احیاءِ امرِ الٰہی کے بنیادی اصول: تعلیماتِ اہل بیت ؑ کی روشنی میں
امام رضا علیہ السلام کا یہ نورانی فرمان رحم اللہ عبدا احیا امرنا درحقیقت مکتب اہل بیت علیھم السلام کی روح اور اس کے تسلسل کی بنیاد ہے یہ جملہ صرف ایک دعا نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری کا اعلان ہے
احیاء امر کا مفہوم صرف ذکر و بیان تک محدود نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت عملی جدوجہد ہے، جس میں فکر، عمل، اخلاق، اور اجتماعی ذمہ داری سب شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی پوری زندگی اسی امرِ الٰہی کے احیاء اور نفاذ میں گزری
امام حسین علیہ السلام کا قیام کربلا بھی اسی سلسلے کی ایک درخشاں کڑی ہے۔ جب آپ مدینہ سے نکلے تو فرمایا اَسِیرُ بِسِیرَةِ جَدِّی وَ أَبِی یعنی میں اپنے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنے والد امیر المؤمنینؑ کی سیرت پر چلتے ہوئے قیام کر رہا ہوں۔ اس جملے میں درحقیقت احیاء امرکا مکمل نقشہ موجود ہے، کیونکہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و علی علیہ السّلام دراصل امرِ خدا کے نفاذ کا عملی نمونہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ انسان کن اصولوں پر عمل کر کے اس عظیم ذمہ داری کو ادا کر سکتا ہے؟ اس کا جامع اور مختصر جواب امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے اس حکیمانہ فرمان میں موجود ہے جو نہج البلاغہ میں کلمات قصار کے باب میں مذکور ہے:
یعنی اللہ کے امر کو وہی قائم کر سکتا ہے جو نہ مداہنت (نرمی و ظاھر داری نہ برتے) کرے، نہ کمزوری دکھائے، اور نہ ہی خواہشات و طمع کے پیچھے چلے یہ فرمان درحقیقت “احیاء و نفاذ امر” کے تین بنیادی اصولوں کو واضح کرتا ہے، جو کسی بھی فرد یا معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہیں
سب سے پہلا اصول
عدمِ مصانعت حق کے معاملے میں مداہنت اور ظاہرداری سے اجتناب
مصانعت کا مطلب ہے حق کو چھپانا، حالات کے مطابق اپنا موقف بدل لینا، یا لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اصولوں پر سمجھوتہ کرنا۔ یہ وہ بیماری ہے جس نے ہمیشہ حق کے راستے میں رکاوٹ ڈالی ہے تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی نے حق کو مصلحتوں کے پردے میں چھپایا، وہ خود بھی گمراہ ہوا اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا
احیاء امرِ الٰہی و نفاذ امر الہی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حق کو بغیر کسی خوف اور مصلحت کے بیان کرے۔ اگر کوئی عالم، مبلغ یا رہنما لوگوں کی خوشنودی کے لیے دین میں تبدیلی کرے یا حقائق کو چھپائے تو وہ درحقیقت احیاء امر کے بجائے اماته امر (امر کو مردہ کرنے) کا سبب بن رہا ہے
امام حسین علیہ السلام نے اسی اصول کی بنیاد پر یزید جیسے فاسق و فاجر حکمران کی بیعت سے انکار کیا۔ اگر آپ چاہتے تو وقتی طور پر خاموش رہ کر اپنی جان بچا سکتے تھے، مگر یہ مصانعت ہوتی، جو آپ علیہ السلام کے نزدیک ناقابل قبول تھی۔ آپ علیہ السلام نے واضح فرمایا کہ مثلی لا یبایع مثلہ میرے جیسا شخص اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔ یہی عدمِ مصانعت احیاء امر کا پہلا زینہ ہے
دوسرا اصول
عدمِ مضارعت کمزوری اور بزدلی سے اجتناب
مضارعت کا مطلب ہے کمزوری دکھانا، خوفزدہ ہونا، یا حق کے مقابلے میں پیچھے ہٹ جانا۔ امرِ خدا کے نفاذ کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ خوف ہے چاہے وہ جان کا خوف ہو، مال کا خوف ہو، یا عزت و مقام کا خوف
جو شخص امرِ الٰہی کو زندہ کرنا چاہتا ہے، اسے شجاعت اور استقامت کا پیکر بننا ہوگا اسے یہ یقین ہونا چاہیے کہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، نہ کہ لوگوں کے۔ جب یہ یقین دل میں راسخ ہو جائے تو انسان کسی طاقت سے نہیں ڈرتا
کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب نے اسی اصول کا عملی مظاہرہ کیا۔ ایک طرف یزیدی لشکر کی کثرت، اور دوسری طرف اہل بیت علیہم السلام کی قلیل تعداد مگر کسی کے چہرے پر خوف کا اثر نہیں تھا۔ بلکہ حضرت شہزادہ قاسم علیہ السلام سے امام نے پوچھا کہ موت آپ کے نزدیک کیسا عمل ھے تو جواب دیا احلی من العسل شہد سے بھی میٹھا ھے۔ اسی طرح حضرت حبیب بن مظاہر، حضرت مسلم بن عوسجہ، اور دیگر اصحاب نے ثابت کیا کہ جب مقصد الٰہی ہو تو کمزوری کی کوئی گنجائش نہیں رہتی
آج کے دور میں بھی اگر ہم امرِ خدا کو نافذ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں حق بات کہنے کی جرات پیدا کرنی ہوگی۔ ظلم، ناانصافی، اور باطل نظاموں کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی، چاہے اس کے لیے ہمیں مشکلات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے
تیسرا اصول
عدمِ اتباعِ مطامع حرص و طمع سے اجتناب
یہ اصول درحقیقت پہلے دو اصولوں کی جڑ ہے کیونکہ اکثر اوقات انسان مصانعت اور مضارعت کا شکار اسی وقت ہوتا ہے جب وہ دنیاوی مفادات کا اسیر ہو جاتا ہے مال، منصب، شہرت، اور خواہشات یہ سب انسان کو حق سے دور کر دیتے ہیں۔
حرص و طمع انسان کی بصیرت کو اندھا کر دیتی ہے۔ وہ حق و باطل میں فرق نہیں کر پاتا، اور اپنے مفادات کے لیے ہر قسم کا سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ یہی وہ بیماری تھی جس نے بہت سے لوگوں کو کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا ساتھ دینے سے روک دیا
عمر بن سعد اس کی واضح مثال ہے وہ جانتا تھا کہ حق امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہے، مگر شہر رے کے گورنری کی طمع نے اسے باطل کے ساتھ کھڑا کر دیا یہی طمع انسان کو اس مقام تک گرا دیتی ہے کہ وہ اپنی آخرت تک بیچ دیتا ہے
اس کے برعکس، جو شخص طمع سے آزاد ہو جاتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں آزاد انسان ہوتا ہے۔ ایسا انسان نہ بک سکتا ہے، نہ جھک سکتا ہے، اور نہ ہی دبایا جا سکتا ہے۔ وہ صرف خدا کا بندہ ہوتا ہے، اور اسی کی رضا کو اپنا مقصد بناتا ہے۔ جیساکہ حضرت حر بن یزید ریاحی جب آپ نے حق کی پہچان و معرفت حاصل کی اور پھر دینا کی تمام جاہ ومنصب سے آذاد ھوکر اور طمع و لالچ کو ٹھوکر مارکر حق کے لشکر سے ملحق ھوئے اور رہتی دنیا کو بتایا کہ وہ دنیا و آخرت میں آزاد انسان ہے
احیاء امرِ الٰہی کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور دنیاوی خواہشات کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دے۔ قناعت، زہد، اور تقویٰ وہ صفات ہیں جو انسان کو اس راہ میں ثابت قدم رکھتی ہیں۔
ان تین بنیادی اصولوں عدمِ مصانعت، عدمِ مضارعت، اور عدمِ اتباعِ مطامع کو اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ ایک مکمل نظامِ حیات کی بنیاد فراہم کرتے ہیں یہ اصول فرد کی اصلاح بھی کرتے ہیں اور معاشرے کی تعمیر بھی
جب ایک فرد حق پر ثابت قدم ہوتا ہے، کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرتا، اور دنیاوی مفادات سے بالاتر ہو جاتا ہے، تو وہ خود بخود ایک مثالی کردار بن جاتا ہے ایسے افراد جب معاشرے میں بڑھتے ہیں تو ایک صالح اور عادلانہ نظام وجود میں آتا ہے، جو امرِ خدا کے حقیقی نفاذ کا مظہر ہوتا ہے
یہی وہ راستہ ہے جو انبیاء اور ائمہ علیہم السلام نے اختیار کیا، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم بھی احیاء امر و نفاذ شریعت کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں
آخر میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ “احیاء امر” کوئی وقتی یا محدود عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ یہ ہر دور میں، ہر جگہ، اور ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ چاہے وہ ایک عالم ہو، ایک طالب علم ہو، یا ایک عام انسان ہر کوئی اپنے دائرہ کار میں اس ذمہ داری کو ادا کر سکتا ہے
اگر ہم اپنے کردار، اپنے اخلاق، اور اپنے عمل کو ان اصولوں کے مطابق ڈھال لیں، تو نہ صرف ہم خود راہِ حق پر قائم رہیں گے بلکہ دوسروں کے لیے بھی ہدایت کا ذریعہ بنیں گے۔ یہی وہ حقیقی احیاء ہے جس کی طرف امام رضا علیہ السلام نے دعوت دی، اور جس کے لیے امام حسین علیہ السلام نے اپنی جان قربان کی
پس ہمیں چاہیے کہ ہم ان اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، حق کے ساتھ کھڑے ہوں، باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کریں، اور دنیاوی لالچ سے اپنے دل کو پاک رکھیں تاکہ ہم بھی ان خوش نصیب بندوں میں شامل ہو سکیں جن کے لیے دعا کی گئی رحم اللہ عبدا احیا امرنا


