حرمِ امام حسینؑ نے الثقلین کینسر اسپتال بصرہ میں مریضوں کے مفت علاج پر اب تک 65 ارب عراقی دینار خرچ کیے

2026-07-14 10:09

بصرہ: حرمِ امام حسینؑ کے زیرِ انتظام بصرہ میں قائم الثقلین اسپتال برائے علاجِ سرطان میں مئی 2024ء سے اب تک کینسر کے مریضوں کے مفت علاج پر 65 ارب عراقی دینار سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں

اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر علی سمیر عطوان الكنانی نے بتایا کہ حرمِ امام حسینؑ ہر ماہ اوسطاً 3 سے 3.5 ارب عراقی دینار ضرورت مند مریضوں کے علاج پر خرچ کرتا ہے۔ اس انسانیت دوست منصوبے سے عراق کے تمام صوبوں کے علاوہ ایران، یوکرین اور خلیجی ممالک سمیت دیگر ممالک کے مریض بھی مستفید ہو رہے ہیں

انہوں نے بتایا کہ اسپتال کے قیام کے بعد سے اب تک 15 ہزار 700 سے زائد مریضوں کا باقاعدہ اندراج کیا جا چکا ہے، جبکہ ایک لاکھ سے زائد مریض اور تیماردار اسپتال سے رجوع کر چکے ہیں اس دوران طبی عملے نے ایک ہزار سے زائد مختلف آپریشنز کیے، جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ لیبارٹری اور ریڈیالوجی ٹیسٹ بھی انجام دیے

ڈاکٹر الكنانی کے مطابق اسپتال نے وزارتِ صحت کے میڈیکل ایویکیوشن پروگرام کا اعتماد حاصل کر لیا ہے، جس کے تحت بیرونِ ملک بھیجے جانے والے 800 سے زائد کینسر مریضوں کا علاج عراق ہی میں کیا گیا

اسپتال میں ریڈیوتھراپی، نیوکلیئر میڈیسن، آیوڈین پر مبنی ہدفی علاج اور پروسٹیٹ کینسر کے لیے لوٹیشیم تھراپی جیسی جدید طبی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں

انہوں نے بتایا کہ بصرہ سے باہر سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے رہائش کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔ اسپتال میں روزانہ 170 سے 200 مریض بارہ تخصصی کلینکس سے استفادہ کرتے ہیں، جبکہ بصرہ میں دستیاب نہ ہونے والے ٹیسٹ وارث انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ برائے علاجِ سرطان (کربلا) کے تعاون سے مکمل کیے جاتے ہیں

ڈاکٹر الكنانی نے کہا کہ اسپتال اپنے دوسرے سال میں بھی تمام طبی خدمات مکمل طور پر بلا معاوضہ فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حرمِ امام حسینؑ کے متولیِ شرعی شیخ عبدالمہدی کربلائی نے افتتاح کے پہلے ہی دن ہدایت دی تھی کہ بچوں اور بڑوں سمیت تمام کینسر مریضوں کا علاج مکمل طور پر مفت کیا جائے اور اس کے تمام اخراجات حرمِ امام حسینؑ برداشت کرے

انہوں نے مزید کہا کہ اسپتال ایک مربوط طبی نظام کے تحت کام کر رہا ہے، جہاں تشخیص سے لے کر علاج تک تمام سہولیات ایک ہی مقام پر فراہم کی جاتی ہیں، تاکہ مریضوں کو کسی دوسرے اسپتال کا رخ نہ کرنا پڑے۔ جدید طبی آلات، جدید ٹیکنالوجی اور ماہر ڈاکٹروں و نرسنگ اسٹاف کی فراہمی بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے

انہوں نے بتایا کہ اسپتال کی کامیابی میں وارث انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ برائے علاجِ سرطان کے تجربات سے بھرپور استفادہ کیا گیا ہے۔ ہر مریض کا کیس مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جو عالمی طبی اصولوں کے مطابق علاج کا جامع منصوبہ مرتب کرتا ہے

اسپتال میں نفسیاتی معاونت کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ایک ماہر ٹیم، جس کی سربراہی امریکہ میں تجربہ رکھنے والا ڈاکٹر کر رہا ہے، مریضوں خصوصاً بچوں اور ان کے اہلِ خانہ کو نفسیاتی رہنمائی اور معاونت فراہم کرتی ہے

مزید برآں، ایمرجنسی شعبہ چوبیس گھنٹے فعال ہے، جبکہ آئندہ چند ہفتوں میں ایک نیا الیکٹرانک نظام متعارف کرایا جائے گا، جس کے ذریعے ہر وزٹ کے بعد مریضوں سے خدمات کے معیار کے بارے میں رائے لی جائے گی، تاکہ علاج اور طبی سہولیات کو مزید مؤثر اور بہتر بنایا جا سکے

المرفقات

العودة إلى الأعلى