یونیورسٹی آف بلتستان، سکردو میں یومِ حسینؑ کانفرنس کا انعقاد
یونیورسٹی آف بلتستان، سکردو میں ساتویں سالانہ یومِ حسینؑ کانفرنس نہایت شایانِ شان اور پُروقار انداز میں منعقد ہوئی۔
یونیورسٹی آف بلتستان، سکردو میں ساتویں سالانہ یومِ حسینؑ کانفرنس نہایت پُروقار انداز میں منعقد ہوئی۔کانفرنس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نعیم طارق نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور یومِ حسینؑ کانفرنس کے اغراض و مقاصد کے ساتھ اس کے متوقع علمی و فکری ثمرات پر روشنی ڈالی۔
اس سال کانفرنس کا مرکزی عنوان کردارِ زینبیؑ رکھا گیا۔ مقررین نے اپنی تقاریر میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرتِ مبارکہ اور کردارِ حسینی کی عملی جہات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت زینبؑ کا کردار صبر، استقامت، جرات اور حق گوئی کا وہ روشن مینار ہے جو ہر دور کے انسانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں حقیقی اصلاح اور انقلابی اقدامات کے لیے فکرِ حسینی اور مقصدِ زینبیؑ سے رہنمائی لینا ناگزیر ہے۔ آج کا مسلمان طاغوتی نظام کے زیرِ سایہ فکری و عملی طور پر مفلوج ہوچکا ہے، قلوب غم سے بوجھل ہیں، اور امتِ مسلمہ دنیا بھر میں مظالم کا شکار ہے۔ اس صورتحال کا بنیادی سبب کردارِ حسینی سے دوری اور زبانی دعووں پر اکتفا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پرآشوب دور میں ہمیں فکرِ حسینی سے طاقت اور روشنی حاصل کرنی ہوگی، تاکہ ہم فکری و عقلی اعتبار سے اس قدر مضبوط ہوجائیں کہ ہمارے فیصلے، چاہے مشکل ہوں، اپنے اجتماعی مفاد اور اتحادِ امت کے تابع ہوں۔مقررین نے واضح کیا کہ اتحاد بین المسلمین کی عملی تصویر تب ہی سامنے آسکتی ہے جب ہم دل و جان سے دامنِ حسینؑ سے وابستہ ہوں۔ اہل بیتؑ اطہار تمام مسلمانوں میں اتحاد کا سب سے مضبوط رشتہ اور اولین سرچشمہ ہیں، اور امت کو اسی رشتے کو مرکز بنا کر آگے بڑھنا ہوگا۔
کلیدی مقررین میں حجۃ الاسلام والمسلمین سید رضی موسوی، مولانا احمد ترابی، علامہ اشرف علی تابانی، مفتی خالد محمود، خواجہ نجم، ڈاکٹر عبدالعزیز علی اور سید حسن شاہ شامل تھے، جنہوں نے امام حسینؑ کی سیرتِ مبارکہ اور کردارِ زینبیؑ کے مختلف پہلوؤں کو نہایت مؤثر، جامع اور مدلل انداز میں اجاگر کیا۔


