نجف اشرف: مؤسسۂ وارث الانبیاء کے زیر اہتمام خطباء و مبلغین کی پہلی کانفرنس

2026-09-09 13:28

حرمِ امام حسین علیہ السلام سے وابستہ مؤسسۂ وارث الانبیاء للدراسات التخصصیہ فی نہضہ الحسینیہ کے زیر اہتمام خطباء و مبلغین کی پہلی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

یہ کانفرنس نجف اشرف میں دارالعلم للإمام الخوئی (قدس سرہ) کی خوبصورت مسجد میں وکان سعیکم مشکورا کے شعار اور خطباء المنبر الحسینی.. عطاءٌ خالدٌ کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس میں مختلف دینی اداروں کے سربراہان، حوزۂ علمیہ کے اساتذہ، خطباء و مبلغین اور دیگر علمی و دینی شخصیات نے شرکت کی

کانفرنس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد حوزۂ علمیہ کے ممتاز استاد سماحۃ السید منیر الخباز دام عزہ نے خطاب کیا

انہوں نے خطابت و تبلیغ کی اہمیت، مبلغِ دین کے مقام و مرتبے اور معاشرے کو درپیش مختلف فکری و سماجی چیلنجز پر روشنی ڈالی

انہوں نے بالخصوص عراق کو عالمی تشیع کا ایک اہم مرکز قرار دیتے ہوئے یہاں موجود مذہبی و معاشرتی چیلنجز کی اہمیت پر گفتگو کی اور نوجوانوں و معاشرے پر سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کی طرف بھی توجہ دلائی

سید منیر الخباز نے حسینی خطباء اور مبلغین کے لیے متعدد اہم نکات بیان کیے، جن میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، مسلسل تعلیم و مطالعہ، درس سے وابستگی، تبلیغی صلاحیتوں کی ترقی، حسنِ بیان اور معاشرے کی فکری، اعتقادی اور ثقافتی ضروریات و مسائل سے باخبر رہنا شامل ہیں

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر خطباء و مبلغین کی خدمات کو سراہتے ہوئے اللہ تعالیٰ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کے نزدیک ان کے مقام و منزلت پر بھی روشنی ڈالی

بعد ازاں دارالعلم للإمام الخوئی (قدس سرہ) کی جانب سے شیخ ثائر الساعدی نے خطاب کیا اور میدانِ تبلیغ میں مؤثر کردار ادا کرنے کے حوالے سے مفید نصائح اور رہنمائی پیش کی

اس کے بعد حرمِ امام حسین علیہ السلام اور مؤسسۂ وارث الانبیاء کی جانب سے شعبۂ تبلیغ کے سربراہ شیخ باقر الساعدی نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں تین اہم امور پر گفتگو کی۔ سب سے پہلے انہوں نے خطباء و مبلغین کی تبلیغی خدمات اور ان کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا، اس کے بعد اسلامی معاشروں بلکہ عمومی طور پر دینی معاشروں کو درپیش موجودہ چیلنجز کی نشاندہی کی

شیخ باقر الساعدی نے مؤسسۂ وارث الانبیاء کی جانب سے ایک اہم تجویز بھی پیش کی، جس کے تحت تبلیغی میدان میں درپیش مسائل اور چیلنجز کی ترجیحات متعین کرنے، ان کے مناسب حل تلاش کرنے اور حوزۂ علمیہ کے جید اساتذہ و متعلقہ ماہرین کی نگرانی میں ان حلوں کو مرتب کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ بعد ازاں ان تجاویز اور حلوں کو ایک مختصر کتابچے کی صورت میں شائع کرکے تبلیغی ایام اور مختلف تبلیغی مواقع سے قبل خطباء و مبلغین میں تقسیم کیا جائے

انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لیے حرمِ امام حسین علیہ السلام، خطباء اور مبلغین کے درمیان باہمی تعاون، مسلسل رابطے اور مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ عصرِ حاضر کے فکری، اعتقادی اور معاشرتی مسائل کا مؤثر انداز میں سامنا کیا جا سکے اور تبلیغِ دین کے میدان میں مزید مؤثر اقدامات اٹھائے جا سکیں

کانفرنس میں شریک علماء، اساتذہ، خطباء اور مبلغین نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے تبلیغی میدان میں باہمی تعاون اور تجربات کے تبادلے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا

واضح رہے کہ اپنی نوعیت کی اس پہلی کانفرنس میں خطباء و مبلغین کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی اور تقریباً ایک ہزار خطباء و مبلغین نے شرکت کی۔ اس موقع پر مؤسسۂ وارث الانبیاء کی جانب سے شائع کردہ بعض علمی و تحقیقی مطبوعات کے علاوہ حرمِ امام حسین علیہ السلام کی جانب سے تبرکی ہدیہ بھی تمام شرکاء میں تقسیم کیا

منسلکات

العودة إلى الأعلى