حرمِ امام حسینؑ کے شعبۂ صحت کی تاریخی پیش رفت، بوسٹن چلڈرنز ہسپتال کے تعاون سے حیاتیاتی، خلیاتی اور جینیاتی علاج کی ٹیکنالوجی عراق منتقل کرنے کے لیے سہ فریقی معاہدے پر دستخط ماہِ صفر المظفر: اہم تاریخی واقعات اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کی اہمیت پاکستان: سابق امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق صاحب کا امام حسین ثقافتی سنٹر کا دورہ نجف اشرف: حوزۂ علمیہ کے زیرِ اہتمام مواکبِ حسینی کا تیرہواں سالانہ اربعین کانفرنس، حرمِ امام علیؑ میں منعقد بصرہ سے المثنیٰ تک 838 حسینی مواکب زائرینِ اربعین کی خدمت کے لیے تیار مرکز امام حسینؑ استنبول کی اربعین حسینی کی کوریج کے حوالے سے ترک میڈیا نمائندگان کے ساتھ اہم ملاقات بصرہ: مجمع الثقلین میں مستحق اور یتیم خاندانوں کے لیے مزید 250 رہائشی مکانات کی تعمیر کا آغاز عراق اور ایران کے درمیان منذریہ بارڈر سے ہر گھنٹے 2 ہزار زائرین کی آمد پر اتفاق حرمِ امام حسینؑ نے الثقلین کینسر اسپتال بصرہ میں مریضوں کے مفت علاج پر اب تک 65 ارب عراقی دینار خرچ کیے اسلام آباد: او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین اختتام پذیر، پاکستان نے دو سالہ سربراہی سنبھال لی

کربلا، انسانیت کی تاریخ میں آزادی و حریت کا تابندہ سورج ہے

2026-04-28 13:16

شاید ہر شہر کی ایک تاریخی حیثیت ہوتی ہے؛ کوئی شہر صنعتی حیثیت رکھتا ہے، کوئی زرعی شناخت کا حامل ہوتا ہے، اور ان کے درمیان بعض شہر سیاحتی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن شہرِ کربلا وہ ہے جس نے تمام محاسن و فضائل کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ تاریخِ انسانیت میں سیدِ حریت، سید الشہداء کی شہادت کے باعث یہ ایک درخشاں نور، ایک لہراتی ہوئی روشنی اور ایسی شمع بن گیا ہے جو کبھی بجھنے والی نہیں

ڈاکٹر آیت اللہ محمد صادق کرباسی نے اپنی تاریخی کتاب أضواء على مدينة الحسين میں کربلا کی تصویر کچھ یوں پیش کی ہے کربلا ایک مظلوم اور ستم رسیدہ شہر ہے، جس پر دور و نزدیک، رعایا اور حکمران سب نے ظلم کیا، بلکہ بیگانوں سے پہلے خود اس کے اپنے لوگوں نے اس پر ستم ڈھائے۔ اسی لیے یہ شہر ہمدردی، شفقت، نگہداشت اور خصوصی توجہ کا مستحق ہے

کربلا ایک پُراسرار شہر ہے، جو ہر کسی کے لیے آسانی سے اپنے بازو نہیں کھولتا اور نہ ہی سادگی سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے۔ یہ شہر زمانۂ ماضی سے مسلسل جہاد اور مزاحمت کا استعارہ رہا ہے، اور ہمیشہ اسی طرح قائم و دائم رہے گا

کربلا ایک پیش رو اور رہنما شہر ہے، اُس وقت سے جب یہاں آزادگانِ عالم کے پیشوا، غیرت و حمیت کے سردار، نواسۂ رسولؐ اور اُن کے میوۂ دل نے قدم رکھا۔ اور یہ شہر ہمیشہ نمونۂ ہدایت بنا رہے گا، چاہے اس کی نشانیوں کو مٹانے اور اس کی تاریخ سے وابستہ حقائق کو دفنانے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کی جائے

کربلا ایک زندہ و بیدار شہر ہے، جو دن ہو یا رات، سورج کی گردش ہو یا چاند کی روشنی، ہر لمحہ اپنے دامنِ محبت کو پھیلائے آنے والوں کا وسعتِ قلبی سے استقبال کرتا ہے

اس شہرِ غیرت و حمیت اور بزرگی کی یہی واضح عظمت ہے جس نے سید الشہداء علیہ السلام کے فیض سے ہر اُس انسان کے لیے پناہ گاہ کا درجہ اختیار کر لیا ہے جو آزادی و حریت کا طلبگار ہو اور غلامی کی زنجیروں سے نجات کا خواہاں ہو

تاریخ اور علمی تصنیفات کا ایک طالبِ علم ہونے کی حیثیت سے، جو نہایت دقیق علمی اسلوب اور تحقیقی کاوش کے ساتھ شہر کے تمام ادوار کا احاطہ کرتی ہیں، میری نظر میں موسوعۃ حسینی ایک ایسی مستند تاریخی تحقیق ہے جس نے ان حقائق کو ثبت و محفوظ کیا ہے جنہیں اموی، عباسی، عثمانی اور بعثی ادوار میں مسخ کرنے کی کوشش کی گئی


اسی تناظر میں اس موسوعہ کی علمی قدر و قیمت نمایاں ہوتی ہے، اور اس کے مختلف اجزاء میں یہ حقیقت مزید واضح اور آشکار ہو کر سامنے آتی ہے۔ اس موسوعہ کے ایک باب میں نہایت عمدہ تنظیم، ابواب بندی اور معلومات کی موضوعی تقسیم و تفریع کو خاص طور پر پیش کیا گیا ہے، جس میں مؤلف نے ہر موضوع کو اس کے دائرۂ بحث کے مطابق علمی ترتیب کے ساتھ بیان کیا ہے

اس باب میں درج ذیل پہلو نمایاں طور پر شامل کیے گئے ہیں

1۔ ایک مقدمہ، جس میں اس شہر کو پہلے اپنے خطے، پھر وسیع تر علاقے یعنی اقالیم، اس کے بعد کرۂ ارض، پھر نظامِ شمسی، کہکشاں اور بالآخر کائنات کے مجموعی نظام سے مربوط کیا گیا ہے

2۔ کربلا کا جغرافیائی جائزہ، جس میں اس کے انتظامی اور شہری (عمرانی) پہلوؤں سے متعلق تفصیلی بحث شامل ہے

3۔ کربلا تاریخی اعتبار سے، جس میں کربلا کی لغوی و تاریخی توجیہ، نیز ان مختلف حکومتوں اور ادوار کا ذکر شامل ہے جن کے زیرِ اثر یہ شہر رہا

4۔ کربلا سیاحتی اعتبار سے، جس میں زیارت، سیاحت کے پہلوؤں اور آمد و رفت (ذرائعِ نقل و حمل) وغیرہ پر بحث کی گئی ہے

5۔ کربلا اقتصادی اعتبار سے، جس میں زراعت، آبپاشی، تجارت اور دیگر معاشی سرگرمیوں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے

6۔ کربلا سماجی اعتبار سے، جس میں عمومی سماجی مطالعہ اور تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کی نمایاں شخصیات کے حالات و تراجم شامل ہیں

7۔ کربلا فکری اعتبار سے، جس میں اس شہر میں ابھرنے والی فکری تحریکات اور ان کی نمایاں شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے

8۔ کربلا علمی اعتبار سے، جس میں اس شہر کی علمی ترقی اور اس کے علما و دانشوروں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے

9۔ کربلا ثقافتی اعتبار سے، جس میں کربلا کی ثقافتی سرگرمیوں اور اس میدان کی نمایاں شخصیات پر گفتگو کی گئی ہے

10۔ کربلا سیاسی اعتبار سے، جس میں خطے کی سیاست میں کربلا کے کردار اور اس سے وابستہ شخصیات کا تجزیہ شامل ہے

11۔ کربلا ادبی اعتبار سے، جس میں شعر و ادب، اس کے نمایاں ادباء و شعراء، اور اس سے متعلق مجلات، اخبارات اور طباعتی اداروں وغیرہ کا ذکر شامل ہے

12۔ کربلا مستقبل کے تناظر میں، جس میں شہر کے لیے ایک جامع منصوبہ اور دونوں مبارک حرموں کے لیے الگ منصوبہ پیش کیا گیا ہے، جو اس عظیم شہر کے حجم اور اس حقیقت کے مطابق ہے کہ اسے ہر سال عشراتِ ملین (کروڑوں) زائرین کی آمد و رفت ہوتی ہے اور کروڑوں دل اس کی طرف مائل رہتے ہیں

آخر میں ایک خاتمہ پیش کیا گیا ہے

اس موقع پر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہم نے روضتینِ مبارکین (دونوں مبارک حرموں) اور ان کی تعمیر و تاریخ پر تفصیلی گفتگو نہیں کی، کیونکہ اس کے لیے الگ باب تاریخُ المراقد مخصوص کیا گیا ہے، لہٰذا تکرار کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی گئی

اس علمی و موضوعی بیش قیمت موسوعۃ حسینی کے اس حصے میں مختلف زاویۂ نظر پوری وضاحت کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے، جو ان تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے جن کا تعلق کسی مقام و جگہ کے جغرافیائی محلِ وقوع اور اس کے اثرات سے ہوتا ہے، جیسا کہ علامہ کرباسیؒ نے بیان فرمایا ہے

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معلومات کو مرحلہ وار اور تدریجی انداز میں پیش کیا جائے تاکہ قاری کو موضوع تک پہنچنے میں آسانی ہو اور اس کے ذہن میں ایک درست اور منظم علمی پس منظر تشکیل پائے

اسی مقصد کے تحت ہم نے کائنات کی تخلیق، پھر نظامِ شمسی، اس کے بعد زمین اور اس کی انسانی سکونت کے قابل ہونے، پھر حضرت آدم علیہ السلام کے نزول اور شہروں کی آبادکاری، جن میں کربلا بھی شامل ہے، اور اس کے اسلامی دور اور اس کی جغرافیائی تعیین پر گفتگو کی

اس کے بعد ہم اس شہر کی تفصیلی بحث میں داخل ہوئے، خاص طور پر اس حقیقت کے بعد کہ امام حسین علیہ السلام کو 12 محرم 61 ہجری کو اسی سرزمین پر سپردِ خاک کیا گیا

یہ پورا حصہ دراصل اس مقدس شہر کے تعارف کے لیے ایک تمہیدی مرحلہ تھا، جس میں بیان ہونے والی معلومات براہِ راست کربلا سے متعلق نہ تھیں، مگر مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ ضرور تھیں۔

جیسے جیسے ہم اس حصے کے اختتام کے قریب پہنچتے ہیں، ہم کربلا کے براہِ راست موضوع سے مزید قریب تر ہوتے جاتے ہیں، اور جب ہم کربلا پر گفتگو کرتے ہیں تو درحقیقت اس کی جڑوں، اس کے تاریخی پس منظر، اس کے مختلف مراحلِ ارتقا اور اس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں، تاکہ یہ ابواب مل کر کربلا پر ایک مختصر مگر جامع موسوعہ کی صورت اختیار کر لیں

العودة إلى الأعلى