صہیونی حملے میں لبنانی صحافیوں کی شہادت پر وسیع پیمانے پر مذمت
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے میں المنار کے نامہ نگار علی شعیب اور المیادین چینل کی نامہ نگار فاطمہ فتونی شہید ہو گئیں، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید مذمت کا اظہار کیا جا رہا ہے
رپورٹس کے مطابق، شہیدہ صحافی فاطمہ فتونی نے اپنی آخری رپورٹ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا احاطہ کیا تھا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ جنوبی لبنان کے شہر الطیبہ میں اسرائیلی فوج کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا
لبنانی صدر جوزف خلیل عون نے صحافیوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی جارحیت بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، کیونکہ اس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے
انہوں نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جاری اس صورتحال کو روکا جائے، اور خبردار کیا کہ شہریوں اور صحافیوں پر حملے نہایت تشویشناک ہیں
ادھر لبنانی وزیر اطلاعات پال مرقص نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بار بار صحافیوں کو نشانہ بنانا میڈیا کے خلاف ایک دانستہ جنگی جرم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان حملوں کے ذمہ داران کا احتساب کیا جائے اور صحافیوں کو فرائض کی انجام دہی کے دوران مکمل تحفظ فراہم کیا جائے
خیال رہے کہ آج جنوبی لبنان پر اسرائیلی فوج نے حملہ کرکے 2 لبنانی صحافیوں سمیت 4 افراد کو شہید کردیا
عرب میڈیا کے مطابق، اسرائیلی حملے میں ایک لبنانی ٹی وی چینل کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں فاطمہ فتونی اور علی شعیب سمیت چار افراد شہید ہوئے



