عارفا بحقّہ : زیارتِ امام حسینؑ کی روح، معرفتِ امامت اور عملی پیروی کا پیغام
زیارتِ امام حسین علیہ السلام صرف چند قدم چل کر کربلا پہنچ جانے کا نام نہیں، نہ ہی یہ محض قبرِ مطہر کے سامنے حاضری دینے کا عمل ہے اگر ایسا ہی ہوتا تو روایات اس شرط کو بار بار اس قدر اہتمام کے ساتھ بیان نہ کرتیں
اہلِ بیت علیہم السلام نے زیارت کی عظیم فضیلت کو ہمیشہ ایک بنیادی شرط کے ساتھ وابستہ فرمایا ہے عارفاً بحقّہ یعنی زائر، امام حسین علیہ السلام کے حق کی معرفت رکھتا ہو۔ یہی وہ شرط ہے جو ایک عام زیارت کو عبادت، ایک سفر کو قربِ الٰہی اور ایک زائر کو جنت کا مستحق بنا دیتی ہے
روایات میں بارہا آیا ہے کہ جو شخص امام حسین علیہ السلام کی زیارت عارفاً بحقّہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے، اس کے لیے جنت واجب کر دیتا ہے اور اسے عظیم اجر و ثواب عطا فرماتا ہے
سوال یہ ہے کہ آخر عارفاً بحقّہ سے کیا مراد ہے؟ کیا صرف یہ جان لینا کافی ہے کہ امام حسین علیہ السلام رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے ہیں؟ یا صرف ان کی مظلومیت پر گریہ کرنا ہی اس معرفت کا نام ہے؟
ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام نے خود اس سوال کا جواب دیا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ معرفتِ حق سے مراد یہ ہے کہ انسان جانتا ہو کہ امام، اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ایسے پیشوا ہیں جن کی اطاعت تمام انسانوں پر واجب ہے۔ (یعنی وہ اللہ کی حجت، دین کے محافظ اور ہدایت کے چراغ ہیں۔) لہٰذا معرفت کا پہلا زینہ امامت پر صحیح عقیدہ ہے
روایت کے یہ الفاظ ہیں: یعلم انہ امام مفترض الطاعه من لا يحضره الفقيه، ج ۲، ص ۵۸۴
لیکن روایات کا گہرا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ معرفت صرف عقیدے کا نام نہیں
ایک نہایت اہم روایت میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ یقُولُ: مَنْ زَارَ الْحُسَینَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَارِفاً بِحَقِّهِ یأْتَمُّ بِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ. کامل الزيارات، ج ۱، ص ۱۳۹
ترجمہ :جو شخص امام حسین علیہ السلام کی زیارت اس حال میں کرے کہ ان کے حق کی معرفت رکھتا ہو اور ان کی اقتدا کرتا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دیتا ہے
یہ روایت اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ عارفاً بحقّہ کا لازمی تقاضا امام کی عملی اقتدا ہے
گویا حقیقی معرفت وہ ہے جو انسان کے کردار میں جھلکے، اس کی زندگی میں نظر آئے اور اس کے اعمال میں ظاہر ہو۔ جس معرفت کے بعد اطاعت نہ ہو، وہ صرف معلومات ہیں؛ جبکہ جس معرفت کے ساتھ پیروی ہو، وہی حقیقی معرفت ہے
اسی لیے عارفاً بحقّه دو عظیم ستونوں پر قائم ہے
اوّل: امام کی امامت اور ولایت پر کامل ایمان
دوم: امام کی تعلیمات، سیرت اور راستے کی عملی پیروی
امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا مقصد صرف سلام پیش کرنا نہیں، بلکہ یہ عہد کرنا ہے کہ جس مقصد کے لیے امام نے اپنا سب کچھ قربان کیا، ہم بھی اسی راستے پر ثابت قدم رہیں گے
اگر زیارت کے بعد بھی جھوٹ، ظلم، خیانت، گناہوں میں آلودگی، نماز میں غفلت اور حقوق العباد کی پامالی ہماری زندگی کا حصہ رہیں تو ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی میں عارفاً بحقّه ہیں؟
امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں صرف اپنی جان قربان نہیں کی، بلکہ حق، عدل، نماز، تقویٰ، عزتِ نفس اور انسانیت کی آزادی کے تحفظ کے لیے قیام فرمایا
لہٰذا ان کے حق کی معرفت یہ بھی ہے کہ ہم ان کی قربانی کے مقصد کو سمجھیں، دین کو دنیا پر مقدم رکھیں، باطل کے سامنے سر نہ جھکائیں اور اپنی عملی زندگی کو حسینی کردار کا آئینہ بنائیں
اسی حقیقت کو امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے مشہور ارشاد میں واضح فرمایا: عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ (عَلَيْهِ السَّلَامُ) فَقَالَ لِي: يَا جَابِرُ، أَيَكْتَفِی مَنْ يَنْتَحِلُ التَّشَیعَ أَنْ يَقُولَ بِحُبِّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ! فَوَاللَّهِ مَا شِيعَتُنَا إِلَّا مَنِ اتَّقَی اللَّهَ وَأَطَاعَهُ...الأمالي (للطوسی)، ج ۱، ص ۷۳۵
جابر کہتے ہیں:میں امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: اے جابر! کیا جو شخص اپنے آپ کو شیعہ کہتا ہے، اس کے لیے صرف یہ کہنا کافی ہے کہ وہ اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت رکھتا ہے؟ اللہ کی قسم! ہمارے شیعہ تو صرف وہ ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں
اے جابر! وہ صرف ان صفات کے ذریعے پہچانے جاتے تھے:عاجزی، خشوع، امانت داری، کثرت سے اللہ کا ذکر، نماز کی پابندی، روزہ رکھنا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، ہمسایوں، فقراء، مساکین، مقروضوں اور یتیموں کی خبرگیری، سچی گفتگو، قرآنِ کریم کی تلاوت، لوگوں کے بارے میں صرف خیر کی بات کرنا اور اپنی زبان کو ہر بری بات سے محفوظ رکھنا۔ نیز وہ اپنے قبیلے اور معاشرے میں ہر معاملے میں امانت دار سمجھے جاتے تھے
جابر کہتے ہیں:میں نے عرض کیا: اے فرزندِ رسولِ خدا! آج تو ہمیں اس وصف کا حامل کوئی شخص دکھائی نہیں دیتا
امام علیہ السلام نے فرمایا: اے جابر! مختلف نظریات تمہیں گمراہ نہ کر دیں۔ کیا کسی شخص کے لیے صرف یہ کہنا کافی ہے کہ میں علی علیہ السلام سے محبت کرتا ہوں اور ان کی ولایت کا قائل ہوں، جبکہ اس کے باوجود وہ عمل کرنے والا نہ ہو؟
اگر کوئی یہ کہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام علی علیہ السلام سے بھی افضل ہیں، پھر وہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی پیروی کرے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کرے، تو اس کی محض محبت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی
لہٰذا اللہ سے ڈرو اور اس چیز کے لیے عمل کرو جو اللہ کے پاس ہے۔ اللہ اور کسی انسان کے درمیان کوئی خاندانی رشتہ ایسا نہیں جو نجات کا ضامن ہو۔ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ معزز بندہ وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو
اللہ کی قسم! اللہ کا قرب صرف عمل کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے
ہمارے پاس جہنم سے نجات کا کوئی پروانہ نہیں، اور نہ ہی اللہ پر ہمارا یا کسی اور کا کوئی ایسا حق ہے جس کی بنیاد پر ہم اس سے کوئی دعویٰ کر سکیں
جو شخص اللہ کا فرمانبردار ہے، وہی ہمارا دوست اور ہمارا پیروکار ہے، اور جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے، وہ ہمارا دشمن ہے
اللہ کی قسم! ہماری ولایت صرف عمل کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے
یہی اہلِ بیت علیہم السلام کی حقیقی معرفت ہے۔ محبت، اطاعت کے بغیر ادھوری ہے، اور زیارت، پیروی کے بغیر بے روح
آج لاکھوں عاشقانِ حسین علیہ السلام کربلا کا رخ کرتے ہیں۔ یہ عظیم اجتماع یقیناً محبت و عقیدت کا بے مثال مظہر ہے، لیکن ہر زائر کو اپنے دل سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ کیا میں صرف زائر ہوں، یا واقعی امام کا پیروکار بھی ہوں؟ کیا میری زبان، میرا کردار، میری عبادت، میری معاشرت اور میری اخلاقی زندگی بھی امام حسین علیہ السلام کی تعلیمات کی ترجمان ہے؟
اگر اس سوال کا جواب اثبات میں ہے تو یہی عارفاً بحقّه کی منزل ہے، اور یہی وہ زیارت ہے جس کے بارے میں ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام نے مغفرت، شفاعت اور جنت کی بشارت دی ہے
پس آئیے! زیارتِ امام حسین علیہ السلام کو محض ایک رسم نہ بنائیں، بلکہ اسے اپنی زندگی کی اصلاح، اپنے ایمان کی تجدید اور امامِ مظلوم علیہ السلام سے وفاداری کے عہد میں تبدیل کریں۔ یہی معرفتِ حق ہے، یہی حقیقی زیارت ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو کربلا سے جنت کی منزل تک پہنچا دیتا ہے
اللّٰہم صلِّ علیٰ محمدٍ وآلِ محمدٍ وعجِّل فرجہم


