ونڈسر انٹرنیشنل ڈائیلاگ 2026: نجف اشرف کا مذہبی ہم آہنگی اور انسدادِ دہشت گردی کا ماڈل عالمی فورم پر نمایاں

2026-07-19 15:21

برطانیہ میں بین الاقوامی مذہبی و ثقافتی مکالمے کی کانفرنس "ونڈسر انٹرنیشنل ڈائیلاگ 2026" منعقد ہوئی

برطانیہ کے تاریخی قلعۂ ونڈسر میں شاہ چارلس سوم کی سرپرستی میں منعقد ہونے والے ونڈسر انٹرنیشنل ڈائیلاگ 2026 میں عراق کے مذہبی تنوع، سماجی ہم آہنگی اور دہشت گردی کے خلاف کامیاب تجربے کو عالمی سطح پر نمایاں انداز میں پیش کیا گیا۔ اس بین الاقوامی فورم میں دنیا بھر سے مذہبی، سیاسی، سفارتی اور علمی شخصیات نے شرکت کی۔

اس موقع پر برطانیہ میں جمہوریہ عراق کے سفارت خانے کے نمائندے جناب مقداد النوری نے عراق کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی خطاب میں فرمایا کہ دہشت گردی اور داخلی چیلنجز کے باوجود عراق نے قومی اتحاد، مذہبی رواداری اور سماجی استحکام کے میدان میں قابلِ قدر کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں نجف اشرف کی مرجعیتِ دینیہ کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مرجعیتِ دینیہ نے ہمیشہ عراقی عوام کے خون کی حرمت، فرقہ واریت کے خاتمے، ضبطِ نفس، قومی یکجہتی اور سماجی امن کے فروغ پر زور دیا۔ اسی سلسلے میں 2014ء میں صادر ہونے والے فتویٰ دفاعِ کفائی کو دہشت گرد تنظیم داعش کی پیش قدمی روکنے میں ایک فیصلہ کن سنگِ میل قرار دیا، جس کے ساتھ انسانی قوانین کی پاسداری، شہریوں، عبادت گاہوں اور تمام مذہبی مقدسات کے تحفظ کی بھی مسلسل تاکید کی گئی

خطاب میں اس امر کو بھی اجاگر کیا گیا کہ مرجعیتِ دینیہ نے دہشت گردی سے متاثرہ افراد، بے گھر خاندانوں اور ضرورت مند شہریوں کی مذہبی، نسلی یا قومی تفریق کے بغیر بھرپور امداد اور سرپرستی کی۔ اسی طرح مسیحیوں، ایزدیوں، صابئی مندائیوں اور دیگر عراقی اقلیتوں کے تحفظ، ان کے حقوق کے دفاع، عبادت گاہوں کی تعمیرِ نو اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے ہمیشہ واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا

اور انہوں نے سنہ 2021ء میں نجف اشرف میں آیت اللہ العظمیٰ سید علی الحسینی سیستانی اور پوپ فرانسس کے درمیان ہونے والی تاریخی ملاقات کو بین المذاہب مکالمے، باہمی احترام اور انسانی اخوت کے فروغ کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا، جسے عالمی سطح پر امن و بقائے باہمی کی علامت کے طور پر تسلیم کیا گیا

انہوں نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے جرائم کی علمی و تاریخی دستاویز بندی کے لیے تیار کی جانے والی موسوعۂ انسدادِ انتہاپسندی کا بھی تعارف کرایا، جس میں دہشت گرد تنظیموں کے جرائم کو محفوظ کیا گیا ہے تاکہ قومی یادداشت برقرار رہے اور آئندہ نسلیں ان سانحات سے سبق حاصل کر سکیں۔ اسی تناظر میں نجف اشرف میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے جرائم کے دستاویزی عجائب گھر (میوزیم) کے منصوبے کو بھی پیش کیا گیا، جو متاثرین کی یاد کو محفوظ رکھنے اور دنیا بھر میں انتہاپسندی کے خلاف شعور بیدار کرنے کی ایک اہم کاوش ہے

اپنے خطاب میں انہوں نے داعش کے ہاتھوں مختلف عراقی طبقات پر ڈھائے جانے والے مظالم کا بھی ذکر کیا، جن میں تلعفر کے شیعہ ترکمان، ایزدی، مسیحی، صابئی مندائی اور دیگر عراقی شہری شامل ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی نے عراق کے تمام طبقات کو بلاامتیاز نشانہ بنایا، لہٰذا اس کے مقابلے کے لیے قومی اتحاد اور بین المذاہب تعاون ناگزیر ہے

عراقی وفد کی اس جامع اور مؤثر پیشکش کو مکالمے کے شرکاء نے بے حد سراہا۔ بعد ازاں تقریب کی منتظم تنظیم AMAR نے برطانیہ میں عراق کے سفیر کے نام ایک باضابطہ مراسلہ ارسال کیا، جس میں عراقی شرکت کو انتہائی مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اختتامی اجلاس میں پیش کیے گئے خیالات، خصوصاً نجف اشرف کے تجربے، مذہبی تنوع کے مؤثر انتظام، بین المذاہب مکالمے اور سماجی امن کے فروغ سے متعلق نکات کو شرکاء نے غیر معمولی پذیرائی دی اور انہیں عالمی سطح پر قابلِ تقلید ماڈل قرار دیا

المرفقات

العودة إلى الأعلى