عراق: انبار میں حشد الشعبی پرحملہ، 15 جوان شہید
صوبہ انبار میں حشد الشعبی کے مجاہدین پر امریکی و صہیونی فضائی حملے کے نتیجے میں 15 جوان شہید ہو گئے، جس کے بعد ان کے تشییع جنازہ کے مراسم کا آغاز ہو گیا۔ لاکھوں افراد نے شرکت کر کے شہداء کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا
تشییع جنازہ میں سیکیورٹی قیادت، مقامی حکام، عوام کی بڑی تعداد اور شہداء کے اہلِ خانہ نے شرکت کی۔ شرکاء نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پیاروں کی قربانیوں پر فخر کا اظہار کیا، جو انہوں نے ملک کے امن اور استحکام کے لیے پیش کیں
دوسری جانب، مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف محمد شیاع السودانی نے اس واقعے کے بعد وزارتی کونسل برائے قومی سلامتی کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی ہدایت جاری کی۔
مشترکہ آپریشنز کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ جارحانہ حملوں کا تسلسل اور ہماری بہادر سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور ایک سنگین جرم ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کارروائی عراق کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش ہے۔
قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس بزدلانہ حملے سے ہمارے سپاہیوں کے حوصلے پست نہیں ہوں گے بلکہ وہ مزید مضبوط اور متحد ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراق کی مسلح افواج کے مختلف یونٹس، قومیتوں، ادیان اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا خون اس سرزمین میں ایک ہو چکا ہے۔ شہداء کے لیے رحمت و مغفرت اور دائمی حیات، جبکہ انسانیت کے دشمنوں کے لیے رسوائی و ذلت ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایک بزدلانہ حملے میں حشد الشعبی کے 14 مجاہدین اپنے کمانڈر شہید سعد دواي کے ہمراہ شہید ہوئے تھے، جب دشمن نے آپریشن ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا تھا۔
حشد الشعبی نے اپنے بیان میں ان بہادر مجاہدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ جس طرح زندگی گزارے، اسی طرح مردانگی اور استقامت کے ساتھ شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ وہ قربانی کے راستے پر ثابت قدم، اپنے عہد کے وفادار اور عراق و اس کے عوام کے دفاع میں ہمیشہ پیش پیش رہے
تازہ واقعے میں انبار میں حشد الشعبی کے جوانوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 15 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ ایک منظم اور پہلے سے تیار شدہ منصوبے کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد ہماری سیکیورٹی فورسز کو کمزور کرنا تھا، تاہم یہ دشمن اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا



