آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت پاکستان: امام حسینؑ ثقافتی سنٹر اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کے علمائے کرام کے وفد کی آمد

فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری

2026-06-13 09:13

مرجعیت اعلی کا فتویٰ محض ایک وقتی سکیورٹی ردِعمل نہیں بلکہ امت کی فکری اور تاریخی تبدیلی کا نقطہ آغاز تھا، نجف اشرف کے جید عالم دین کا عتبہ حسینیہ کے زیر اہتمام فتوی دفاع وطن فیسٹیول سے خطاب

حوزۂ علمیہ نجف اشرف کے ممتاز استاد، سید احمد اشکوری نے کہا ہے کہ مرجعِ دینیِ اعلیٰ حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی کا فتویٰ دفاعِ کفائی محض ایک وقتی یا ہنگامی سکیورٹی صورتحال کا عارضی حل نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا گہرا تاریخی، فکری  انقلاب تھا جس نے امت اور اس کی دینی قیادت (مرجعیت) کے مابین تعلق کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا

اس فتوے نے نہ صرف عراق کو بچایا بلکہ پوری انسانیت کو تاریخ کے خطرناک ترین تکفیری منصوبے سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا

ان خیالات کا اظہار انہوں نے عتبہ حسینیہ مقدسہ کے زیرِ اہتمام  منعقدہ تیسرے فتویٰ دفاعِ مقدس فیسٹیول  کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس باوقار تقریب میں مرجعیتِ دینیہ کے نمائندے علامہ شیخ عبدالمہدی کربلائی، حوزۂ علمیہ کے اساتذہ، جامعات کے پروفیسرز، محققین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتازعلمی و ثقافتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی

سید احمد اشکوری نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ یہ مبارک فتویٰ ایک روایتی شرعی حکم سے بڑھ کر ایک ہمہ گیر تہذیبی و اخلاقی تحریک  کی صورت اختیار کر گیا، جس نے انسانی وجود کا تحفظ کیا اورعراقی معاشرے کو انتشار، ٹوٹ پھوٹ اور زوال کے ہولناک خطرات سے بچایا

 انہوں نے واضح کیا کہ اس انتہائی نازک اور حساس ترین مرحلے میں مرجعیت اعلی نے غیر معمولی فقہی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امت کی ڈگمگاتی ہوئی سمت کو درست کیا، اور لوگوں کے اندر احساسِ ذمہ داری اور شرعی فریضے کی روح کو بیدار کیا

انہوں نے فتوے پر لگائے جانے والے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فتویٰ ٹھوس شرعی اور فقہی بنیادوں پر قائم تھا اور یہ کسی مخصوص گروہ، طبقے یا فرقے کے لیے نہیں تھا، بلکہ بلا تفریقِ مذہب و ملت تمام عراقی عوام اور قومیتوں کے دفاع کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تاریخی فتوے کو فرقہ وارانہ یا سیاسی مقاصد سے جوڑنا، مرجعیتِ دینیہ کے باضابطہ خطابات، اس کے عملی کردار، اور قانون کی بالادستی و ریاستی اداروں کی حمایت پر مبنی اس کی مستقل پالیسی کے سراسر منافی ہے

اشکوری نے فتوے کے نمایاں اوراسٹریٹجک نتائج پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں مقدس مقامات کا تحفظ ممکن ہوا، انتہا پسندانہ و تکفیری فکر کے پھیلاؤ کا راستہ روکا گیا، اور عراق کی تقسیم اور بیرونی سازشوں کے تمام منصوبے خاک میں ملا دیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس فتوے نے معاشرے میں شعور، بصیرت اورایمان جیسی اعلیٰ اقدار کو فروغ دیا، جنہوں نے بالآخر اس عظیم فتح و کامیابی کی بنیاد رکھی

انہوں نے مستقبل کے لائحہ عمل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دفاعِ مقدس  کی اس عظیم الشان داستان کو محض تاریخ کے صفحات میں دستاویزی طورپرمحفوظ کرنے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس فتوے کے پیغام اوراس کی لازوال اقدار کو فکری، ثقافتی اور تعلیمی سطح پر باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دیں

اپنے خطاب کے اختتام پر، سید احمد الاشکوری نے فتویٰ دفاعِ کفائی پر لبیک کہتے ہوئے ملک و ملت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے عظیم شہداء کی قربانیوں کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے مرجعیتِ اعلیٰ کے حکیمانہ کردار کو سراہا اور اس قومی و انسانی مناسبت کو زندہ رکھنے اور اس کے دائمی اثرات کو نسلِ نو تک پہنچانے کے لیے عتبۂ حسینیہ مقدسہ کی مخلصانہ کاوشوں کی دلی تعریف کی


منسلکات

العودة إلى الأعلى