ویٹیکن کے سفیر کی کربلا میں مرجعیتِ دینیہ اعلیٰ کے نمائندے شیخ عبدالمہدی کربلائی سے ملاقات

2026-10-28 13:31

اقوام کے درمیان رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، شیخ کربلائی

کربلا: مرجعیتِ دینیہ اعلیٰ کے نمائندے شیخ عبدالمہدی کربلائی نے اقوام کے درمیان رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف ادیان و مذاہب کے باوجود تمام آسمانی شریعتیں عدل، رواداری اور محبت کی اقدار کو فروغ دینے کی دعوت دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دینی اداروں کی ذمہ داری صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ لوگوں کی مشکلات کو سمجھنا، ان کے مسائل کا حل تلاش کرنا اور ان کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرنا بھی ان کی اہم ذمہ داری ہے

ان خیالات کا اظہار انہوں نے عراق میں ویٹیکن کے سفیراو پوپ کے نمائندے مونسینیور میروسواف فاخوفسکی سے ملاقات کے دوران کیا

شیخ عبدالمہدی کربلائی نے کہا کہ ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیے، کیونکہ عقیدہ اور عمل دونوں اہم ہیں اور عقیدہ عمل کی بنیاد ہے

انہوں نے کہا کہ مختلف ادیان و مذاہب کے باوجود اقوام کے درمیان رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں، کیونکہ ہمارا رب ایک ہے اور آسمانی شریعتیں عدل، رواداری اور محبت کی تعلیم دیتی ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمارا تعلق گہرا اورمضبوط ہونا چاہیے اوراسی طرح لوگوں کے ساتھ بھی ہمارا تعلق مستحکم ہونا ضروری ہے۔ دین کے تقاضے صرف لوگوں کو نماز اور روزے کی دعوت دینے تک محدود نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ ان کی مشکلات کا احساس کیا جائے، ان کے مسائل کو سمجھا جائے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں

مرجعیتِ دینیہ اعلیٰ کے نمائندے نے مزید کہا کہ زائرین کی خدمت ہماری بنیادی ذمہ داری ہے، تاہم عام لوگوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی مشکلات دور کرنا، صحت کی حفاظت، تعلیم کی فراہمی اور ان کی اخلاقی و روحانی تربیت کے لیے کوشش کرنا بھی ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے

انہوں نے وضاحت کی کہ اسی مقصد کے تحت مستحقین اور ضرورت مندوں کو بنیادی خدمات فراہم کی جاتی ہیں، ان کی رہائش اور تعلیم سمیت دیگر ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ ہنگامی حالات اور بحرانوں کے دوران انہیں امداد بھی فراہم کی جاتی ہے


منسلکات

العودة إلى الأعلى