کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

اربعین واک کی کہانی انگریز پادری کی زبانی

2024-05-02 03:40

2023 اربعین واک میں نجف اشرف سے کربلاء معلی پیدل آنے والے انگریز پادری اینڈریو تھامسن نے زائرین کو دی جانے والی خدمات کو انسانی بس سے باہر قرار دیا۔

تھامسن اپنے سفر کی کہانی میں لکھتا ہے کہ میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کے نواسے امام حسین علیہ السلام کے چہلم کی مناسبت سے اربعین واک 2023 میں دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں زائرین کے ساتھ نجف اشرف سے کربلاء معلی پیدل چلا۔

مسٹر تھامسن نے دنیا کے عظیم ترین مذہبی اجتماع کے عنوان سے اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ میں نے دیکھا اس واک میں دنیا بھر سے ہر رنگ و نسل اور ہر عمر کے لوگ ایک جذبے اور عشق سے چل رہے تھے۔

اس واک میں شریک 20 ملین سے زائد لوگوں کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ وہ پیدل کربلاء جا کر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کریں۔

 انگریز پادری لکھتے ہیں یہ میرا پہلا تجربہ تھا کہ میں مسلمانوں کے کسی مذہبی اجتماع میں شرکت کر رہا تھا۔

میں اپنے مذہبی لباس میں تھا مگر اس کے باوجود لوگوں نے جو محبت و پیار کا اظہار میرے ساتھ کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔ 

تاریخ کے اعتبار سے امام حسین علیہ السلام کے جانثاروں میں وہاب کلبی نامی ایک عیسائی جوان بھی تھا۔ اسی نسبت سے ان لوگوں نے میرا بےحد احترام کیا۔ لوگ جوق در جوق آ کر مجھ سے مصافحہ کرتے تھے۔ 

اس راستے میں سکیورٹی کے انتظامات بہترین تھے اور لوگوں کے کھانے پینے اور رہائش کا انتظام مفت تھا۔

 ہر ایک کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے ہاں سے کچھ کھائیں۔ مہمان نوازی کا یہ انداز دنیا کی کسی اور جگہ نہیں ہے۔ 


 تھامسن نے اپنے کالم کے آخر میں لکھا ہے کہ میں نے اسی واک کے دوران ہی یہ طے کیا تھا کہ میں اپنے اس یادگار سفر نامے کو لکھ کر دنیا کے سامنے عراقیوں کی عظمت اور امام حسین علیہ السلام کی قربانیوں کو پیش کروں گا ۔

العودة إلى الأعلى