اعمال کا انجام :عارضی لذت یا دائمی اجر؟ امیرالمؤمنینؑ کی بصیرت افروز نگاہ میں
عقل مند وہ ہے جو چند لمحوں کی لذت کے بجائے دائمی سعادت کو اختیار کرے، نفس کی خواہش کے بجائے اللہ کی رضا کو ترجیح دے اور نیکی کی وقتی مشقت کو خوش دلی سے قبول کرے ،کیونکہ گناہ کی لذت ختم ہو جاتی ہے، مگر اس کا وبال باقی رہ سکتا ہے؛ جبکہ نیکی کی مشقت ختم ہو جاتی ہے، مگر اس کا اجر باقی رہتا ہے
قَالَ امام علیہ السلام :شتّانَ ما بَینَ عَمَلَینِ: عَمَلٍ تَذہَبُ لَذَّتُہُ وَتَبقٰی تَبِعَتُہُ، وَعَمَلٍ تَذہَبُ مَؤُونَتُہُ وَیَبقٰی أَجرُہُ
دو اعمال کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے! ایک وہ عمل ہے جس کی لذت ختم ہو جاتی ہے، لیکن اس کا وبال باقی رہتا ہے؛ اور دوسرا وہ عمل ہے جس کی مشقت ختم ہو جاتی ہے، لیکن اس کا اجر باقی رہتا ہے
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا یہ مختصر مگر جامع فرمان انسانی زندگی کی ایک بنیادی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ انسان ہر روز مختلف اعمال انجام دیتا ہے اور ہر عمل اپنے اندر ایک نتیجہ رکھتا ہے، بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں جو انجام دیتے وقت خوشگوار محسوس ہوتے ہیں، مگر ان کی لذت چند لمحوں کی ہوتی ہے، جبکہ بعد میں ندامت، خسارہ اور وبال باقی رہ جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں بعض اعمال ایسے ہیں جن میں ابتدا ہی سے مشقت محسوس ہوتی ہے، مگر وہ مشقت گزر جاتی ہے اور اس کے بدلے اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب باقی رہتا ہے
یہی دراصل نیک اور بد عمل کے درمیان بنیادی فرق ہے
گناہ کی طرف انسان اکثر اس لیے مائل ہوتا ہے کہ اس میں فوری لذت محسوس ہوتی ہے۔ حرام نگاہ، غیبت، غصہ، شہوت، حرام مال یا کسی ناجائز خواہش کی تکمیل انسان کو وقتی طور پر خوش کر سکتی ہے، لیکن یہ خوشی پائیدار نہیں ہوتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ لذت ختم ہو جاتی ہے، مگر اس عمل کے اثرات باقی رہ سکتے ہیں ، انسان دنیا میں اپنی عزت، اعتماد، سکون اور کردار سے محروم ہو سکتا ہے اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
اسی لیے امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بعض اعمال کی لذت ختم ہو جاتی ہے، مگر ان کا وبال باقی رہتا ہے۔ اگر انسان صرف عمل کے وقت کی لذت کو دیکھے تو شاید گناہ کو معمولی سمجھے، لیکن اگر وہ اس کے انجام پر نظر کرے تو حقیقت بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے۔ چند لمحوں کی خواہش کے مقابلے میں انسان کو اپنے مستقبل، اپنی شخصیت اور اپنی آخرت کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے
اس کے برعکس نیک عمل میں بسا اوقات انسان کو اپنی خواہش کے خلاف چلنا پڑتا ہے۔ نماز کے لیے آرام چھوڑنا، روزے میں بھوک اور پیاس برداشت کرنا، صدقہ کرتے ہوئے اپنے مال سے دست بردار ہونا، علم کے حصول کے لیے وقت اور محنت صرف کرنا، غصے کے باوجود معاف کر دینا اور حرام کے سامنے اپنے نفس کو روک لینا بظاہر مشقت محسوس ہوتا ہے، لیکن یہ مشقت دائمی نہیں ہوتی
اسی حقیقت کو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام ایک اور حکیمانہ فرمان میں یوں بیان فرماتے ہیں: اِنَّ الْجَنَّۃَ حُفَّتْ بِالْمَکَارِہِ، وَاِنَّ النَّارَ حُفَّتْ بِالشَّہَوَاتِ
بے شک جنت کو ناگوار اور مشقت والی چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے، جبکہ جہنم کو خواہشات سے گھیر دیا گیا ہے
انسانی نفس فوری لذت اور آسانی کو پسند کرتا ہے، جبکہ حقیقی کامیابی اکثر صبر، ضبطِ نفس اور قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنت کا راستہ انسان سے اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے کا مطالبہ کرتا ہے، جبکہ جہنم کی طرف لے جانے والے بہت سے راستے خواہشات کی پیروی سے کھلتے ہیں
یہاں اصل امتحان یہ ہے کہ انسان وقتی لذت کو ترجیح دیتا ہے یا دائمی انجام کو؟
جو شخص گناہ کی لذت کے مقابلے میں اس کے انجام کو دیکھتا ہے، وہ اپنے نفس کو روک لیتا ہے۔ اور جو نیکی کی مشقت کے مقابلے میں اس کے اجر کو دیکھتا ہے، وہ مشقت برداشت کر لیتا ہے۔ یہی بصیرت انسان کو مضبوط کردار عطا کرتی ہے۔
قرآن کریم اسی حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے مَا عِندَکُمْ یَنفَدُ وَمَا عِندَ اللّٰہِ بَاقٍ تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے
دنیا کی لذت، مال، جوانی، طاقت، شہرت اور زندگی سب محدود ہیں۔ کوئی بھی چیز یہاں ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔ لیکن اللہ کے لیے انجام دیا گیا نیک عمل، اس کا اجر اور اس کے مثبت اثرات اللہ کے ہاں باقی رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کے لیے اصل سرمایہ وہ نہیں جو وہ دنیا میں جمع کرتا ہے، بلکہ وہ ہے جو آخرت کے لیے آگے بھیجتا ہے
نیکی کا اثر صرف آخرت تک محدود نہیں رہتا۔ اچھا عمل انسان کے کردار کو سنوارتا ہے، دل کو سکون دیتا ہے، لوگوں کے درمیان عزت پیدا کرتا ہے اور زندگی کو مقصد عطا کرتا ہے۔ ایک سچا، امانت دار، بااخلاق اور خدا ترس انسان اپنی زندگی میں بھی عزت پاتا ہے اور اس کے جانے کے بعد بھی اس کی نیکی لوگوں کے دلوں میں باقی رہتی ہے
اس کے مقابلے میں بدعملی انسان کو بظاہر کچھ دیر کے لیے فائدہ یا لذت دے سکتی ہے، مگر رفتہ رفتہ اس کی شخصیت، عزت اور روحانی سکون کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یوں ایک چھوٹی سی خواہش کبھی بڑے خسارے کا سبب بن جاتی ہے
اس لیے انسان کو ہر عمل سے پہلے اپنے آپ سے ایک سوال کرنا چاہیے: اس عمل کا انجام کیا ہوگا؟ اگر آج کی لذت کل ندامت بن سکتی ہے تو اسے چھوڑ دینا ہی عقل مندی ہے، اور اگر آج کی مشقت کل دائمی اجر کا سبب بن سکتی ہے تو اسے قبول کرنا ہی کامیابی ہے۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا یہ فرمان دراصل ہمیں زندگی کا ایک سنہری اصول عطا کرتا ہے: عارضی لذت کے بدلے دائمی نقصان نہ خریدو، اور عارضی مشقت سے گھبرا کر دائمی اجر سے محروم نہ ہو
آخرکار ہر لذت ختم ہو جائے گی، ہر مشقت گزر جائے گی اور انسان اپنے اعمال کے ساتھ اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوگا۔ اس وقت نہ دنیا کی لذت باقی ہوگی اور نہ اس کے ظاہری اسباب؛ باقی وہی ہوگا جو اللہ کے لیے کیا گیا
پس عقل مند وہ ہے جو چند لمحوں کی لذت کے بجائے دائمی سعادت کو اختیار کرے، نفس کی خواہش کے بجائے اللہ کی رضا کو ترجیح دے اور نیکی کی وقتی مشقت کو خوش دلی سے قبول کرے
کیونکہ گناہ کی لذت ختم ہو جاتی ہے، مگر اس کا وبال باقی رہ سکتا ہے؛ جبکہ نیکی کی مشقت ختم ہو جاتی ہے، مگر اس کا اجر باقی رہتا ہے ۔ یہی امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے اس مختصر مگر گہرے فرمان کا اصل پیغام ہے


