کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

سوئٹزرلینڈ نے قدیمی عراقی ثقافت کا نایاب نمونہ واپس کر دیا

2024-05-27 07:48

 سوئس وزیر خارجہ نے برلن میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران میسوپوٹیمیا سے تین اہم عراقی ثقافت کے نایاب نمونے اپنے عراقی ہم منصب کو واپس کر دیے

عراقی سرزمین پر بہتے دونوں دریاؤں دجلہ و فرات کے درمیانی علاقے کو تہذیبوں کا ’پالنا‘ قرار دیا جاتا ہے۔ اسی علاقے میں سمیری قوم کی ثقافت نے عروج پایا تھا۔ یہ تین ہزار قبل از مسیح کی بات ہے۔

 1,700 سے 2,800 تک کے نوادرات کو گزشتہ سال جنیوا میں فوجداری کارروائی کے دوران ضبط کیا گیا تھا اور یہ عراق کے لیے بہت اہمیت کے حامل تھے۔

 یہ نوادرات دو بڑے آشوری نوشتہ جات اور قدیم شہر ہاترا سے شاہی مجسمے کے ایک حصے پر مشتمل تھے۔

یہ نوادرات عراق میں سرکاری کھدائی کے دوران دریافت ہوئے تھے لیکن غیر قانونی طور پر ملک سے باہر منتقل کیے گئے تھے۔

 تاہم یہ کب منتقل ہوئے؟ یہ معلوم نہیں ہو سکا؟

بہرحال یہ نوادرات رسمی طور پر عراق کو واپس کر دیے گئے ہیں لیکن یہ نوادرات سوئٹزرلینڈ میں 7 جون کو وزارت ثقافت کے تحت ہونے والی نمائش تک وہاں رکھے جائیں گے۔

 واضح رہے کہ 2005 سے سوئٹزرلینڈ عراق کو اب تک پانچ نایاب قیمتی نوادرات واپس کر چکا ہے۔ سب واپس کیے جانے والے نوادرات میں سے، انکو اہم قیمتی نوادرات سمجھا جاتا ہے۔

العودة إلى الأعلى