کربلا: کیا آپ مخیمِ حسینی میں موجود بئرِ عباسؑ کے بارے میں جانتے ہیں؟

2026-07-13 07:42

وہ کنواں جس نے پیاس، وفا اور ایثار کی لازوال داستان اپنے دامن میں سمو رکھی ہے

مخیمِ حسینی میں واقع بئرِ عباسؑ آج بھی حضرت ابوالفضل العباسؑ کی بے مثال وفاداری، ایثار اور کربلا کے المناک واقعات کی خاموش گواہی دیتا ہے۔ یہ کنواں اہلِ بیتؑ کی عظیم قربانیوں اور خیمہ گاہِ حسینی میں پیاس کی دردناک یادوں کی ایک تاریخی نشانی سمجھا جاتا ہے

تاریخی مصادر، بالخصوص مؤرخ لوط بن یحییٰ کی معروف کتاب مقتلِ ابی مخنف کے مطابق، سات محرم کو جب یزیدی لشکر نے دریائے فرات تک لشکرِ حسینی کی رسائی مکمل طور پر روک دی اور خیمہ گاہ میں پیاس کی شدت بڑھ گئی، تو امام حسینؑ نے اپنے علمبردار بھائی حضرت ابوالفضل العباسؑ کو کنواں کھودنے کا حکم دیا

اگرچہ کئی مقامات پر کنویں کھودے گئے، مگر اس علاقے کی بلند سطحِ زمین کے باعث پانی نہ مل سکا۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ تمام کنویں مٹ گئے، لیکن ایک کنواں آج بھی مخیمِ حسینی کے قلب میں، محرابِ امام حسینؑ کے قریب محفوظ ہے۔ تقریباً دو میٹر گہرا یہ کنواں حفاظت کی غرض سے لوہے کی جالی سے ڈھانپا گیا ہے

صدیوں سے بئرِ عباسؑ غیر ملکی سیاحوں، مؤرخین اور مستشرقین کی توجہ کا مرکز رہا ہے، جنہوں نے اپنی سفری یادداشتوں میں اس کا تفصیلی ذکر کیا ہے

پرتگالی سیاح ٹیکسیرا (1604ء):

انہوں نے اپنی زیارت کے دوران لکھا کہ بئرِ عباسؑ سے بابرکت پانی نکلتا تھا اور زائرین اس سے تبرک حاصل کرتے تھے

جرمن سیاح کارسٹن نیبور (1765ء)

انہوں نے اس کنویں اور اس سے بہنے والے پانی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ پانی ایک بڑے تالاب کی صورت اختیار کر کے اطراف کے باغات تک پہنچ جاتا تھا۔ ان کے مطابق یہی وہ مقام تھا جہاں حضرت عباسؑ نے کنواں کھدوایا تھا، جبکہ مقامی باشندے خشک ہونے کے بعد دوبارہ پانی ظاہر ہونے کو ایک معجزہ تصور کرتے تھے

ایرانی سیاح ادیب الممالک (1856ء)

انہوں نے اپنی تحریروں میں بئرِ عباسؑ کو ایک معروف اور مقدس مقام قرار دیتے ہوئے لکھا کہ لوگ یہاں تبرک کی نیت سے پانی نکالتے، اس سے اپنے چہرے دھوتے اور حضرت امام حسینؑ کے قاتلوں پر لعنت بھیجتے تھے

بئرِ عباسؑ آج بھی زائرین کے لیے صرف ایک تاریخی کنواں نہیں، بلکہ وفاداری، صبر، ایثار اور کربلا کے ابدی پیغام کی ایک زندہ علامت ہے، جو ہر آنے والے کو حضرت عباسؑ کی عظیم قربانی اور اہلِ بیتؑ کی استقامت کی یاد دلاتی ہے

العودة إلى الأعلى