عراق کا ترکی سے بجلی کی درآمد 2000 میگاواٹ تک بڑھانے کا منصوبہ، اردن کے ساتھ معاہدہ ختم
عراق نے اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ترکی کے ساتھ بجلی کی درآمد بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت ترکی سے درآمد کی جانے والی بجلی کی مقدار 2000 میگاواٹ تک پہنچائی جائے گی
اس وقت عراق ترکی سے روزانہ 600 میگاواٹ بجلی درآمد کر رہا ہے، جبکہ اردن کے ساتھ بجلی کی درآمد کا معاہدہ گزشتہ ستمبر کے وسط میں ختم ہو چکا ہے
عراق کی وزارتِ بجلی نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بجلی کے رابطوں کے منصوبوں میں ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ قومی بجلی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ترکی، اردن، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے
وزارتِ بجلی کے ترجمان احمد ترکی جیاد نے بتایا کہ خلیجی بجلی رابطے کے منصوبے میں عراقی حصے کا تقریباً 98 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے
اس منصوبے کے تحت 500 میگاواٹ بجلی کی ترسیل کی گنجائش رکھی گئی ہے، تاہم کویت کی جانب سے کام ابھی باقی ہے
ان کے مطابق، خطے میں جاری حالات کے باعث کویتی حصے پر کام رک گیا ہے۔ وزارتِ بجلی کو امید ہے کہ کویتی حکام کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے، جس کے بعد منصوبے کی تکمیل کے لیے باقی کام بھی مکمل کر لیا جائے گا
دوسری جانب ترکی کے ساتھ بجلی کے رابطے کے حوالے سے احمد ترکی جیاد نے بتایا کہ وزیراعظم کے دورۂ ترکی کے دوران وزیرِ بجلی نے بجلی فراہم کرنے والی کمپنی سے مزید 300 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے اضافی بجلی قومی نظام میں شامل کر دی گئی ہے
انہوں نے کہا کہ عراق اس وقت ترکی سے روزانہ 600 میگاواٹ بجلی حاصل کر رہا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کے منصوبے کے تحت اس مقدار کو بڑھا کر تقریباً 2000 میگاواٹ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے
اردن کے ساتھ بجلی کی درآمد کے معاہدے کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ عراق کو اردن سے 50 سے 100 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی تھی، تاہم یہ معاہدہ گزشتہ ستمبر کے وسط میں ختم ہو گیا ہے
انہوں نے کہا کہ وزارتِ بجلی کو امید ہے کہ آئندہ سال موسمِ گرما میں معاہدے کی تجدید کر دی جائے گی، جس کے بعد اردن سے بجلی کی فراہمی دوبارہ شروع ہو سکے گی
سعودی عرب کے ساتھ بجلی کے رابطے کے منصوبے کے حوالے سے احمد ترکی جیاد نے بتایا کہ منصوبے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے اور سعودی حکام کے ساتھ مذاکرات بھی شروع ہو چکے ہیں
انہوں نے وضاحت کی کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں تقریباً 2000 میگاواٹ بجلی کی ترسیل کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ معاہدے پر دستخط کے بعد اس منصوبے کو مکمل کرنے میں تقریباً 24 ماہ لگنے کا اندازہ ہے
ترجمان نے مزید کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ بجلی کے رابطوں کے یہ منصوبے عراق میں بجلی کی پیداوار اور فراہمی بہتر بنانے کی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہیں
ان منصوبوں پر ملک کے اندر نئے بجلی گھروں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کام جاری ہے اور یہ عراق میں بجلی کی مقامی پیداوار بڑھانے کے متبادل نہیں ہیں


