کربلا میں قائم ’’مجمعُ الفقراء‘‘ رہائشی منصوبے کے بارے میں تفصیل سے جانیے۔ عراق : طبی دنیا میں ایک منفرد اور غیر معمولی کامیابی، حرم امام حسینؑ کے زیر انتظام اسپتال میں بیک وقت جگر کی دو کامیاب پیوندکاریاں عید الاضحیٰ پر العین فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک لاکھ عراقی یتیم بچوں میں عید کے کپڑوں کی تقسیم مرجعِ اعلیٰ کے نمائندے کا صحنِ عقیلہ زینبؑ کا دورہ، تعمیراتی کام کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا ذی قار میں یتیم بچوں کے لیے جدید تعلیمی کمپلیکس کی تعمیر جاری پاکستان: امام حسین ثقافتی سنٹر اسلام آباد کے وفد کی سابق امیرِ جماعتِ اسلامی جناب سراج الحق صاحب سے ملاقات۔ میناب کے شہداء کے لواحقین سے مرجعِ اعلیٰ کے نمائندے کی ملاقات، صبر و تسلیت کا پیغام کربلاء سیّاحوں کی نگاہ میں حرمِ امام حسینؑ کا فلاحی ہاؤسنگ منصوبہ، ضرورت مند خاندانوں کے لیے امید اسلام آباد: وفاقی وزیرِ مذہبی امور جناب سردار محمد یوسف صاحب سے امام حسین ثقافتی سنٹر اسلام آباد کے وفد کی اہم ملاقات

پاکستان کے ایک گاؤں میں شیعہ و سنی وحدت کا شاندار مظاہرہ

2024-04-16 12:54

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ایک علاقے مانسہرہ میں شیعہ و سنی ایک ہی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں

پاکستان کے علاقہ مانسہرہ کے پیراں گاؤں کی جامع مسجد "امام حسین "میں مذہبی رواداری کا یہ رنگ دہایوں سے دیکھنے والوں کے لیے شاندار نظارہ پیش کرتا ہے۔

اس جامع مسجد میں شیعہ و سنی گذشتہ کئی عرصے سے نماز ادا کر رہے ہیں ،نہ کوئی کسی کو کافر کہتا ہے اور نہ خارجی۔

شیعہ عالم دین مولانا مظہر علی شاہ کا کہنا ہے کہ اس جامعہ مسجد میں گذشتہ تیرہ سال سے پیار و محبت کا یہ رشتہ قائم و دائم ہے۔ 

یہ مسجد ہمارے گاؤں کی قدیمی مسجد ہے اور یہ شیعہ اور سنی دونوں مسالک کی مشترکہ مسجد ہے۔

 یہاں پر دونوں کی جماعت کا اہتمام ہوتا ہے۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے یعنی گذشتہ تیرہ سالوں سے کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔

جب ہمارا دین اور قرآن ایک یے تو اختلاف کس بات کا۔ اگر پورے پاکستان میں اسطرح کا ماحول بن جائے تو پاکستان امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

دوسری جانب سنی عالم دین مولانا محمد آصف کا کہنا ہے یہ مسجد میری پیدائش سے پہلے کی ہے اور میں دیکھتا آیا ہوں یہاں پر الحمدللہ دونوں مسالک کے لوگ آتے ہیں اور اپنے اپنے مقررہ وقت پر اپنے مسلک کے مطابق نماز پڑھتے ہیں۔

 الحمدللہ ثم الحمد نہ یہاں پر آج تک ایسا کوئی ناخوشگوار واقعہ کبھی پیش نہیں آیا اور نہ ہی کبھی فرقہ وارانہ گفتگو ہوتی ہے۔ 

جبکہ علاقہ کے بزرگ شہری جناب سید اعجاز کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں موجود تمام مسلمان گذشتہ کئی صدیوں سے اسی مسجد میں نماز پڑھتے آرہے ہیں۔ البتہ ابھی اس علاقے میں اور مساجد اب تعمیر ہوئی ہیں لیکن نئی مساجد اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ آبادی میں اضافے کے سبب بنائی گئی ہیں۔ اور لوگوں کے مسجد سے دور مقیم ہونے کی وجہ سے، آنے میں دشواری ہوتی ہے، اس لئے قریب میں ہی لوگوں نے مسجد بنائی ہے کیونکہ یہ علاقہ پہاڑی ہے اور یہاں پر خاص کر سردیوں میں بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ سنی عالم دین شیعہ عالم کا شاگرد ہے اور اسی مسجد کے پلیٹ فارم سے مختلف رفاہی و فلاحی کام بھی ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔

مزید برآں جمعہ کی نماز کے بعد معاشرے کی بہتری اور تعمیر کے لیے، ہر کام اسی مسجد سے ہی ہوتے ہیں۔

جہاں پر ہر وقت انتشار و فرقہ واریت کی خبریں آتی ہوں ایسے میں یہ پاکستان کے لیے ایک رول ماڈل مسجد ہے جو اس ملک کو امن کا گہوارہ بنا سکتی ہے۔

اور یہ امید بھی کی جا سکتی ہے مستقبل قریب میں ہر علاقہ یہ ماحول بنانے کی کوشش کرے گا۔

العودة إلى الأعلى