عراقی فضائی حدود کھولنے کے امکانات روشن
عراق کی وزارتِ نقل و حمل نے اعلان کیا ہے کہ حکومت بین الاقوامی حفاظتی معیارات کے مطابق عراقی فضائی حدود کو جزوی طور پر کھولنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے
وزارتِ نقل و حمل کے ڈائریکٹر اطلاعات، میثم الصافی کے مطابق حکومتی ہدایات کی روشنی میں ایک جامع پالیسی تیار کی جا رہی ہے، جو موجودہ حالات اور فنی تقاضوں کے مطابق ہوگی
اس پالیسی کا مقصد شہری ہوا بازی کے لیے اعلیٰ ترین حفاظتی معیارات کو یقینی بنانا ہے، تاکہ یہ فضائی سلامتی کے تقاضوں اور بین الاقوامی سول ایوی ایشن تنظیموں کی سفارشات سے ہم آہنگ ہو
انہوں نے مزید بتایا کہ عراقی فضائی حدود کو بند کرنے کا فیصلہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں عراق سمیت پورے خطے میں فضائی آمدورفت متاثر ہوئی۔ یہ احتیاطی اقدامات قومی فضائی حدود کے تحفظ اور مسافروں و ایئر لائنز کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے۔
میثم الصافی نے کہا کہ ماضی کے تجربات، خصوصاً گزشتہ سال کی فوجی کارروائیوں کے دوران، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خلیجی ممالک کے ذریعے محفوظ فضائی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے عراقی فضائی حدود کے بعض حصے کھولے جا سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ سہولت محدود ہو چکی ہے، کیونکہ کئی علاقائی ممالک کی فضائی حدود بند ہیں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے، جس سے فضائی ٹریفک کے انتظام میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں
انہوں نے واضح کیا کہ وزارتِ نقل و حمل متعلقہ قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر جدید اور محفوظ فضائی راستوں کی تیاری پر کام کر رہی ہے، تاکہ متبادل روٹس کے ذریعے فضائی آپریشن کو بحال کیا جا سکے۔ اس عمل کا مقصد حفاظتی تقاضوں اور فضائی سروس کے تسلسل کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب علاقائی کشیدگی کے طویل ہونے کے امکانات موجود ہیں۔
اس مقصد کے لیے لچکدار اور پائیدار حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہے، تاکہ عراقی فضائی نقل و حمل کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ عراقی فضائی حدود کی بندش کے باعث لاکھوں زائرین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے



