کردستان ریجن سے کربلا تک: عزاداری و جلوس، عراقی اتحاد کی روشن علامت
کربلا میں کردستان ریجن سے آنے والے زائرین کا ایک عظیم ماتمی جلوس برآمد ہوا، جس میں ریجن کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مرد، خواتین اور بچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی
زائرین نے مجالسِ عزا اور دیگر مذہبی مراسم میں بھرپور انداز میں حصہ لیا، جبکہ حرمِ امام حسینؑ کی جانب سے ماتمی جلوسوں اور زائرین کے لیے بہترین خدمات اور سہولیات فراہم کی گئیں۔ یہ روح پرور منظر عراقی عوام کے اتحاد، باہمی اخوت اور ان اعلیٰ انسانی اقدار کی عکاسی کرتا ہے جن کے لیے حضرت امام حسینؑ نے اپنی عظیم قربانی پیش کی
کردستان ریجن میں حرمِ امام حسینؑ کے نمائندے شیخ علی القرعاوی نے کربلاء ٹوڈے نیوز ایجنسی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریجن سے زائرین کی بھرپور شرکت، امام حسینؑ سے ان کی گہری محبت، عقیدت اور وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حرمِ امام حسینؑ نے زائرین کو بہترین سہولیات اور خدمات فراہم کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے تاکہ وہ پُرامن، پُرسکون اور منظم ماحول میں زیارت کی سعادت حاصل کر سکیں
انہوں نے مزید کہا، ہمیں کردستان ریجن کے مختلف علاقوں سے آنے والے اپنے بھائیوں کی کربلا میں موجودگی پر فخر ہے۔ یہ منظر عراقی عوام کے اتحاد کی عملی تصویر ہے اور اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ امام حسینؑ محبت، اخوت اور انسانیت کی ایسی مشترکہ علامت ہیں جو سب کو ایک پرچم تلے جمع کرتی ہے
شیخ علی القرعاوی نے بتایا کہ اس عظیم ماتمی جلوس میں مرد، خواتین اور بچوں نے بھرپور شرکت کی۔ مختلف زبانوں میں نوحے، مرثیے اور حسینی نعرے گونجتے رہے، جو امام حسینؑ کے عالمگیر پیغام اور مختلف قومیتوں، زبانوں اور طبقات کو ایمان، ایثار اور اعلیٰ انسانی اقدار کی بنیاد پر متحد کرنے کی صلاحیت کا عملی مظہر تھے
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ماتمی جلوس حرمِ امام حسینؑ کے ان سالانہ پروگراموں کا حصہ ہے جو عراق کے مختلف صوبوں، بالخصوص کردستان ریجن سے آنے والے زائرین کے استقبال کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔ یہ اقدام قومی یکجہتی، ایمانی رشتوں کی مضبوطی اور باہمی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے، اور اس حقیقت کی تجدید کرتا ہے کہ کربلا وہ مقدس سرزمین ہے جہاں قدموں سے پہلے دل یکجا ہوتے ہیں، اور جہاں ہر سال امام حسینؑ کے ابدی پیغامِ وحدت، قربانی اور اصلاح کی تجدید کی جاتی ہے



