مرجعیتِ اعلیٰ کے نمائندے کا قرآنی پروگراموں میں وسعت اور عملی تعلیم کے فروغ پر زور
مرجعیتِ دینی اعلیٰ کے نمائندے شیخ عبدالمہدی کربلائی نے قرآنی پروگراموں کو مزید مؤثر اور جامع بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن کریم کے حفظ، تلاوت اور تجوید کے ساتھ اس کے معانی و مفاہیم کے فہم، تدبر اور عملی زندگی میں اس کی تعلیمات کے نفاذ کو بھی یکساں اہمیت دی جانی چاہیے
انہوں نے واضح کیا کہ ایک حقیقی قرآنی شخصیت کی تشکیل محض آیاتِ قرآنی کے حفظ اور درست قرأت تک محدود نہیں، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کریم کے معانی و مفاہیم کو سمجھا جائے اور اس کی تعلیمات و اقدار کو اپنے کردار اور روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جائے
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایران کے شہر قم میں حرم امام حسین علیہ السلام کے زیر اہتمام منعقدہ قرآنی تدبر کے تربیتی کورس کے شرکاء سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس کورس میں عراق کے مقدس حرموں اور زیارت گاہوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی
شیخ کربلائی نے قرآنی پروگراموں کے معیار کو بلند کرنے کے لیے ایک جامع علمی و تربیتی حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جو قرآن کریم کے فہم و تدبر سے شروع ہو اور اس کی تعلیمات پر عملی زندگی میں عمل پیرا ہونے تک پہنچے
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کو حفظ کرنا اور اس کی تلاوت میں مہارت حاصل کرنا حاملانِ قرآن کے علمی سفر کی بنیادی ضروریات ہیں، تاہم ان کوششوں کا حقیقی مقصد قرآن کریم کی ہدایت سے استفادہ کرنا اور اسے زندگی کا دستور بنانا ہونا چاہیے
انہوں نے قرآنی آیات کے گہرے فہم و ادراک کے لیے ضروری اسباب فراہم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، جن میں قلبی پاکیزگی، اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق اور دنیاوی وابستگیوں سے آزادی شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ امور انسان کو قرآنی آیات کے دقیق معانی میں غور و فکر کرنے، ان میں پوشیدہ حقائق کو سمجھنے اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے آمادہ کرتے ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے حاملانِ قرآن کے لیے ایک جامع نصاب مرتب کرنا ضروری ہے، جس میں تدبر کے مصادر، طریقۂ کار، بنیادی عناصر اور مختلف مراحل کا تعین کیا جائے۔ اس کے ساتھ شرکاء کی عمر اور تعلیمی مراحل کو مدنظر رکھتے ہوئے علمی و معرفتی سطحیں بھی متعین کی جائیں، جن کا آغاز ابتدائی اور ثانوی تعلیم سے ہو کر جامعات کی سطح تک پہنچے، تاکہ فہم، تدبر اور عملی اطلاق کے مراحل ان کی علمی و فکری استعداد کے مطابق ہوں
شیخ کربلائی نے قرآنی سرگرمیوں میں توازن برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ توجہ صرف حفظ، تلاوت اور تجوید کے مقابلوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ قرآنی تدبر اور عملی زندگی میں اس کی تعلیمات کے نفاذ سے متعلق پروگراموں کو بھی یکساں اہمیت دی جانی چاہیے
اس مقصد کے لیے ماہر تربیت کاروں کی تیاری اور عراق سمیت دیگر ممالک میں خصوصی تربیتی حلقوں اور کورسز کا انعقاد ضروری ہے
آخر میں انہوں نے تاکید کی کہ آئندہ مرحلے میں ایسی قرآنی نسل کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے جو قرآن کریم کو حفظ کرنے کے ساتھ اس کے معانی و مفاہیم کو بھی سمجھے اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو، تاکہ قرآنی سرگرمیوں کا حقیقی ثمر ایک ایسی نسل کی صورت میں سامنے آئے جو قرآن کو اپنے فکر و کردار میں سمائے اور اس کی اقدار و تعلیمات کو عملی زندگی میں مجسم کرے


