کربلا: حرمِ حضرت عباسؑ نے 90 کلومیٹر طویل گرین بیلٹ منصوبے کا آغاز کر دیا

2026-08-09 07:53

حرمِ حضرت عباسؑ نے صحرائی پھیلاؤ کی روک تھام، ماحولیاتی بہتری اور زرعی رقبے میں اضافے کے لیے 90 کلومیٹر طویل گرین بیلٹ منصوبے کا آغاز کر دیا ہے، جس کے پہلے مرحلے میں تقریباً 10 لاکھ درخت لگائے جائیں گے

حرمِ حضرت عباسؑ کے سیکرٹری جنرل سید مصطفیٰ مرتضیٰ آل ضیاء الدین نے بتایا کہ زیارتِ اربعین کے اختتام کے بعد متولیِ شرعی حرمِ حضرت عباسؑ سید احمد الصافی کی ہدایات پر العوالی فارم میں گرین بیلٹ کی شجرکاری کا آغاز کیا گیا ہے۔ یہ فارم تقریباً 50 ہزار دونم رقبے پر محیط ہے

انہوں نے کہا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 90 کلومیٹر طویل گرین بیلٹ قائم کی جائے گی، جس میں اوسطاً 10 لاکھ درخت لگائے جائیں گے شجرکاری کے لیے استعمال ہونے والے پودے حرمِ حضرت عباسؑ کی اپنی نرسریوں میں تیار کیے گئے ہیں

سید آل ضیاء الدین نے کہا کہ عراق کی سرزمین میں زرعی صلاحیت کے وسیع امکانات موجود ہیں، اسی لیے متولیِ شرعی نے مختلف اجلاسوں میں زرعی شعبے کی ترقی، آبی وسائل کے تحفظ اور صحرائی علاقوں کو قابلِ کاشت بنانے پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے

انہوں نے کہا کہ عراق کے وسیع صحرائی علاقوں کو بھی سرسبز و آباد بنایا جا سکتا ہے، جس کے عملی نمونے مقدس مقامات کے زرعی منصوبوں میں موجود ہیں

الساقی فارم اور الفردوس فارم اس کی نمایاں مثالیں ہیں، جہاں کھجوروں کے وسیع باغات کے ساتھ مختلف دیگر فصلیں بھی کاشت کی جا رہی ہیں

ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام، زرعی ماہرین اور اس شعبے سے وابستہ افراد ملک کے زرعی وسائل کے مؤثر اور پائیدار استعمال کے لیے ایک جامع منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ گرین بیلٹ منصوبہ نہ صرف کربلا اور دیگر شہروں کے ماحول کو بہتر بنانے میں مدد دے گا بلکہ زرعی توسیع اور نئی زرعی زمینوں کی تیاری کی بنیاد بھی فراہم کرے گا

سید مصطفیٰ آل ضیاء الدین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عراق کی سرزمین کو آباد اور سرسبز بنانے کی یہ کوشش مسلسل جاری رکھی جائے گی

انہوں نے کہا کہ عراقی عوام اپنے ملک کی خدمت کے لیے محنت اور قربانی سے دریغ نہیں کرتے، اس لیے کامیابی کے حصول، کام کے تسلسل اور وطن کی آبادکاری کے لیے بھرپور جدوجہد جاری رکھنا ضروری ہے

المرفقات

العودة إلى الأعلى