حیدرآباد سندھ میں چہلمِ امام حسینؑ کے موقع پر منفرد موکب کا اہتمام
اربعینِ حسینی کی مناسبت سے موکبِ ثقلین (ع) کے زیر اہتمام خیمۂ قرآن و اہلبیتؑ کا انعقاد کیا گیا، جہاں نادر قرآنی نسخوں کی نقلیں تقسیم کی گئیں
قرآن اور اہلبیتؑ کا یہ ازلی و ابدی رشتہ کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔ اس موقع پر امام علیؑ، امام حسینؑ، امام زین العابدینؑ اور دیگر ائمہؑ کے ہاتھ سے لکھے گئے نادر قرآنی نسخوں کی نقول بھی زائرین کی زیارت کے لیے رکھی گئیں
جہاں سندھ بھر سے مومنین و مومنات قدمگاہِ مولا علیؑ کی جانب مشی کرتے ہوئے دسیوں مواکب سے گزرتے ہیں، وہیں ہر سال ایک منفرد حسینی موکب موکبِ ثقلین (خیمہ قرآن و اہلبیتؑ) کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے
اس موکب کی خاص بات یہ ہے کہ مدرسہ صراط الہی، ادارہ حفظ القرآن اور اسکول آف اہلبیتؑ کے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور معلمات مل کر پلاسٹک کورنگ کے ساتھ پرنٹ شدہ قرآنی صفحات ہاتھوں میں بلند کرتے ہوئے یہ صدا لگاتے ہیں آئیے عزادارو، آئیے جوانو، آئیے مومنو
نوکِ نیزہ پر قرآن کی تلاوت کرنے والے قاریِ قرآن، حضرت امام حسینؑ کو ایک صفحہ قرآن پڑھ کر ہدیہ پیش کریں، اور قرآن و اہلبیتؑ سے وابستگی کا عملی ثبوت دیں
اس روح پرور منظر میں بوڑھے، جوان، خواتین اور بچے سب شامل ہوتے ہیں اور ہزاروں عزادار ایک ایک صفحہ قرآن کی تلاوت کرکے امام حسینؑ، ان کے اصحاب اور شہدائے کربلا کی ارواح کو ہدیہ پیش کرتے ہیں۔ یہ منظر نجف اشرف سے کربلا تک کے مواکب کی یاد تازہ کر دیتا ہے اور دلوں کو سکون بخشتا ہے
اس موکب کا بنیادی مقصد حدیثِ ثقلین پر عمل کرتے ہوئے یہ پیغام دینا ہے کہ رہتی دنیا تک قرآن و اہلبیتؑ ساتھ ہیں اور ہمیں ہمیشہ ان دونوں سے جڑے رہنا ہے
دورانِ مشی جب وقتِ نمازِ ظہرین ہوا تو انہی نوجوانوں کی امامت میں باجماعت نماز بھی ادا کی گئی
منتظمین مدرسہ صراط الہی، ادارہ حفظ القرآن اور اسکول آف اہلبیتؑ کا کہنا تھا کہ اس موکب کا مقصد صرف یہ ہے کہ سب دیکھ سکیں کہ عزادارانِ حسینؑ کس طرح مشی کے دوران قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور قرآن و اہلبیتؑ کے عشق میں سرشار ہیں


