کربلا: بین الحرمین میں نمازِ عید، مرجعِ اعلیٰ نے ایران اور لبنان میں متاثرین کی مدد کے لیے حقوقِ شرعیہ صرف کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے
کربلا معلیٰ میں بین الحرمین کے مقدس مقام پر نمازِ عید ہزاروں مؤمنین کی شرکت کے ساتھ ادا کی گئی، جس کی امامت جناب شیخ احمد الصافی نے کی
نمازِعید کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے شیخ احمد الصافی نے کہا کہ اگرچہ عید اپنے اندر خوشی اور مسرت کے پیغامات رکھتی ہے، مگر آج اہلِ ایمان کے دل اپنے دینی و انسانی بھائیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے باعث غم سے بوجھل ہیں
انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر خوشی سے تکبیریں بلند کر رہے ہیں، تو دوسری جانب معصوم بچوں کی چیخیں گونج رہی ہیں، غمزدہ ماؤں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں، اور ایران و لبنان میں پُرامن گھروں پر آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں
شیخ احمد الصافی نے اس ظالمانہ جنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام مؤمنین اور دنیا کے آزاد انسانوں سے اپیل کی کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کریں اور ایران و لبنان کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں
انہوں نے عالمی برادری، خصوصاً اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ اس جنگ کو فوری طور پر روکنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں
خطبے میں مزید کہا گیا کہ ایمان کا تقاضا محض قول نہیں بلکہ عمل اور ہمدردی ہے، اور موجودہ کٹھن حالات میں ہمارا دینی و انسانی فریضہ ہے کہ ہم اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں
انہوں نے بتایا کہ مرجعیتِ دینیۂ علیا نے خیر و برکت کا دروازہ کھولتے ہوئے ایران و لبنان کے متاثرین کی امداد کے لیے حقوقِ شرعیہ خرچ کرنے کی اجازت دی ہے، تاہم اس بات پر زور دیا کہ امدادی سرگرمیاں مستند ذرائع، جیسے مرجعیت کے دفاتر، کے ذریعے یا براہِ راست مستحقین تک پہنچائی جائیں
آخر میں انہوں نے کہا کہ عید کا دن اللہ تعالیٰ سے اپنے عہد کی تجدید، باہمی درگزر، صلۂ رحمی اور فقراء و مساکین کی خبرگیری کا بہترین موقع ہے
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے، اس کی طرف سے آسانی قریب ہے اور اس کی نصرت یقینی ہے


