کربلا میں قائم ’’مجمعُ الفقراء‘‘ رہائشی منصوبے کے بارے میں تفصیل سے جانیے۔ عراق : طبی دنیا میں ایک منفرد اور غیر معمولی کامیابی، حرم امام حسینؑ کے زیر انتظام اسپتال میں بیک وقت جگر کی دو کامیاب پیوندکاریاں عید الاضحیٰ پر العین فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک لاکھ عراقی یتیم بچوں میں عید کے کپڑوں کی تقسیم مرجعِ اعلیٰ کے نمائندے کا صحنِ عقیلہ زینبؑ کا دورہ، تعمیراتی کام کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا ذی قار میں یتیم بچوں کے لیے جدید تعلیمی کمپلیکس کی تعمیر جاری پاکستان: امام حسین ثقافتی سنٹر اسلام آباد کے وفد کی سابق امیرِ جماعتِ اسلامی جناب سراج الحق صاحب سے ملاقات۔ میناب کے شہداء کے لواحقین سے مرجعِ اعلیٰ کے نمائندے کی ملاقات، صبر و تسلیت کا پیغام کربلاء سیّاحوں کی نگاہ میں حرمِ امام حسینؑ کا فلاحی ہاؤسنگ منصوبہ، ضرورت مند خاندانوں کے لیے امید اسلام آباد: وفاقی وزیرِ مذہبی امور جناب سردار محمد یوسف صاحب سے امام حسین ثقافتی سنٹر اسلام آباد کے وفد کی اہم ملاقات

سری نگر میں کشتیوں پر نکالا جانے والا محرم کا جلوس

2022-08-10 08:44

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی مشہور ڈل جھیل میں اہل تشیع برادری نے بڑی کشتیوں میں محرم کا جلوس نکال کر 183 سال پرانی روایت کو زندہ رکھا ہے۔

اہل تشیع ماہ محرم کے ابتدائی 10 دن کے دوران مختلف مقامات سے جلوس نکالتے ہیں، جن کا آخری پڑاؤ سری نگر کے علاقے حسن آباد میں ہوتا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق اہل تشیع حسن آباد پہنچنے کے لیے متبادل راستے استعمال کرتے ہیں۔

یہ جلوس ڈل جھیل کے اندرونی علاقوں کے کنڈی محلہ سے شروع ہوتا ہے اور پھر جیسے ہی جلوس ان علاقوں سے گزرتا ہے دوسرے ڈل علاقوں کے لوگ بھی ان میں شامل ہو جاتے ہیں۔

ان پانچوں علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا سڑک سے رابطہ نہیں ہے اس لیے وہ پانی کے راستوں سے منسلک ہیں۔

ہ جلوس ٹنڈ محلہ، کنڈ محلہ، صوفی محلہ، نالہ محلہ اور گچی محلہ جیسے کئی علاقوں سے گزرتا ہے۔ لوگ ان کشتیوں میں جمع ہوتے ہیں اور پھر حسن آباد کی طرف جاتے ہیں جہاں وہ 10 محرم کو ماتم کرتے ہیں۔

جلوس میں شریک منظور احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ جھیل کا ایک حصہ ہے اور ہمارے پاس ان علاقوں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہے، جس کی وجہ سے ہم کشتیاں استعمال کرتے ہیں۔ یہ جلوس ٹنڈ محلہ سے کنڈ محلہ تک شروع ہوتا ہے اور آخری پڑاؤ حسن آباد کے علاقے میں ہوتا ہے جہاں ہم سب ماتم کے لیے جمع ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’یہ ہمارے آباؤ اجداد کی 183 سال پرانی میراث ہے اور اس وقت سے ہم جلوس کے لیے کشتیاں استعمال کر رہے ہیں۔‘

منسلکات

العودة إلى الأعلى