کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

حرم امام حسین علیہ السلام نے انتہا پسندی کو کم کرنےکے لئے پیس کے نام سے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے

2024-04-24 08:07

مرکز البناء برائے فکری وثقافتی تحفظ اور کربلاء ٹی وی کے تعاون سے ایک جامع پروگرام پیس کے نام سے شروع کیا ہے جو حرم امام حسین علیہ السلام کے زیر اہتمام انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے منعقدہ دوسری بین الاقوامی کانفرنس میں زیر غور آیا تھا

مرکز البناء برائے فکری وثقافتی کے ڈائریکٹر اور کانفرنس کمیٹی کے رکن جناب شیخ علی قرعاوی نے کربلاء انٹرنیشنل نیوز ایجنسی کو ایک بیان میں بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد تشدد اور انتہا پسندی کے نقصانات کو مکالمہ اور ڈائیلاگ کے ذریعے خوش گوار ماحول میں آگاہی دینا مقصود ہے۔  اس پروگرام میں مختلف یونیورسٹیز کے پروفیسرز اور ممتاز مذہبی شخصیات کو مدعو کیا جائے گا تاکہ ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو جان سکیں۔

انہوں نے مزید کہا اس پروگرام کی میزبانی، الیکڑانک میڈیا کی ایک مضبوط شخصیت کرینگے جو کہ اس موضوع پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں اور سوالات کو ماحول کی مناسبت سے کرنا جانتے ہیں۔

 اس پروگرام کا پرومو جلد نشر کیاجائے گا۔

ہمیں امید ہے کہ یہ پروگرام معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان بہترین تعلقات کے استوار کرنے میں پُل کا کردار ادا کرے گا اور اعتدال کے ساتھ اپنی رائے کے اظہار کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم بنے گا ۔

قرعاوی نے کہا کہ اس مرکز کا مقصد ایک ایسے معاشرے کی تعمیر بھی ہے جس میں سماجی امن اور پرامن باہمی بقاء کے ساتھ ساتھ فرقہ واریت اور نفرت کی زبان کو مسترد کرنا ہے اور مل جل کر پیار و محبت کی زبان کو پروان چڑھانا ہے۔

مزید برآں عراقی عوام کے درمیان محبت کی فضاء کو قائم کرنا ہے جس کے لئے مختلف سیمنارز ،ورکشابس اور کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی

العودة إلى الأعلى