کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

نینوی میں امام منتظر علیہ السلام کی ولادت کا جشن

2024-02-29 10:03

مغربی نینوا میں الصادق الامین ثقافتی مرکز، جو عتبہ حسینہ کے شعبہ مذہبی امور سے منسلک ہے، نے ضلع تلعفر میں مواکب کے تعاون سے امام مہدی علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے موقع پر ایک پر مسرت جشن کا انعقاد کیا۔

کربلاء انٹرنیشنل ایجنسی کے نمائندے نے بتایا کہ اس تقریب میں علما، مبلغین، معززین اور ضلع تلعفر کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز قرآن مجید کی آیات کی تلاوت سے ہوا۔ یہ تلاوت اسلامی جمہوریہ ایران کے بین الاقوامی مہمان قاری حاجی عبدالکاظم الحیدری نے کی۔

 پھر مرکز کے مسئول شیخ خلیل علاوی کی تقریر تھی جس میں انہوں نے امام علیہ السلام کی ولادت کا تذکرہ کیا۔


 علیاوی نے زور دیا کہ تمام مذاہبِ اسلامی امام مہدی علیہ السلام کے وجود میں اختلاف کے باوجود ان پر ایمان اور یقین رکھتے ہیں کیونکہ یہ ایک اسلامی اور وجدانی مسئلہ ہے۔ مزید برآں انہوں نے تلعفر کے لوگوں کی قربانیوں اور دفاع کفائی کے فتویٰ پر ان کے لبیک کہنے کو بھی یاد کیا


 دریں اثنا، اس ضلع میں مرجعیت کے معتمد سید حسین اصلان برزنجی نے اپنی تقریر میں متنبہ کیا کہ معاشرے کو ان لوگوں کی طرف سے پیش کردہ چیزوں کی طرف متوجہ نہیں ہونا چاہیے جو امام علیہ السلام ظہور کے مسئلے میں شک پیدا کرتی ہیں اور مہدیت کے دعویٰ کرتے ہیں۔

 بتحقیق خدائی وعدہ آنے والا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ یہ خدائی قوانین کے تابع ہے اور لوگوں کے وقت کی تعیین سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔


 اس کے بعد شعراء اور قراء قصائد نے امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں عربی اور ترکمانی زبانوں میں اشعار اور قصائد سنائے اور اپنی آواز اور اشعار سے سب کو متاثر کیا۔


 تقریب کا اختتام شرکاء کی عزت افزائی اور تکریم سے کیا گیا۔

منسلکات

العودة إلى الأعلى