پاکستان: جامعہ المصطفیٰ العالمیہ کے زیرِ اہتمام 18ویں قرآن و حدیث مقابلوں کی پُروقار اختتامی تقریب

2026-09-06 12:10

اسلام آباد: جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان کی جانب سے ملک بھر میں منعقد ہونے والے 18ویں قرآن و حدیث مقابلوں کی اختتامی تقریب جامعہ الکوثر اسلام آباد کی مسجد میں نہایت پُروقار انداز میں منعقد ہوئی

اسلام آباد: جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان کی جانب سے ملک بھر میں منعقد ہونے والے 18ویں قرآن و حدیث مقابلوں کی اختتامی تقریب جامعہ الکوثر، اسلام آباد کی مسجد میں نہایت پُروقار انداز میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف دینی مدارس و مراکزِ قرآن سے تعلق رکھنے والے طلبہ و اساتذہ، علمائے کرام اور مختلف علمی و دینی شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب کا مقصد قرآن کریم، احادیثِ نبویؐ، معارفِ اہل بیتؑ اور اسلامی علوم کے مطالعے، حفظ اور ترویج کے ساتھ ساتھ دینی طلبہ میں علمی و قرآنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور انہیں صحت مند علمی و قرآنی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا تھا۔

تقریب سے وکیلِ مرجعیت علامہ شیخ انور علی نجفی نے بھی خطاب فرمایا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے قرآن کریم، حدیث اور اسلامی معارف کے ساتھ نوجوان نسل کے تعلق کو مضبوط بنانے اور دینی طلبہ کی علمی و قرآنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ایسے علمی و قرآنی مقابلوں کے انعقاد کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ قرآن کریم کے مطالعے، فہم اور عمل کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنائیں۔

ممبر اسلامی نظریاتی کونسل جناب افتخار حسین نقوی صاحب نے اپنے خطاب میں صحیفۂ سجادیہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صحیفۂ سجادیہ اسلامی معارف، اخلاق، تربیت اور روحانی تعلیمات کا ایک عظیم علمی و روحانی سرمایہ ہے، جس میں انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق گراں قدر رہنمائی موجود ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو صحیفۂ سجادیہ کے مطالعے اور اس کے معارف کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

جبکہ قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب نے بھی تقریب سے خطاب فرمایا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے قرآن و حدیث کے ان مقابلوں کے انعقاد کو سراہتے ہوئے جامعہ المصطفیٰ العالمیہ کے منتظمین اور اس علمی و دینی کاوش سے وابستہ تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم اور اسلامی معارف سے نوجوان نسل کو جوڑنے کے لیے ایسی علمی، قرآنی اور تربیتی سرگرمیوں کا انعقاد نہایت اہم اور قابلِ قدر ہے۔

جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان کی جانب سے ہر سال ملک کے مختلف علاقوں میں قرآن و حدیث کے یہ مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں دینی مدارس اور مراکزِ قرآن کے طلبہ بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ اس سال بھی ملک بھر کے تقریباً 277 مدارس و مراکزِ قرآن سے مجموعی طور پر 12947 طلبہ نے ان مقابلوں میں شرکت کی، جو قرآن و حدیث سے نوجوان نسل کی وابستگی اور دینی تعلیم کے فروغ کے حوالے سے ایک قابلِ تحسین امر ہے۔

رواں سال بھی مقابلوں کو بنیادی طور پر دو شعبوں ’’معارف‘‘ اور ’’فنون‘‘ میں تقسیم کیا گیا تھا، تاکہ طلبہ کی علمی استعداد کے ساتھ ساتھ ان کی قرآنی و دینی فنون میں عملی صلاحیتوں کو بھی سامنے لایا جا سکے۔

شعبۂ معارف کے تحت درج ذیل موضوعات شامل تھے:

  • تفسیرِ قرآن کریم
  • نہج البلاغہ
  • صحیفہ سجادیہ

جبکہ شعبۂ فنون میں درج ذیل اصناف میں طلبہ نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا:

  • ترتیلِ قرآن
  • قرأت
  • حفظِ قرآن
  • اذان
  • مناجات

ان مقابلوں کے ذریعے طلبہ کو نہ صرف قرآن کریم اور اسلامی معارف کے ساتھ گہرا تعلق پیدا کرنے کا موقع فراہم کیا گیا بلکہ تلاوت، قرأت، حفظ اور دیگر قرآنی و دینی فنون میں اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور انہیں ایک وسیع علمی و دینی ماحول میں پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔

اختتامی تقریب کے موقع پر مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ۴۲ پوزیشن ہولڈرز میں شیلڈز اور نقد انعامات تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر کامیاب طلبہ کی علمی و قرآنی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں مبارک باد پیش کی گئی اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ یہ نوجوان مستقبل میں بھی قرآن کریم، حدیث اور اسلامی علوم کے فروغ کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔

تقریب کے شرکاء نے مقابلوں کے انعقاد کو دینی طلبہ کی علمی و فکری تربیت کے لیے ایک اہم اور مفید قدم قرار دیا اور جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان کی انتظامیہ کو ملک بھر کے مدارس و مراکزِ قرآن کے طلبہ کو ایک مشترکہ علمی پلیٹ فارم فراہم کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

اختتامی تقریب کا ایک اہم اور خصوصی پہلو بزرگ عالمِ دین اور مبلغ مولانا اعجاز حسین نجفی کی علمی و تبلیغی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔اس موقع پر خصوصاً نہج البلاغہ کی ترویج و اشاعت اور اس کے معارف کو عام کرنے کے لیے مولانا اعجاز حسین نجفی کی تاحیات علمی و تبلیغی خدمات کو سراہا گیا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ نہج البلاغہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے خطبات، مکتوبات اور حکمتوں کا عظیم علمی و روحانی سرمایہ ہے، جس کے مطالعے اور تعلیم و ترویج کی آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔تقریب میں مولانا اعجاز حسین نجفی کی طویل عرصے پر محیط علمی، دینی اور تبلیغی خدمات کو قدر و تحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا اور ان کی نہج البلاغہ سے وابستہ خدمات کو نئی نسل تک اسلامی معارف کی منتقلی کے حوالے سے ایک قابلِ قدر علمی خدمت قرار دیا گیا۔

اختتامی تقریب میں شریک علمائے کرام، اساتذہ اور دینی شخصیات نے کامیاب طلبہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ قرآن کریم، حدیث اور معارفِ اہل بیتؑ کی تعلیم و ترویج کے لیے ایسی علمی و قرآنی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

المرفقات

العودة إلى الأعلى