عراق میں مذہبی سیاحت موجودہ حالات سے متاثر، معیشت پر بھی نمایاں اثرات
مذہبی سیاحت عراق کی معاشی ترقی کا اہم ذریعہ ہے، تاہم علاقائی کشیدگی، سکیورٹی کی صورتحال اور زائرین کی آمد میں کمی کے باعث یہ شعبہ ایک بار پھر مشکلات سے دوچار ہے
اس سے قبل کرونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران بھی عراق میں مذہبی سیاحت شدید متاثر ہوئی تھی
کربلا اور نجف اشرف عراق کے ان اہم شہروں میں شمار ہوتے ہیں جن کا مذہبی سیاحت کے ساتھ گہرا اور تاریخی تعلق ہے۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے بھائی حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ ہائے مبارک، جبکہ نجف اشرف میں امیرالمؤمنین حضرت امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کا روضہ مبارک واقع ہے، جہاں دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں زائرین حاضری دیتے ہیں
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ان مقدس مقامات کی زیارت دونوں شہروں کی معاشی سرگرمیوں کا ایک اہم محرک بن چکی ہے۔ زیارتی موسموں میں ہوٹلوں، ریستورانوں، بازاروں، ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروباری شعبوں میں نمایاں سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں، جبکہ زائرین کی آمد میں کسی بھی وجہ سے رکاوٹ پیدا ہونے پر ان شعبوں کی سرگرمیاں بھی تیزی سے متاثر ہوتی ہیں
لاکھوں زائرین، مضبوط معاشی سرگرمیاں
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، 2015ء میں اربعین کے موقع پر کربلا آنے والے زائرین کی تعداد تقریباً دو کروڑ تھی، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2019ء میں صرف غیر ملکی زائرین کی تعداد تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ رہی۔ ان میں تقریباً ایک تہائی زائرین ایران، خلیجی ممالک، پاکستان اور لبنان سے آئے تھے
تاریخی طور پر ایرانی زائرین دونوں شہروں میں آنے والے غیر ملکی زائرین کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل رہے ہیں
الجزیرہ نیٹ کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق، غیر ملکی زائرین میں ایرانی زائرین کا تناسب 80 فیصد سے بھی زیادہ رہا ہے
ہوٹلوں اور بازاروں پر براہِ راست اثر
زائرین کی بڑی تعداد نے مذہبی سیاحت سے وابستہ مختلف شعبوں پر براہِ راست اثر ڈالا ہے۔ خاص طور پر ہوٹلنگ، ریستوران، ٹرانسپورٹ اور مقامی تجارت میں زیارتی موسم کے دوران نمایاں تیزی دیکھی جاتی ہے
الجزیرہ نیٹ کے مطابق، کربلا میں 2003ء سے قبل ہوٹلوں کے کرائے انتہائی کم تھے، تاہم زائرین کی تعداد میں مسلسل اضافے کے بعد ہوٹل کے کمروں کے کرائے بڑھ کر فی رات دسیوں ڈالر تک پہنچ گئے
اہل البیت یونیورسٹی کی ایک علمی تحقیق کے مطابق، کربلا میں مذہبی سیاحت کی طلب کا اندازہ روزانہ آنے والے غیر ملکی زائرین کی تعداد سے لگایا جاتا ہے
معمول کے حالات میں یہ تعداد روزانہ 1500 سے 2000 کے درمیان رہتی ہے، جبکہ سکیورٹی کی صورتحال بہتر اور مستحکم ہونے پر یہ تعداد روزانہ 7000 سے 10000 زائرین تک پہنچ سکتی ہے
سیاحتی بنیادی ڈھانچے پر خطیر سرمایہ کاری
عراقی حکومت نے بھی مذہبی سیاحت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر اس شعبے کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے خطیر رقم مختص کی ہے
2024ء کے بجٹ میں کربلا اور نجف میں سیاحتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے تقریباً 620 ملین ڈالر مختص کیے گئے، جن میں 38 نئے ہوٹلوں کی تعمیر کے علاوہ سڑکوں، پانی اور نکاسیٔ آب کے نظام کی بہتری بھی شامل تھی
اسی رپورٹ کے مطابق، عراقی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ سیاحت کا شعبہ، جس میں مذہبی سیاحت کا نمایاں حصہ ہے، ملکی مجموعی پیداوار (GDP) میں تقریباً 3 فیصد حصہ ڈال رہا ہے، جبکہ حکومت مستقبل میں اس شرح کو 10 فیصد تک بڑھانے کی خواہاں ہے
اربعین کے چند دن، کروڑوں ڈالر کی معاشی سرگرمی
صرف اربعین کا زیارتی موسم، جو عموماً 7 سے 10 دن تک جاری رہتا ہے، کربلا اور نجف کی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے
درج ویب سائٹ کے مطابق، ایک ماہرِ شماریات و منصوبہ بندی کے بیان کی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ اربعین کے مختصر عرصے کے دوران کربلا اور نجف دونوں صوبوں سے حکومت کو تقریباً 300 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، جس میں 75 فیصد حصہ کربلا جبکہ 25 فیصد نجف کا ہوتا ہے
زائرین کی بڑی تعداد مقامی مصنوعات کی طلب میں بھی اضافہ کرتی ہے، جن میں کھجوریں، قالین، دستکاری کی اشیا اور مذہبی نوادرات شامل ہیں، جس سے مقامی تجارت، صنعت اور پیداوار کو فروغ ملتا ہے
مواکب حسینی بھی اس پورے معاشی و سماجی نظام میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کربلا اور نجف کے عوام زیارتی موسم کے دوران لاکھوں زائرین کے لیے مفت کھانے اور رہائش کا انتظام کرتے ہیں اور اسے قربِ الٰہی اور خدمتِ زائرین کا ذریعہ سمجھتے ہیں
دوسری جانب سرکاری ادارے زائرین کو مقدس مقامات تک پہنچانے اور وہاں سے واپس لانے کے لیے مختلف مفت سفری سہولیات فراہم کرتے ہیں
کرونا وبا:مذہبی سیاحت کے لیے بڑا دھچکا
عراق میں مذہبی سیاحت کو گزشتہ برسوں میں صرف سکیورٹی اور سیاسی حالات ہی سے چیلنجز کا سامنا نہیں رہا بلکہ کرونا وائرس کی عالمی وبا نے بھی اس شعبے کو شدید متاثر کیا
کرونا وبا کے دوران مختلف ممالک نے سفری پابندیاں عائد کیں، بین الاقوامی پروازیں محدود یا معطل ہوئیں اور مذہبی اجتماعات و زیارات پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس کے نتیجے میں کربلا اور نجف آنے والے غیر ملکی زائرین کی تعداد میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی
زائرین کی آمد رکنے سے ہوٹل، ریستوران، ٹرانسپورٹ، دکانیں اور دیگر زیارتی خدمات فراہم کرنے والے کاروبار شدید متاثر ہوئے
یوں کرونا وبا نے یہ واضح کر دیا کہ کربلا اور نجف کی معیشت مذہبی سیاحت اور بین الاقوامی زائرین کے بہاؤ سے کس قدر گہرا تعلق رکھتی ہے
علاقائی حالات کا براہِ راست معاشی اثر
موجودہ صورتحال میں بھی کربلا اور نجف کی معیشت خطے میں پیدا ہونے والی کسی بھی سکیورٹی یا سیاسی کشیدگی کے لیے انتہائی حساس دکھائی دیتی ہے
سال 2026ء میں خطے میں جنگ چھڑنے کے نتیجے میں ایران اور دیگر ممالک سے نجف اور کربلا آنے والے زائرین کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جس کے منفی اثرات تاجروں، ہوٹل مالکان اور دیگر کاروباری افراد پر بھی پڑے
بعد ازاں المدى کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں نجف کے ہوٹل مالکان نے بتایا کہ ہوٹلوں میں قیام کرنے والے مہمانوں کی شرح کم ہو کر تقریباً 10 فیصد رہ گئی
اس صورتحال کے باعث بعض ہوٹل مالکان کو اپنی عمارتوں کی کئی منزلیں بند کرنا پڑیں اور متعدد ملازمین کو فارغ کرنا پڑا
اسی اخبار کے مطابق، ایک مقامی عہدیدار نے بتایا کہ شہر کی ہوٹلنگ کی مجموعی گنجائش کا تقریباً 25 سے 30 فیصد حصہ، یعنی لگ بھگ 100 ہوٹل، جزوی یا مکمل طور پر بند ہوگئے
مقامی دکانداروں نے بھی بتایا کہ زائرین کی عدم موجودگی کے باعث سامان فروخت نہ ہونے سے تجارتی اشیا کا ذخیرہ بڑھ گیا اور مارکیٹ میں نقدی کی گردش کم ہوگئی
آمدنی کے ذرائع میں تنوع ناگزیر
ماہرین کے مطابق کربلا اور نجف میں مذہبی سیاحت کا دائرہ صرف ہوٹلوں اور ریستورانوں تک محدود نہیں بلکہ اس سے زراعت، تجارت، ٹرانسپورٹ، دستکاری اور دیگر متعدد شعبے بھی فعال ہوتے ہیں
شفق نیوز نے کربلا کے سیاحتی امور سے وابستہ ایک ماہر کے حوالے سے بتایا کہ زائرین کی آمد سے معیشت کے کئی شعبوں میں سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے
تاہم دونوں شہروں کا بڑے زیارتی موسموں پر تقریباً مکمل انحصار اور علاقائی سکیورٹی کی صورتحال کے باعث غیر ملکی زائرین کی تعداد میں اتار چڑھاؤ اس معاشی ماڈل کو غیر مستحکم بنا دیتا ہے
کرونا وبا اور موجودہ علاقائی کشیدگی دونوں اس بات کی مثال ہیں کہ بین الاقوامی زائرین کی آمد میں طویل یا اچانک رکاوٹ مقامی معیشت کو کس قدر متاثر کر سکتی ہے
ماہرین کے نزدیک آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانا اب ناگزیر ہوچکا ہے۔ عاشورا اور اربعین کے علاوہ سال کے دیگر اوقات میں خاندانی، ثقافتی، تاریخی اور داخلی سیاحت کو فروغ دے کر کربلا اور نجف کی سیاحتی سرگرمیوں کو پورے سال جاری رکھا جا سکتا ہے
اس طرح دونوں شہروں کی معیشت کو صرف بڑے زیارتی موسموں اور بیرونِ ملک سے آنے والے زائرین پر منحصر رکھنے کے بجائے زیادہ مستحکم اور پائیدار بنایا جاسکتا ہے



