھی میں بی بی پر غضبناک نہیں ہوا اور کبھی بی بیؑ نے بھی مجھ پر غصہ نہیں کیا
شادی کے بعد بی بیؑ نے محض ایک ناز و نعم سے بھرپور زندگی نہیں گزاری بلکہ امورِ خانہ داری کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کی مثالی رفیقِ حیات ثابت ہوئیں
آپ نے ایک مثالی بیوی ہونے کے ناطے مثالی بچوں کو پروان چڑھایا اور اپنے شوہر کی اجتماعی و انفرادی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں بھرپور تعاون کیا
کتبِ تواریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے گھریلو امور کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میاں بیوی کے درمیان تقسیم کردیا تھا، اندرونِ خانہ کا کام کاج آپ انجام دیتی تھیں اور بیرونِ خانہ کے کام امیرالمومنینؑ کے سپرد تھے۔ اگرچہ امیرالمومنینؑ بھی گھر کے کاموں میں آپ کا ہاتھ بٹاتے تھے لیکن کام کرنے کی وجہ سے آپ کے مقدس ہاتھوں پر زخموں کے نشانات پڑ گئے تھے۔ اس کے باوجود آپ نے کبھی امورِ خانہ داری کو اپنے لئے بوجھ نہیں سمجھا اور کبھی بھی امام علیؑ سے اس بارے میں کوئی شکایت نہیں کی
آپ صرف ایک مثالی بیٹی ہی نہیں بلکہ ایک مثالی بیوی بھی ہیں، ایک ایسی بیوی کہ جن کی عظمت کا معترف امام علی ؑ جیسا عظیم انسان بھی ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ دنیا میں قوّت برداشت کے اعتبار سے انسان دو طرح کے ہیں، بعض چھوٹی چھوٹی مشکلات سے بھی بوکھلا جاتے ہیں اور بعض بڑی بڑی مشکلات کو صبر اور حوصلے سے سر کرجاتے ہیں
حضرت امام علیؑ کے صبر اور حوصلے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کو دنیا مشکل کشا کے لقب سے یاد کرتی ہے اور دنیا میں امام علیؑ کے نام کو، عظمت ، شجاعت، بہادری اور آرام و سکون کا استعارہ سمجھا جاتا ہے لیکن علیؑ، حضرت فاطمہؑ کے وصال مبارک کے موقع پر ارشاد فرماتے ہیں:بِمَنِ العَزاءُ یا بِنتَ مُحمَد؟ كُنتُ بكِ اَتَعزی فَفیمَ العَزاء مِن بَعدِک
اے دختر محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اب مجھے کیسے سکون ملے ، میرا سکون آپ سے تھا، آپ کے بعد سکون کہاں یقیناً ایسی بیوی کائنات کی بیویوں کے لئے نمونہ عمل ہے جو امام علیؑ جیسے شجاع اور بہادر مرد کے لئے باعث آرام و سکون تھی
ہر انسان اپنے ظرف اور ہمت کے مطابق بے قراری کا اظہار کرتا ہے، حضرت فاطمۃ الزہراؑ جب اس دنیا سے رخصت ہوئیں تو آپ کے شوہر یعنی حضرت امام علیؑ نے آپ کے ہجر اور فراق کے دکھ کو پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے مساوی قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ خدا کی قسم آپ کے جانے سے میرے لئے رسولِ خدا کی موت کا دکھ تازہ ہو گیا ہے
بحیثیت ایک بیوی ہونے کے آپ اس مقام و مرتبے پر فائز تھیں کہ امام علی ؑ جیسے شجاع انسان کے لئے اس دکھ کا سہنا محال تھا۔یہ فقط ایک بیوی سے محبت کی وجہ سے ایسا نہ تھا بلکہ اس لافانی و لاثانی محبت کے پیچھے دخترِرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اللہ کی راہ میں وہ مجاہدانہ کردار موجزن تھا جس کی یاد امام علیؑ کو بے تاب کئے ہوئے تھی
اب بھی مومنینِ کرام کی بیویاں اگر اپنے لئے امیرالمونینؑ کی اس بیوی کو نمونہ عمل بنا لیں تو اسلامی معاشرہ عزت و عظمت اور عطوفت و مہربانی کی مثالیں آج بھی قائم کر سکتا ہے

حضرت فاطمہؑ بحیثیت ماں
ایک مثالی بیوی اور بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ حضرت فاطمہؑ ؑ ایک مثالی اور کامل ترین ماں بھی ہیں۔ایک نمونہ عمل بیٹی اور اسوہ حسنہ کی حامل بیوی ہونے کے ناطے آپ بطریقِ احسن جانتی تھیں کہ بہترین ، مثالی اور کامل ترین ماں کسے کہتے ہیں
یوں آپ صرف ایک ماں ہی نہیں ہیں بلکہ کائنات کی ساری ماوں کے لئے نمونہ عمل ہیں۔آپ کی گود میں ایسے بچوں نے تربیت پائی ہے جن کے فضائل و مناقب سے زمین و آسمان کی وسعتیں پر ہیں
آپ کے ہاں چار بچوں کی ولادت ہوئی جن میں سے دو بچے یعنی امام حسنؑ اور امام حسینؑ امام معصوم بنے اور دو بیٹیاں حضرت زینب ؑ اور حضرت کلثوم ؑ واقعہ کربلا کی سفیر ٹھہریں
کتب تواریخ میں ایک اور بچے حضرت محسنؑ کا ذکر بھی ملتا ہے ، جن کے بارے میں شکم مادر میں ہی شہادت کے واقعات منسوب ہیں۔
حضرت فاطمہؑ نے چار بچوں کو صرف پالا نہیں بلکہ اپنے حسنِ عمل سے بچوں کی ایسی تربیت کی کہ خودآپ کے بچے بھی اہلِ عالم کے لئے نمونہ عمل ہیں
ہم مختصراً فقط یہ عرض کریں گے کہ اگر بزبانِ رسالت ؐ، الحَسَنُ و الحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
امام حسن اور امام حسینؑ جوانان جنت کے سردار ہیں اور یہ بلا شبہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی ہے کہ الجنۃ تحت اقدام الامہات جنت ماوں کے قدموں تلے ہے ، حضرت امام حسن اور حسینؑ بھی کمالات کے جن مدارج پر فائز ہیں اُن کمالات کا دریا حضرت فاطمہؑ کے قدموں سے ہی اُبلتا ہے وہ چاہے شہادت کا دریا ہو یا کوثر کا
اسی طرح آپ کی دونوں بیٹیوں کی زندگی میں بھی حق گوئی، بیباکی اور دین کی حفاظت کا جو پہلو نمایاں نظر آتا ہے اس میں بھی در اصل بی بی دو عالمؑ کی تربیت ہی چھلک رہی ہے
آپ کی شخصیت آپ کے بچوں کے سامنے صرف کھلی ہوئی کتاب کی طرح نہیں تھی بلکہ ایک عملی مربّی کی سی تھی۔خدا پر توکل، خدا کے رسول کی اطاعت، شب و روز عبادت ، دوسروں کے لئے جانثاری، اعمال میں خلوص، سخت حالات کے باوجود سخاوت، ہر حال میں حسنِ نیت، گنہگاروں کے ساتھ عفو و درگزر ، آنے والوں کے ساتھ مہمان نوازی،اپنے پیکر میں خلقِ عظیم اور غیرت دینی جیسے تمام اوصاف آپ نے بچوں کو گھٹی میں پلائے تھے۔
بے شک آپ کی اولاد نے اسلام اور توحید کی عظمت کو چار چاند لگا دئیے لیکن بلاتردید ایسی اولاد کی تربیت کا سہرا دُخترِ رسول ؐکے سر جاتا ہے
حضرت امام حسنؑ سے روایت ہے کہ ایک شب میری والدہ گرامی ساری رات عبادت کرتی رہیں، یہاں تک کہ سپیدہ سحر نمودار ہوگیا، میں سنتا رہا ساری رات میری والدہ ماجدہ ، ہمسایوں، عزیزو اقارب اور مسلمین کے مسائل کے حل کے لئے دعا کرتی رہیں، صبح ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ اے والدہ گرامی آپ نے اپنے لئے کیوں دعا نہیں کی اس پر سیّدہ دوعالم ؐنے شہزادے کو جواب دیا:یا بُنیَّ الجارُ ثُمَّ الدّارُ
اے میرے نونہال!پہلے پڑوسی پھر گھر
یہ ہے وہ نظریہ حیات، وہ سوچ ، وہ فکر اور وہ راہِ بندگی جس پر آپ نے اپنے بچوں کی تربیت کی۔ اسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ آپ کی آل کو قرآن مجید میں صادقون، مطهرون، فائزون، متوسّمین، راسخون فی العلم، سابقون، مقرّبون، متقون، خاشعون، مصطفون، ابرار، اولوالامر، اهل الذکر، وارثان کتاب، آیات، نذر، امّت هادی به حقّ، بیوت اذن الله ان ترفع و یذکر فیها اسمه، خیر البریّه و اولوالالباب جیسے القابات سے یاد کیا گیا ہے
اگر دنیا بھر کی مائیں سیدہ دوعالمؐ کو اپنا رول ماڈل اور نمونہ عمل جان کر اپنے بچوں کی تربیت کریں تو یقینا اس سے ہمارے معاشرتی و سماجی حالات سنور جائیں گے اور مسلمان دنیا و آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہونگے
بحیثیت عابدہ و زاہدہ
ایک مثالی بیٹی، نمونہ عمل بیوی اور بہترین ماں ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایسی عابدہ و زاہدہ خاتون تھیں کہ فرشتے بھی آپ پر درود و سلام بھیجتے تھے
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اہل مدینہ رات کے وقت حضرت امام علیؑ کے گھر سے ایک نور کو بلند ہوتے دیکھتے تھے، انہوں نے اس نور کے بارے میں پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے استفسار کیا تو پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایاکہ جب میری بیٹی فاطمہؑ محرابِ عبادت میں کھڑی ہوتی ہے تو ہزاروں فرشتے اس پر درودو سلام بھیجتے ہیں اوراسے عالمین کی عورتوں کی سردار کے لقب سے پکارتے ہیں
اسی طرح ایک اور حدیث ہے کہ جب بی بی دو عالم محرابِ عبادت میں کھڑی ہوجاتی تھیں تو آسمان پر ملائکہ ؑ کے لئے ایک ستارہ چمکنے لگتا تھا، اور خدا فرشتوں سے فرماتا تھا کہ اے فرشتو ! دیکھو میری بہترین عبد فاطمہ ؑ میری عبادت کر رہی ہے۔وہ میری بارگاہ میں کھڑی میری ہیبت سے لرز رہی ہے اور پورے خضوع و خشوع کے ساتھ میری عبادت کر رہی ہے
سیرت کی کتابوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بی بی صرف ذکر و اذکار اور نماز و دعا میں مشغول نہیں رہتی تھیں بلکہ آپ عبادت کو قربِ الٰہی کا وسیلہ سمجھتے ہوئے اپنی تمام تر مشکلات بھی عبادت کے ذریعے حل کرتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی متعدد آیات آپ کی شان میں نازل ہوئی ہیں ، جیساکہ سورہ انسان یا سورہ دہر کے بارے میں علمائے اسلام اورمفسّرین کا کہنا ہے کہ یہ سورہ بی بی دو عالم کے صبر اور سخاوت کیوجہ سے اہل بیت رسول اور خصوصاً سیدہ دو عالم کی شان میں نازل ہوا ہے
اس سورہ کے نزول کے بارے میں مفسرین کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسنؑ اورامام حسینؑ بیمار ہوگئے، اس موقع پر حضرت امام علیؑ، سیّدہ دو عالم ؑ اور ان کی کنیز فضہؓ نے منت مانی کہ امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے شفا یاب ہونے پر وہ سب تین دن روزے رکھیں گے۔
جب دونوں شہزادوں کو شفا مل گئی تو دونوں شہزادوں سمیت اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ رکھا، افطاری کے لئے حضرت فاطمہ ؑ نے پانچ روٹیاں پکائیں، عین افطار کے موقع پر سائل نے آکر روٹی کا سوال کیا، سب نے اپنے اپنے حصے کی روٹی سائل کو دیدی، اسی طرح تین دنوں تک ہوا
تیسرے دن پیغمبر ؑ اپنی بیٹی کے گھر تشریف لائے اور بیٹی کو مصلے پر مشغولِ عبادت پایا، اس وقت جبرائیل امین ، نبی اکرمصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ انسان لے کر نازل ہوئے اور پیغمبر سے فرمایا کہ خداوند عالم ایسے اہل بیتؑ کی وجہ سے آپ کو مبارکباد دیتا ہے۔
حضرت فاطمہؑ کی خداوند عالم کی بارگاہ میں عبودیت اور بندگی بھی اپنی مثال آپ تھی۔ آپ نے اپنے تمام اجتماعی وسیاسی امور کے ساتھ انفرادی زندگی کے فرائض اور خدا کے ساتھ دعا و مناجات کے فریضے کو بھی بطریق احسن ادا کیا
بحیثیت مدافع اسلام
اپنی مختصر سی زندگی میں بی بی دو عالمؑ شعبِ ابی طالب سے لے کر میدان مباہلہ تک اور میدانِ مباہلہ سے لے کر اپنے آخری سانس تک مسلسل اسلام کا دفاع کرتی رہیں، ایک طرف تو آپ شعبِ ابی طالب میں دن کی شدید گرمی میں جھلس جاتی تھیں اور رات کی شدید سردی میں ٹھٹھرتی تھیں اور دوسری طرف ہر جنگ اور ہر غزوے میں کبھی اپنے والد کے زخم دھو رہی ہوتی تھیں اور کبھی اپنے شوہر کے زخموں پر مرہم لگا رہی ہوتی تھیں ، کبھی اپنے والد بزرگوار کی تلوار کو صیقل کرتیں اور کبھی اپنے شوہر نامدار کی شمشیر کو تیز کرتیں۔
کبھی گھر کے امور انجام دیتیں اور کبھی مستورات کو احکام سکھاتیں ، کبھی اہلِ مدینہ کے دروازوں پر بیداری کے لئے دستک دیتیں اور کبھی دربار میں جا کر خطبہ ارشاد فرماتیں
المختصر یہ کہ آپ کی ساری زندگی ضرب و حرب، علم و عمل، جدوجہد، تحریک و حریت اور بیداری و شعور سے عبارت ہے۔ آپ صرف اہلِ اسلام کے درمیان رہ کر اسلام کی حفاظت نہیں کرتی تھیں بلکہ جب نجران کے عیسائیوں نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مباہلے کا فیصلہ کیا تو کائنات کی ساری مسلمان عورتوں میں سے صرف آپ کو رسولِ اسلام نے اسلام کے دفاع کے لئے منتخب کیا۔
مفسرین کے مطابق اللہ نے اپنے پیغمبرؐ کو حکم دیا:فَمَنْ حَآجَّكَ فِيْهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَاَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْۖ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ
پھر جو کوئی تجھ سے اس واقعہ میں جھگڑے بعد اس کے کہ تیرے پاس صحیح علم آچکا ہے تو کہہ دے کہ آؤ ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں بلائیں، پھر سب التجا کریں اور اللہ کی لعنت ڈالیں ان پر جو جھوٹے ہوں
یہ حکم تب دیا گیا جب یمن میں نجران کے علاقے کے رہنے والے عیسائیوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور پیغمبر اسلام سے کہا کہ آئیے ہم آپس میں مباہلہ کرتے ہیں، یعنی جھوٹوں پر لعنت کریں گے جو جھوٹا ہوگا وہ تباہ و برباد ہوجائے گا، اس کے بعد اللہ نے بھی اپنے حبیبؐ کو مباہلے کا حکم دیا
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے "ابناءنا” ہمارے بٹولں کی جگہ فقط امام حسنؑ اورامام حسنؑ) کو ساتھ لیا اور "نساءنا” ہماری خواتین کی جگہ صرف حضرت فاطمہ زہراءعلیھا السلام کو ہمراہ لیا اور "انفسنا” ہمارے نفوس کی جگہ صرف اور صرف حضرت علیؑ کو اپنے ساتھ لیا
یوں حضرت فاطمہ الزہراؑ نے اسلام کے دفاع کے لئے غیر مسلم دشمنوں کا بھی سامنا کیا اور میدان مباہلہ میں دشمنانِ اسلام کا سر جھکا کر واپس پلٹیں
یہی وجہ ہے کہ جب پیغمبرِ اسلام کے بعد امورِ خلافت کو نمٹانے کے لئے بعض لوگوں نے سقیفہ بنی ساعدہ کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنا چاہا تو بی بی دو عالم ؑ جس طرح مباہلے کے روز اسلام کی حفاظت کے لئے گھر سے نکلی تھیں اُسی طرح پیغمر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اپنے موقف کو بیان کرنے کے لئے گھر سے نکلیں اور ارباب اقتدارسے متعارض ہوئیں۔
اگر جہانِ اسلام کی خواتین ، اس معظمہؑ بی بی کو نمونہ عمل سمجھ کر ان کی اطاعت میں اسلام کا دفاع کریں تو آج بھی معاشرے سے بدعات و انحرافات ا ور خرافات کا خاتمہ ہو سکتا ہے



