کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

حرم امام حسین ع کی جانب سے شہداء کے ساتھ اظہارعقیدت اور یتیم

2024-07-03 09:34

سٹوڈنٹس کو خراج عقیدت پیش کیا گیا شہداء اور زخمیوں کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کے شعبہ نے کربلا میں حرم حسینی کے اندر خاتم الانبیاء آڈیٹوریم میں شہید اور زخمی ہونے والے جوانوں کے پچوں کے اعزاز میں ایک خوبصورت پروگرام منعقد کیا گیا جس میں حرم کے نمائندے ،مذہبی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے علاوہ سکول کے اساتذہ اور کارکنان نے شرکت کی

اس شعبہ کے سربراہ جناب احمد رسول فرحان نے کربلا انٹرنیشنل نیوز ایجنسی کو ایک بیان میں کہا کہ ہمارا شعبہ مرجع دینی اعلی آیت اللہ العظمی سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ الوارف کے فتوی پر لبیک کہتے ہوئے بد نام زمانہ داعش کے خلاف جنگ میں شہید اور زخمی ہونے والے جوانوں کے پچوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرتا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ حرم امام حسین علیہ السلام ہمیشہ سے انسانیت کی فلاح و بہبود اور شرح خواندگی کو بڑھانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔

ہم دفاع وطن اور مقامات مقدسہ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے پیاروں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انکی تعلیم و تربیت کے لیے تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حرم امام حسین علیہ السلام کا جنرل سیکرٹریٹ عراق کے ہر علاقے میں ایک ایسا تعلیمی سیٹ اپ قائم کر رہا ہے جہاں پر یتیموں کی تعلیم و تربیت کا بہترین نظام ہوگا اور یہ بچے بغیر کسی احساس کے تعلیم حاصل کریں گے اور بالغ ہونے تک ان کی کفالت کا انتظام کیا جائے گا تاکہ وہ اس معاشرے کا ایک سود مند فرد ثابت ہو کر قوم و ملت کی خدمت کریں

آج ہم نے کربلاء اور بابل کے کچھ شہداء کی صالح اولادوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے دلوں میں خوشی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں یہ احساس دلانے کے لیے کہ وہ معاشرے اور عتبات عالیہ میں ایک خاص مقام اور عظیم مقام رکھتے ہیں

منسلکات

العودة إلى الأعلى