آکسفورڈ میں القاعدہ اور داعش کے ہاتھوں تباہ شدہ عراقی آثارِ قدیمہ کی دستاویز پیش کر دی گئی
آکسفورڈ یونیورسٹی نے حرم امام حسین علیہ السلام کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ پر مشتمل وفد کی میزبانی کی، جو عراق میں دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں تباہ ہونے والے تاریخی مقامات کی دستاویز سازی پر کام کر رہا ہے
وفد کا استقبال جامعہ آکسفورڈ کے شعبۂ آثارِ قدیمہ میں تحفظِ آثار و ثقافت کے منصوبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بل فنلے نے کیا
اس موقع پر وفد نے گزشتہ دہائیوں کے دوران عراق کے ثقافتی و تاریخی مقامات کو پہنچنے والے نقصانات کی دستاویز بندی کے لیے حرمِ حسینی کی کاوشوں پر روشنی ڈالی
پروفیسر زین العابدین الجعفر، ڈاکٹر عقیل غالب الخریفاوی اور ڈاکٹر جعفر الجوذری نے مشترکہ طور پر عراق میں القاعدہ اور داعش کی جانب سے آثارِ قدیمہ کے مقامات کی تباہی کی دستاویز بندی کے عنوان سے تحقیقی مقالہ پیش کیا، جس میں انہوں نے متاثرہ تاریخی مقامات کے دوروں، معائنے اور اندراج کے پیچیدہ مراحل کو بیان کیا۔ بعد ازاں ایک جامع اور بھرپور مذاکرہ بھی منعقد ہوا
پروفیسر زین العابدین الجعفر اور ڈاکٹر غالب الخریفاوی نے نو جلدوں پر مشتمل تحقیقی مجموعہ ایمینا منصوبہ کی ٹیم کو پیش کیا، جو اب جامعہ کی لائبریری کے ذخیرے میں شامل کیا جائے گا
یہ کام جامعہ آکسفورڈ کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں خطرے سے دوچار آثارِ قدیمہ منصوبے سے گہرا تعلق رکھتا ہے، جس کا مقصد خطے بھر کے تاریخی مقامات کو درپیش خطرات اور نقصانات کی دستاویز بندی کرنا ہے
دونوں ٹیموں کے درمیان مستقبل میں معلومات کے تبادلے اور باہمی تعاون کے حوالے سے ابتدائی گفتگو بھی ہوئی
وفد کے اس دورے کی خبر جامعہ آکسفورڈ کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی شائع کی گئی، جو اس امر کی عکاس ہے کہ جامعہ آکسفورڈ اس نوعیت کے علمی و ثقافتی دوروں کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی نمایاں ہوتی ہے کہ ایک دینی ادارہ حرم امام حسین علیہ السلام عراق کے آثار، ثقافت اور قومی ورثے کے تحفظ میں مؤثر اور نمایاں کردار ادا کر رہا


