افریقہ کے متعدد شہروں میں محرم الحرام کی مناسبت سے مجالسِ عزا کا اہتمام
محرم الحرام 1448ھ کی مناسبت سے افریقہ کے متعدد شہروں، بالخصوص نائجیریا اور جمہوریہ نائجر میں مجالسِ عاشورا کے انعقاد میں نمایاں وسعت دیکھنے میں آئی ہے
سید ابراہیم یعقوب زکزکی کی قیادت میں اسلامی تحریک کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی یہ مجالس 400 سے زائد شہروں اور قصبوں تک پھیل چکی ہیں، جو مغربی افریقہ میں اس مذہبی مناسبت کے بڑھتے ہوئے سماجی اور تنظیمی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہیں
یہ مجالس نائجیریا کی بیشتر ریاستوں، جن میں کادونا، کانو، کاتسینا، زمفارا، سوکوتو، یوبی، بورنو، اداماوا، باوچی اور لاگوس شامل ہیں، کے علاوہ دارالحکومت ابوجا میں بھی منعقد کی جا رہی ہیں
اسی طرح جمہوریہ نائجر کے شہروں مارادی، کونی اور نیامی میں بھی عاشورائی پروگرام منعقد ہو رہے ہیں، جس کے باعث یہ مناسبت ایک شہر یا صوبے کی حدود سے نکل کر علاقائی سطح اختیار کر گئی ہے
عاشورائی پروگرام صرف مجالسِ عزا اور دینی خطابات تک محدود نہیں، بلکہ ان میں مذہبی، ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کی ایک وسیع رینج بھی شامل ہے۔ ان پروگراموں میں واقعۂ کربلا کی منظرکشی، حسینی قصائد و مراثی، فکری و علمی نشستیں، نمازِ جماعت اور شرکاء میں نیاز کی تقسیم جیسے اقدامات شامل ہیں
مجالس میں پیش کیے جانے والے خطابات کا محور امام حسینؑ کی تحریک کے فکری اور اخلاقی پہلو ہوتے ہیں۔ مقررین قربانی، اصولوں پر استقامت، عدل و انصاف، ظلم کے خلاف مزاحمت اور حق پر ثابت قدمی جیسے موضوعات پر روشنی ڈالتے ہیں اور انہیں موجودہ مسلم معاشروں کو درپیش چیلنجز سے جوڑتے ہیں
رواں سال مجالسِ عاشورا کا یہ وسیع انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلامی تحریک سیکڑوں شہروں اور قصبوں میں بیک وقت پروگرام منعقد کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ دینی پیغام کی وحدت اور سرگرمیوں کے تنوع کو بھی برقرار رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محرم الحرام کا موسم نائجیریا اور نائجر میں اس تحریک کے پیروکاروں کے لیے اہم ترین مذہبی اور سماجی مواقع میں شمار ہوتا ہے
یہ بڑھتا ہوا دائرۂ اثر اس امر کی دلیل ہے کہ مغربی افریقہ میں عاشورا کی یاد اب محض ایک تاریخی واقعے کی یادگار نہیں رہی، بلکہ ایک سالانہ موقع بن چکی ہے جو دینی شعور، ثقافتی شناخت اور سماجی خدمت کو یکجا کرتے ہوئے امام حسینؑ کی عظیم تحریک کے اصلاحی اور حق پرستی کے پیغام کو زندہ رکھتی ہے


