کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

شہداء کربلا(ع) کے یوم تدفین کی مناسبت سے (120) سے زیادہ ماتمی دستوں نے کربلا میں جلوس عزاء میں شرکت کی

2023-08-02 16:24
روضہ مبارک امام حسین(ع) اور روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے شعبہ برائے شعائر و مواکب حسینی نے اپنی پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ امام حسین(ع) اور شہداء کربلا(ع) کے سوئم اور یوم تدفین کی یاد میں کربلا اور دیگر علاقوں کے قبائل نے قبیلہ بنی اسد کی سربراہی میں کربلا میں بہت بڑا جلوس عزاء برآمد کیا کہ جس میں (120) سے زیادہ قبائلی مواکب عزاء نے شرکت کی۔ اس شعبہ کے سربراہ سید عقیل عبد الحسین یاسری نے انٹرنیشنل میڈیا سنٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کربلا میں مراسم عاشوراء کے اختتام کے بعد شہداء کربلا کی تدفین کے دن نکالے جانے والے قبیلہ بنی اسد کے تاریخی جلوس کے انتظامات شروع کر دیئے گئے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عزاداروں کی تعداد کے حوالے سے کربلا میں برآمد ہونے والے ماتمی جلوسوں میں رکضہ طویریج کے بعد یہ سب سے بڑا جلوس شمار ہوتا ہے لہذا ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے ارکان اس جلوس کے پورے راستے میں تمام امنی اور خدماتی انتظامات کے لیے موجود رہے، بعض مواکب نے صبح سویرے شہداء کربلا کی تدفین کی یاد میں جلوس عزاء برآمد کیے اور کربلا کے دونوں مقدس روضوں میں حاضری دی۔ البتہ قبائلی مواکب نے ہر سال کی طرح نماز ظہرین کے بعد مزار سید جودہ سے مشترکہ جلوس عزاء برآمد کیا اور شاہراہِ امام حسین(ع) سے ہوتے ہوئے روضہ مبارک امام حسین(ع) میں پہنچے اور وہاں سے ما بین الحرمین کے راستے روضہ مبارک حضرت عباس(ع) میں پرسہ پیش کرنے کے بعد جلوس کا اختتام ہوا اور مسلسل چار گھنٹوں سے زیادہ قبائلی مواکب کی دونوں مقدس روضوں میں آمد کا سلسلہ جاری رہا۔

العودة إلى الأعلى